شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے رکھنا؟
حدیث نمبر: 299
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ، وَمَا صَامَ شَهْرًا كَامِلَا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے، یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے سے کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور (بسا اوقات کئی کئی دن) آپ روزے نہ رکھتے، حتیٰ کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے سے اب کوئی روزہ نہیں رکھنا چاہتے۔ اور جب سے آپ (مدینہ منورہ) میں تشریف لائے، آپ نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی بھی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صوم رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 299]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«صحيح مسلم (1157) من حديث شعبه، صحيح بخاري (1971) من حديث ابي بشر به، مسند ابي داود الطيالسي (2626، نسخة محققة: 2748)»
«صحيح مسلم (1157) من حديث شعبه، صحيح بخاري (1971) من حديث ابي بشر به، مسند ابي داود الطيالسي (2626، نسخة محققة: 2748)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح
Shamail al-Tirmidhi Hadith 299 in Urdu