شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نیا کپڑا پہننے کی دعا
حدیث نمبر: 61
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ عِمَامَةً أَوْ قَمِيصًا أَوْ رِدَاءً، ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ» .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا زیب تن فرماتے تو اس کو اس نام سے موسوم فرماتے، جیسے عمامہ، قمیص یا چادر، پھر (یہ دعا) پڑھتے: «اللهم لك الحمد كما كسوتنيه، اسألك خيره وخير ما صنع له، وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» ”اے اللہ! ہر قسم کی تعریف تیرے لیے ہے جس طرح تو نے مجھے یہ پہنایا ہے، میں تجھ سے اس کی خیر اور اس چیز کی خیر جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے مانگتا ہوں، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کے شر اور جس چیز کے لیے بنایا گیا اس کے شر سے۔“ [شمائل ترمذي/باب ما جاء في لباس رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 61]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«(سنن ترمذي:1767، وقال: حسن غريب صحيح)، (سنن ابي داود: 4020)»
«(سنن ترمذي:1767، وقال: حسن غريب صحيح)، (سنن ابي داود: 4020)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح
Shamail al-Tirmidhi Hadith 61 in Urdu