شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
سونے اور سو کر اٹھتے وقت کی دعا ئیں
حدیث نمبر: 255
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ: «اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا» ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانًا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ»
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو یوں دعا کرتے: «اللهم باسمك أموت وأحيا»، ”اے اللہ! میں تیرے نام سے سوتا ہوں اور تیرے نام سے ہی بیدار ہوں گا۔“ اور جب بیدار ہوتے تو یوں دعا کرتے: «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور»، ”تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں سونے کے بعد بیدار کیا اور مرنے کے بعد اس کی طرف ہی جانا ہے۔“ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى نوم رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 255]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«صحيح بخاري (6312)، سنن ترمذي (3417) من حديث عبدالملك بن عمير به وقال: ”حسن صحيح“»
«صحيح بخاري (6312)، سنن ترمذي (3417) من حديث عبدالملك بن عمير به وقال: ”حسن صحيح“»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Shamail al-Tirmidhi Hadith 255 in Urdu