سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: سنتوں کا بیان
Model Behavior of the Prophet (Kitab Al-Sunnah)
23. باب فِي الشَّفَاعَةِ
23. باب: شفاعت کا بیان۔
Chapter: Intercession.
حدیث نمبر: 4740
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن الحسن بن ذكوان، قال: اخبرنا ابو رجاء، قال: حدثني عمران بن حصين، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" يخرج قوم من النار بشفاعة محمد، فيدخلون الجنة ويسمون الجهنميين".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، قَالَ: أخبرنا أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ جہنم سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سفارش پر نکالے جائیں گے، وہ جنت میں داخل ہوں گے، اور وہ «جهنميين» جہنمی کہہ کر پکارے جائیں گے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الرقاق 51 (6566)، سنن الترمذی/صفة جہنم 10 (2600)، سنن ابن ماجہ/الزھد 37 (4315)، (تحفة الأشراف: 10871)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/434) (صحیح)» ‏‏‏‏

Imran bin Husain reported the Prophet ﷺ as saying: People will come forth from Hell by Muhammad’s intercession, will enter paradise and be named Jahannamis.
USC-MSA web (English) Reference: Book 41 , Number 4722


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري (6566)

   صحيح البخاري6566عمران بن الحصينيخرج قوم من النار بشفاعة محمد فيدخلون الجنة يسمون الجهنميين
   جامع الترمذي2600عمران بن الحصينليخرجن قوم من أمتي من النار بشفاعتي يسمون الجهنميون
   سنن أبي داود4740عمران بن الحصينيخرج قوم من النار بشفاعة محمد فيدخلون الجنة ويسمون الجهنميين
   سنن ابن ماجه4315عمران بن الحصينليخرجن قوم من النار بشفاعتي يسمون الجهنميين

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4315  
´شفاعت کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں سے ایک گروہ میری شفاعت کی وجہ سے باہر آئے گا، ان کا نام جہنمی ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4315]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
 
(1)
انھیں جہنمی اس معنی میں کہا جائیگا۔
کہ وہ جہنم سے نکلے ہوئے ہیں جیسے اگر کوئی شخص ایک شہر چھوڑ کر دوسری شہر میں رہائش اختیار کرلے تو عموماً اسے پہلے شہر کی طرف یاد کرکے منسوب کیا جا تا ہے۔

(2)
یہ نام اس لیے ہے کہ انھیں اللہ کی نعمت یاد رہے۔
اور انھیں خوشی حاصل ہو اس سے مقصود انکی تحقیر نہیں ویسے بھی جنت میں کوئی غم فکر اور پریشانی کا وجود نہ ھوگا۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 4315   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4740  
´شفاعت کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ جہنم سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سفارش پر نکالے جائیں گے، وہ جنت میں داخل ہوں گے، اور وہ «جهنميين» جہنمی کہہ کر پکارے جائیں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4740]
فوائد ومسائل:
یہ لقب جنت میں ان کے لئے اذیت کا باعث نہیں ہو گا، اس سے نام محض یہ پتہ چلے گا کہ یہ لوگ جہنم سے آزادشدہ ہیں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 4740   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.