صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: دعاؤں کے بیان میں
The Book of Invocations
1. بَابُ وَلِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ:
1. باب: ہر نبی کی ایک دعا ضرور ہی قبول ہوتی ہے۔
(1) Chapter. For every Prophet there is one (special) invocation which is surely granted by Allah.
حدیث نمبر: 6305
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) وقال لي خليفة، قال معتمر، سمعت ابي، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" كل نبي سال سؤلا، او قال: لكل نبي دعوة قد دعا بها، فاستجيب فجعلت دعوتي شفاعة لامتي يوم القيامة".(مرفوع) وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ، قَالَ مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ نَبِيٍّ سَأَلَ سُؤْلًا، أَوْ قَالَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا، فَاسْتُجِيبَ فَجَعَلْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
اور معتمر نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی نے کچھ چیزیں مانگیں یا فرمایا کہ ہر نبی کو ایک دعا دی گئی جس چیز کی اس نے دعا مانگی پھر اسے قبول کیا گیا لیکن میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھی ہوئی ہے۔

Narrated Anas: that the Prophet said, "For every prophet there is an invocation that surely will be responded by Allah," (or said), "For every prophet there was an invocation with which he appealed to Allah, and his invocation was accepted (in his lifetime), but I kept my (this special) invocation to intercede for my followers on the Day of Resurrection."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 8, Book 75, Number 317


   صحيح البخاري6305أنس بن مالكجعلت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة
   صحيح مسلم494أنس بن مالكلكل نبي دعوة دعاها لأمته اختبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة
   جامع الترمذي2435أنس بن مالكشفاعتي لأهل الكبائر من أمتي
   سنن أبي داود4739أنس بن مالكشفاعتي لأهل الكبائر من أمتي
   المعجم الصغير للطبراني1097أنس بن مالكجعلت الشفاعة لأهل الكبائر من أمتي
   المعجم الصغير للطبراني1095أنس بن مالكشفاعتي لأهل الكبائر من أمتي يوم القيامة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2435  
´امت محمدیہ کے اہل کبائر کی شفاعت کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہو گی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2435]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی میری امت کے جو اہل کبائر ہوں گے اور جو اپنے گناہوں کی سزا جہنم میں بھگت رہے ہوں گے،
ایسے لوگوں کی بخشش کے لیے میری مخصوص شفاعت ہوگی،
باقی رفع درجات کے لیے انبیاء،
اولیاء،
اور دیگر متقی و پرہیز گار لوگوں کی شفاعت بھی ہوگی جو سنی جائے گی۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2435   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4739  
´شفاعت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری شفاعت ۱؎ میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ۲؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4739]
فوائد ومسائل:
1: گناہ گاروں کو امید رکھنی چاہیے کہ ان کی سفارش ہوگی اور انہیں معاف کردیا جائے گا، مگر ساتھ ہی شدید خوف بھی چاہیے، کیو نکہ یہ بھی معلوم نہیں کہ کس گناہ گارکی شفاعت ہو گی اور کون اس سے محروم رہے گا یا کس کے بارے میں شفاعت ہوگی؟ کیونکہ یہ معاملہ سارے کا سارا االلہ رب العالمین کی اپنی مشیت پر ہے۔
اگر مشیت ہوئی تو فبہا ورنہ شدیدعقاب ہو گا۔
اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: (إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ) (النساء٤٨) يقيناالله تعالی اپنے ساتھ شریک کیے جانےکو نہیں بخشا اوراس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے ارشاد ہے: (وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى) (النجم: ٢٦) اورآسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ نفع نہیں دے سکتی مگر بعداس کے کہ اللہ تعالی جس کے لئے چاہے اور پسند فرمائے تو اجازت دے دے اس دن سفارش کچھ کام نہیں آئے گی، مگر جسے رحمن اجازت دےاور اس کی بات کو پسند فرمائے اور یہ لوگ صرف اہل توحید ہوں گے جن کے حق میں اللہ تعالی سفارش کرنے کی اجازت دے گا۔

2: اس خوشخبری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان گناہوں کے ارتکاب میں جری ہو جائے بلکہ خوف کے پہلو کو غالب رکھنا چاہیے کیونکر میدان حشر کی تکلیف ناقابل برداشت ہو گی، جہنم تو اس سے بہت زیادہ سخت ہے۔
پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ شفاعت قبول ہوتے ہوتے کتنی مدت لگ جائے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 4739   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6305  
6305. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سےبیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ہر نبی نے اللہ تعالٰی سے سوال کیا۔ یا فرمایا: ہر نبی کے لیے ایک مخصوص دعا تھی جو انہوں نے مانگی تو قبول ہوئی لیکن میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ رکھی ہوئی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6305]
حدیث حاشیہ:
قال ابن بطال في ھذالحدیث بیان فضل نبینا صلی اللہ علیه وسلم۔
الخ یعنی اس حدیث میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان ہے جو آپ کو تمام رسولوں پر حاصل ہے کہ آپ نے اس مخصوص دعا کے لئے اپنے نفس پر ساری امت اوراپنے اہل بیت کے لئے ایثار فرمایا۔
نووی نے کہا کہ اس میں آ پ کی طرف سے امت پر کمال شفقت کا اظہار ہے اس میں ان پر بھی دلیل ہے کہ اہل سنت میں سے جو شخص توحید پر مرا وہ دوزخ میں ہمیشہ نہیں رہے گا اگر چہ وہ کبائر پراصرار کرتا ہوا مر جائے۔
(فتح الباري)
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 6305   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6305  
6305. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سےبیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ہر نبی نے اللہ تعالٰی سے سوال کیا۔ یا فرمایا: ہر نبی کے لیے ایک مخصوص دعا تھی جو انہوں نے مانگی تو قبول ہوئی لیکن میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ رکھی ہوئی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6305]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"قیامت کے دن میری سفارش ہر اس شخص کے لیے قبول ہو گی جو میری امت سے اس حالت میں فوت ہوا ہو کہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو۔
" (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 491 (199) (2)
اس حدیث میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برتری اور فضیلت کا بیان ہے جو انہیں تمام انبیاء علیہم السلام پر حاصل ہے کہ آپ نے اس مخصوص دعا کے لیے اپنی ذات پر تمام موحدین کو ترجیح دی۔
اس میں آپ کی طرف سے امت پر کمال شفقت کا بھی اظہار ہے۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل سنت میں سے جو شخص توحید پر فوت ہوا ہو وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں پر اصرار ہی کیوں نہ کرتا ہو۔
(فتح الباري: 117/11)
واللہ اعلم
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 6305   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.