سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل
The Book of Manumission of Slaves (Kitab Al-Itaq)
2. باب فِي بَيْعِ الْمُكَاتَبِ إِذَا فُسِخَتِ الْكِتَابَةُ
2. باب: عقد کتابت فسخ ہو جانے پر مکاتب غلام کو بیچنے کا بیان۔
Chapter: Selling A Mukathib If His Contract Of Manumission Is Annulled.
حدیث نمبر: 3931
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا عبد العزيز بن يحيى ابو الاصبغ الحراني، حدثني محمد يعني ابن سلمة، عن ابن إسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزبير، عن عروة بن الزبير، عن عائشة رضي الله عنها، قالت:" وقعت جويرية بنت الحارث بن المصطلق في سهم ثابت بن قيس بن شماس او ابن عم له فكاتبت على نفسها وكانت امراة ملاحة تاخذها العين، قالت عائشة رضي الله عنها: فجاءت تسال رسول الله صلى الله عليه وسلم في كتابتها فلما قامت على الباب، فرايتها كرهت مكانها، وعرفت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيرى منها مثل الذي رايت، فقالت: يا رسول الله، انا جويرية بنت الحارث وإنما كان من امري ما لا يخفى عليك وإني وقعت في سهم ثابت بن قيس بن شماس وإني كاتبت على نفسي، فجئتك اسالك في كتابتي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فهل لك إلى ما هو خير منه؟، قالت: وما هو يا رسول الله؟، قال: اؤدي عنك كتابتك واتزوجك، قالت: قد فعلت، قالت: فتسامع تعني الناس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد تزوج جويرية، فارسلوا ما في ايديهم من السبي، فاعتقوهم وقالوا: اصهار رسول الله صلى الله عليه وسلم فما راينا امراة كانت اعظم بركة على قومها منها اعتق في سببها مائة اهل بيت من بني المصطلق"، قال ابو داود: هذا حجة في ان الولي هو يزوج نفسه.
(مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ أَوِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا وَكَانَتِ امْرَأَةً مَلَّاحَةً تَأْخُذُهَا الْعَيْنُ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَجَاءَتْ تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِتَابَتِهَا فَلَمَّا قَامَتْ عَلَى الْبَابِ، فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُ مَكَانَهَا، وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَرَى مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي رَأَيْتُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ وَإِنَّمَا كَانَ مِنْ أَمْرِي مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ وَإِنِّي وَقَعْتُ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَإِنِّي كَاتَبْتُ عَلَى نَفْسِي، فَجِئْتُكَ أَسْأَلُكَ فِي كِتَابَتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلْ لَكِ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ؟، قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: أُؤَدِّي عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ، قَالَتْ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَتْ: فَتَسَامَعَ تَعْنِي النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ، فَأَرْسَلُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنَ السَّبْيِ، فَأَعْتَقُوهُمْ وَقَالُوا: أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَا امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا أُعْتِقَ فِي سَبَبِهَا مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حُجَّةٌ فِي أَنَّ الْوَلِيَّ هُوَ يُزَوِّجُ نَفْسَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام المؤمنین جویریہ بنت حارث بن مصطلق رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئیں تو جویریہ نے ان سے مکاتبت کر لی، اور وہ ایک خوبصورت عورت تھیں جسے ہر شخص دیکھنے لگتا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے کے لیے آئیں، جب وہ دروازہ پر آ کر کھڑی ہوئیں تو میری نگاہ ان پر پڑی مجھے ان کا آنا اچھا نہ لگا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ عنقریب آپ بھی ان کی وہی ملاحت دیکھیں گے جو میں نے دیکھی ہے، اتنے میں وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں جویریہ بنت حارث ہوں، میرا جو حال تھا وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ۱؎ ثابت بن قیس کے حصہ میں گئی ہوں، میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے، اور آپ کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے آئی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس سے بہتر کی رغبت رکھتی ہو؟ وہ بولیں: وہ کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارا بدل کتابت ادا کر دیتا ہوں اور تم سے شادی کر لیتا ہوں وہ بولیں: میں کر چکی (یعنی مجھے یہ بخوشی منظور ہے)۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر جب لوگوں نے ایک دوسرے سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ سے شادی کر لی ہے تو بنی مصطلق کے جتنے قیدی ان کے ہاتھوں میں تھے سب کو چھوڑ دیا انہیں آزاد کر دیا، اور کہنے لگے کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال والے ہیں، ہم نے کوئی عورت اتنی برکت والی نہیں دیکھی جس کی وجہ سے اس کی قوم کو اتنا زبردست فائدہ ہوا ہو، ان کی وجہ سے بنی مصطلق کے سو قیدی آزاد ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے اس بات کی کہ ولی خود نکاح کر سکتا ہے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16386)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/277، 6/277) (حسن)» ‏‏‏‏

