شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
کیا میں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟
حدیث نمبر: 262
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّمْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ يُصَلِّي حَتَّى تَنْتَفِخَ قَدَمَاهُ فَيُقَالُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: «أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اتنا لمبا قیام کرتے کہ آپ کے دونوں قدم مبارک سوج جاتے تو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ (اتنی مشقت کے ساتھ) ایسا کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى عبادة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 262]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«سنن ابن ماجه (1420)»
اس سند میں اگرچہ سلمان بن مہران الاعمش ثقہ مدلس ہیں اور ابوصالح سے بھی ان کی معنعن روایت مشکوک ہوتی ہے، لیکن یہ حدیث اپنے شواہد کے ساتھ صحیح ہے۔ مثلاً دیکھئے حدیث سابق: 260
«سنن ابن ماجه (1420)»
اس سند میں اگرچہ سلمان بن مہران الاعمش ثقہ مدلس ہیں اور ابوصالح سے بھی ان کی معنعن روایت مشکوک ہوتی ہے، لیکن یہ حدیث اپنے شواہد کے ساتھ صحیح ہے۔ مثلاً دیکھئے حدیث سابق: 260
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Shamail al-Tirmidhi Hadith 262 in Urdu