سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
Wages (Kitab Al-Ijarah)
25. باب فِي تَفْسِيرِ الْجَائِحَةِ
25. باب: «جائحہ» (آفت) کسے کہیں گے؟
Chapter: Regarding The Explanation Of Blight.
حدیث نمبر: 3471
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مقطوع) حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، اخبرني عثمان بن الحكم، عن ابن جريج، عن عطاء، قال:" الجوائح كل ظاهر مفسد من مطر، او برد، او جراد، او ريح، او حريق".
(مقطوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ:" الْجَوَائِحُ كُلُّ ظَاهِرٍ مُفْسِدٍ مِنْ مَطَرٍ، أَوْ بَرَدٍ، أَوْ جَرَادٍ، أَوْ رِيحٍ، أَوْ حَرِيقٍ".
عطاء کہتے ہیں «جائحہ» ہر وہ آفت و مصیبت ہے جو بالکل کھلی ہوئی اور واضح ہو جس کا کوئی انکار نہ کر سکے، جیسے بارش بہت زیادہ ہو گئی ہو، پالا پڑ گیا ہو، ٹڈیاں آ کر صاف کر گئی ہوں، آندھی آ گئی ہو، یا آگ لگ گئی ہو۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19064) (حسن)» ‏‏‏‏

Ata said: Blight means anything which obviously damages (the crop), by rain, hail, locust, blast of wind, or fire.
USC-MSA web (English) Reference: Book 23 , Number 3464


قال الشيخ الألباني: حسن مقطوع

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن


تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3471  
´ «جائحہ» (آفت) کسے کہیں گے؟`
عطاء کہتے ہیں «جائحہ» ہر وہ آفت و مصیبت ہے جو بالکل کھلی ہوئی اور واضح ہو جس کا کوئی انکار نہ کر سکے، جیسے بارش بہت زیادہ ہو گئی ہو، پالا پڑ گیا ہو، ٹڈیاں آ کر صاف کر گئی ہوں، آندھی آ گئی ہو، یا آگ لگ گئی ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3471]
فوائد ومسائل:
آفات تین طرح کی ہوسکتی ہیں۔


جو فصل یا پھل کو کسی نہ کسی طرح قابل استعمال ہونے کے مرحلے پرلگتی ہیں۔
یہ قدرتی بیماریاں ہیں۔
جب فصل یا پھل اس مرحلے میں ہو تو اسے بیچنا منع ہے۔


پھل پکنے کے قریب ہوتا ہے تو بعض پھلوں (مثلا کھجور) کا رنگ بدلنے لگتا ہے۔
اس مرحلے پر درختوں پر لگے ہوئے پھل بیچنا جائز ہے۔
اب ان کو یا تو بارش ژالہ باری آندھی وغیرہ سے نقصان ہوگا۔
اور اس صورت میں پھل کسی نہ کسی طرح قابل استعمال ہوچکا ہوگا۔
اور مکمل تباہی سے بچائو ہوسکے گا۔


یا تیسری صورت ٹڈی دل آگ وغیرہ کی آفات کی ہے۔
اس صورت میں مکمل تباہی ہوگی۔
ایسی تباہی کی صورت میں مالک کا بھی فرض ہے۔
کہ تلافی میں شریک ہو۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3471   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.