وضاحت:
وضاحت ۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہے کہ میں ایک رئیس کی صاحبزادی ہوں۔

Narrated Aishah, Ummul Muminin: Juwayriyyah, daughter of al-Harith ibn al-Mustaliq, fell to the lot of Thabit ibn Qays ibn Shammas, or to her cousin. She entered into an agreement to purchase her freedom. She was a very beautiful woman, most attractive to the eye. Aishah said: She then came to the Messenger of Allah ﷺ asking him for the purchase of her freedom. When she was standing at the door, I looked at her with disapproval. I realised that the Messenger of Allah ﷺ would look at her in the same way that I had looked. She said: Messenger of Allah, I am Juwayriyyah, daughter of al-Harith, and something has happened to me, which is not hidden from you. I have fallen to the lot of Thabit ibn Qays ibn Shammas, and I have entered into an agreement to purchase of my freedom. I have come to you to seek assistance for the purchase of my freedom. The Messenger of Allah ﷺ said: Are you inclined to that which is better? She asked: What is that, Messenger of Allah? He replied: I shall pay the price of your freedom on your behalf, and I shall marry you. She said: I shall do this. She (Aishah) said: The people then heard that the Messenger of Allah ﷺ had married Juwayriyyah. They released the captives in their possession and set them free, and said: They are the relatives of the Messenger of Allah ﷺ by marriage. We did not see any woman greater than Juwayriyyah who brought blessings to her people. One hundred families of Banu al-Mustaliq were set free on account of her. Abu dawud said: This evidence shows that a Muslim ruler may marry a slave woman himself.
USC-MSA web (English) Reference: Book 30 , Number 3920


قال الشيخ الألباني: حسن

قال الشيخ زبير على زئي: حسن
أخرجه أحمد (6/277) محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند ابن الجارود (705)

   سنن أبي داود3931عائشة بنت عبد اللههل لك إلى ما هو خير منه قالت وما هو يا رسول الله قال أؤدي عنك كتابتك وأتزوجك قالت قد فعلت قالت فتسامع تعني الناس أن رسول الله قد تزوج جويرية فأرسلوا ما في أيديهم من السبي فأعتقوهم وقالوا أصهار رسول الله فما

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3931  
´عقد کتابت فسخ ہو جانے پر مکاتب غلام کو بیچنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام المؤمنین جویریہ بنت حارث بن مصطلق رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئیں تو جویریہ نے ان سے مکاتبت کر لی، اور وہ ایک خوبصورت عورت تھیں جسے ہر شخص دیکھنے لگتا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے کے لیے آئیں، جب وہ دروازہ پر آ کر کھڑی ہوئیں تو میری نگاہ ان پر پڑی مجھے ان کا آنا اچھا نہ لگا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ عنقریب آپ بھی ان کی وہی ملاحت دیکھیں گے جو میں نے دیکھی ہے، اتنے میں وہ بولیں: اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3931]
فوائد ومسائل:
(1) غزہ بنی مطلق پانچ یا چھ ہجری میں ہوا تھا۔

(2) رسول اللہ کی شادیوں کی ایک حکمت یہ بھی رہی کہ اس طرح آپ ان قبائل کو اپنا حلیف اور قریبی بنا لیتے تھے اور پھر ان کی دشمنی الفت میں بدل جاتی تھی۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3931   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.