صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
The Book of Sales (Bargains)
22. بَابُ مَا يَمْحَقُ الْكَذِبُ وَالْكِتْمَانُ فِي الْبَيْعِ:
22. باب: بیچنے میں جھوٹ بولنے اور عیب کو چھپانے سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔
(22) Chapter. What is said regarding the loss (of blessing) if one tells lies or hides the facts in a deal.
حدیث نمبر: 2082
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
حدثنا بدل بن المحبر، حدثنا شعبة، عن قتادة، قال: سمعت ابا الخليل يحدث، عن عبد الله بن الحارث، عن حكيم بن حزام رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، او قال: حتى يتفرقا، فإن صدقا وبينا، بورك لهما في بيعهما، وإن كتما وكذبا، محقت بركة بيعهما".حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْخَلِيلِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ قَالَ: حَتَّى يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا".
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے، کہا کہ میں نے ابوخلیل سے سنا، وہ عبداللہ بن حارث سے نقل کرتے تھے اور وہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خرید و فروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں (کہ بیع فسخ کر دیں یا رکھیں) یا آپ نے ( «ما لم يتفرقا» کے بجائے) «حتى يتفرقا» فرمایا۔ پس اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور ہر بات کھول کھول کر بیان کی تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو گی اور اگر انہوں نے کچھ چھپائے رکھا یا جھوٹ بولا تو ان کے خرید و فروخت کی برکت ختم کر دی جائے گی۔

Narrated Hakim bin Hizam: The Prophet aid, "The buyer and the seller have the option to cancel or to confirm the deal, as long as they have not parted or till they part, and if they spoke the truth and told each other the defects of the things, then blessings would be in their deal, and if they hid something and told lies, the blessing of the deal would be lost."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 34, Number 296


   صحيح البخاري2079حكيم بن حزامالبيعان بالخيار ما لم يتفرقا أو قال حتى يتفرقا إن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما إن كتما وكذبا محقت بركة بيعهما
   صحيح البخاري2114حكيم بن حزامالبيعان بالخيار ما لم يتفرقا
   صحيح البخاري2110حكيم بن حزامالبيعان بالخيار ما لم يتفرقا إن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما إن كذبا وكتما محقت بركة بيعهما
   صحيح البخاري2108حكيم بن حزامالبيعان بالخيار ما لم يفترقا
   صحيح البخاري2082حكيم بن حزامالبيعان بالخيار ما لم يتفرقا أو قال حتى يتفرقا إن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما إن كتما وكذبا محقت بركة بيعهما
   صحيح مسلم3858حكيم بن حزامالبيعان بالخيار ما لم يتفرقا إن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما إن كذبا وكتما محق بركة بيعهما
   جامع الترمذي1246حكيم بن حزامالبيعان بالخيار ما لم يتفرقا
   سنن أبي داود3459حكيم بن حزامالبيعان بالخيار ما لم يفترقا إن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما إن كتما وكذبا محقت البركة من بيعهما
   سنن النسائى الصغرى4469حكيم بن حزامالبيعان بالخيار ما لم يفترقا إن بينا وصدقا بورك لهما في بيعهما إن كذبا وكتما محق بركة بيعهما
   سنن النسائى الصغرى4462حكيم بن حزامالبيعان بالخيار ما لم يفترقا إن صدقا وبينا بورك في بيعهما إن كذبا وكتما محق بركة بيعهما

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1246  
´بیچنے والا اور خریدار دونوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں بیع کو باقی رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہے۔`
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع (بیچنے والا) اور مشتری (خریدار) جب تک جدا نہ ہوں ۱؎ دونوں کو بیع کے باقی رکھنے اور فسخ کر دینے کا اختیار ہے، اگر وہ دونوں سچ کہیں اور سامان خوبی اور خرابی واضح کر دیں تو ان کی بیع میں برکت دی جائے گی اور اگر ان دونوں نے عیب کو چھپایا اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان کی بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1246]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جدانہ ہوں سے مراد مجلس سے ادھراُدھرچلے جانا ہے،
خود راوی حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی تفسیرمروی ہے،
بعض نے بات چیت ختم کردینا مراد لیا ہے جوظاہرکے خلاف ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1246   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3459  
´بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان۔`
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں دونوں کو بیع کے باقی رکھنے اور فسخ کر دینے کا اختیار ہے، پھر اگر دونوں سچ کہیں اور خوبی و خرابی دونوں بیان کر دیں تو دونوں کے اس خرید و فروخت میں برکت ہو گی اور اگر ان دونوں نے عیوب کو چھپایا، اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان دونوں کی بیع سے برکت ختم کر دی جائے گی۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ اور حماد نے روایت کیا ہے، لیکن ہمام کی روایت میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع و مشتری کو اختیار ہے جب تک کہ دو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3459]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
خلاصہ ان روایات کا یہ ہے۔
کہ خریدار اور مالک ایک دوسرے سے جب تک جدا نہ ہوجایئں۔
مالک اور خریدار کو دونوں کو سودا فسخ کرنے کا اختیار رہتا ہے۔
جدائی سے مراد صرف گفتگو کا اختتام نہیں ہے۔
بلکہ جسمانی طور پر جدائی ہے۔
تاہم اختیار کی مہلت طے ہوجائے۔
تو اور بات ہے۔
پھر اس مہلت تک اختیار باقی رہتا ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3459