شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اثمد سرمہ کا استعمال لازم پکڑو
حدیث نمبر: 50
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اكْتَحِلُوا بِالْإِثْمِدِ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ» وَزَعَمَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ مِنْهَا كُلَّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَةً فِي هَذِهِ، وَثَلَاثَةً فِي هَذِهِ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: یقیناً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اثمد سرمہ لگایا کرو، وہ بینائی کو تیز کرتا ہے اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا خیال ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات تین سلائی ایک آنکھ مبارک میں اور تین سلائی دوسری آنکھ مبارک میں ڈالتے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء في كحل رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 50]
تخریج الحدیث: { «سندہ ضعیف» }:
«(سنن ترمذي: 1757)، (سنن ابن ماجه: 3499)»
اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ عباد بن منصور جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔
➋ عباد بن منصور مدلس تھا۔ دیکھئیے طبقات المدلسین (121/4 طبقہ رابعہ)
«(سنن ترمذي: 1757)، (سنن ابن ماجه: 3499)»
اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ عباد بن منصور جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔
➋ عباد بن منصور مدلس تھا۔ دیکھئیے طبقات المدلسین (121/4 طبقہ رابعہ)
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
Shamail al-Tirmidhi Hadith 50 in Urdu