الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
مسند اسحاق بن راهويه کل احادیث 981 :حدیث نمبر
مسند اسحاق بن راهويه
نماز کے احکام و مسائل
حدیث نمبر: 189
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
اخبرنا النضر بن شميل، عن هارون الاعور، عن إسماعيل بن مسلم، عن ابي إسحاق، عن ابن ام الحصين، عن امه، انها صلت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمعته وهو يقول: (((مالك يوم الدين))) فلما قرا" ﴿ولا الضالين﴾ [الفاتحة: 7]" قال: ((آمين)) حتى سمعته وهي في صف النساء.أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ هَارُونَ الْأَعْوَرِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أُمِّ الْحُصَيْنِ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا صَلَّتْ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقُولُ: (((مَالِكُ يَوْمِ الدِّينِ))) فَلَمَّا قَرَأَ" ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [الفاتحة: 7]" قَالَ: ((آمِينَ)) حَتَّى سَمِعَتْهُ وَهِيَ فِي صَفِّ النِّسَاءِ.
سیدہ ام الحصین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «‏‏‏‏مالك يوم الدين» پس جب آپ نے «ولا الضالين» پڑھا تو فرمایا: آمین حتیٰ کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی جبکہ وہ خواتین کی صف میں تھی۔

تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني: 158/25. اسناده ضعيف فيه اسماعيل بن مسلم المكي، ضعيف الحديث. التقريب: 484. و ابواسحاق مدلس.»


تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
   الشيخ حافظ عبدالشكور ترمذي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مسند اسحاق بن راهويه 189  
سیدہ ام الحصین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ﴿مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن﴾ پس جب آپ نے ﴿وَلَا الضَّالِّیْنَ﴾ پڑھا تو فرمایا: آمین حتیٰ کہ میں نے آپ کی آواز سنی جبکہ وہ خواتین کی صف میں تھی۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:189]
فوائد:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے تاہم صحیح احادیث سے آمین بالجہر کا ثبوت ملتا ہے، مقتدی کو امام کی آمین سن کر آمین کہنی چاہیے اگرچہ مقتدی کی قرآء ت آگے پیچھے ہی کیوں نہ ہو۔ سنن الکبریٰ بیہقی میں ہے: جناب عطاء بن ابی رباح تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اَدْرَکْتُ مِأَتَیْنِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صلی الله علیہ وسلم فِی هٰذَا الْمَسْجِدِ یَعْنِیْ مَسْجِدَ الْحَرَامِ اِذَا قَالَ الْاِمَامُ وَلَا الضَّآ لِّیْنَ رَفَعُوْا اَصْوَاتَھُمْ بِا آمِیْنَ۔ .... میں نے دو سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس مسجد حرام (بیت اللہ) میں پایا کہ جب امام وَلَا الضَّآ لِّیْنَ کہتا تو وہ باآواز بلند آمین کہتے۔ (السنن الکبریٰ للبیهقی، باب الجہر المأموم بالتأمین 2؍59)
   مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث\صفحہ نمبر: 189   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.