سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: طہارت کے مسائل
Purification (Kitab Al-Taharah)
4. باب كَرَاهِيَةِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ
4. باب: قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا مکروہ ہے۔
Chapter: It Is Dislikes To Face The Qiblah While Relieving Oneself.
حدیث نمبر: 10
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا عمرو بن يحيى، عن ابي زيد، عن معقل بن ابي معقل الاسدي، قال:" نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نستقبل القبلتين ببول او غائط"، قال ابو داود: وابو زيد هو مولى بني ثعلبة.
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِبَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَأَبُو زَيْدٍ هُوَ مَوْلَى بَنِي ثَعْلَبَةَ.
معقل بن ابی معقل اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب اور پاخانہ کے وقت دونوں قبلوں (بیت اللہ اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوزید بنی ثعلبہ کے غلام ہیں۔
16544 - D 10 - U 9

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الطھارة 17 (319)، (تحفة الأشراف: 11463)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/210) (منکر)» ‏‏‏‏ (سند میں واقع راوی ”ابوزید“ مجہول ہے، نیز اس نے ”قبلتین“ کہہ کر ثقات کی مخالفت کی ہے)

Narrated Maqil ibn Abu Maqil al-Asadi: The Messenger of Allah ﷺ has forbidden us to face the two qiblahs at the time of urination or excretion.
USC-MSA web (English) Reference: Book 1 , Number 10



قال الشيخ الألباني: منكر

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده ضعيف / جه 319
قال البوصيري في زوائد ابن ماجه: ”أبو زيد مجهول الحال فلحديث ضعيف به“ و ضعفه الحافظ في فتح الباري (246/1)

   سنن أبي داود10معقل بن الهيثمأن نستقبل القبلتين ببول أو غائط
   سنن ابن ماجه319معقل بن الهيثمنهى رسول الله أن نستقبل القبلتين بغائط أو ببول

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 10  
´قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا مکروہ ہے`
«. . . نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نستقبل القبلتين ببول او غائط . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب اور پاخانہ کے وقت دونوں قبلوں (بیت اللہ اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 10]
فوائد و مسائل
➊ یہ روایت ضعیف ہے، شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے منکر کہا ہے تاہم جن کے نزدیک صحیح ہے انہوں نے اس میں توجیہ کی ہے مثلاً علامہ خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حکم کی جو توجیہات ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ جو شخص مدینہ منورہ میں بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ کی طرف منہ کرے گا وہ لازماً بیت المقدس کی طرف پشت کرے گا۔ دوسری توجیہ یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ بیت المقدس بھی مسلمانوں کا قبلہ رہا ہے اس لیے اس کا احترام بھی ضروری ہے اور یہ نہی تنزیہی ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 10