یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب قول الله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا الربا أضعافا مضاعفة واتقوا الله لعلكم تفلحون} :
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ ”اے ایمان والو! سود در سود مت کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاس کو“۔
حدیث نمبر: 2083
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ الْمَالَ، أَمِنْ حَلَالٍ أَمْ مِنْ حَرَامٍ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ مال اس نے کہاں سے لیا، حلال طریقہ سے یا حرام طریقہ سے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2083]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایسا وقت آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ اس نے مال کیسے حاصل کیا، حلال ذرائع سے یا حرام طریقوں سے کمایا۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2083]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2083
| ليأتين على الناس زمان لا يبالي المرء بما أخذ المال أمن حلال أم من حرام |
صحيح البخاري |
2059
| يأتي على الناس زمان لا يبالي المرء ما أخذ منه أمن الحلال أم من الحرام |
سنن النسائى الصغرى |
4459
| يأتي على الناس زمان ما يبالي الرجل من أين أصاب المال من حلال أو حرام |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2083 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2083
حدیث حاشیہ:
بلکہ ہر طرح سے پیسہ جوڑنے کی نیت ہوگی، کہیں سے بھی مل جائے اور کسی طرح سے خواہ شرعا وہ جائز ہو یا ناجائز۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جو سو دنہ کھائے گا اس پر بھی سود کا غبار پڑ جائے گا۔
یعنی وہ سودی معاملات میں وکیل یا حاکم یا گواہ کی حیثیت سے شریک ہو کر رہے گا۔
آج کے نظامہائے باطل کے نفاذ سے یہ بلائیں جس قدر عام ہو رہی ہیں مزید تفصیل کی محتاج نہیں ہیں۔
بلکہ ہر طرح سے پیسہ جوڑنے کی نیت ہوگی، کہیں سے بھی مل جائے اور کسی طرح سے خواہ شرعا وہ جائز ہو یا ناجائز۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جو سو دنہ کھائے گا اس پر بھی سود کا غبار پڑ جائے گا۔
یعنی وہ سودی معاملات میں وکیل یا حاکم یا گواہ کی حیثیت سے شریک ہو کر رہے گا۔
آج کے نظامہائے باطل کے نفاذ سے یہ بلائیں جس قدر عام ہو رہی ہیں مزید تفصیل کی محتاج نہیں ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2083]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2083
حدیث حاشیہ:
(1)
زمانۂ جاہلیت کا رواج تھا کہ جب قرض کی مدت ختم ہوجاتی تو اگر مقروض اپنا قرض ادا کردیتا تو بہتر بصورت دیگر مدت بڑھادی جاتی اور اس کا سود بھی بڑھا دیا جاتا۔
ہر سال اس طرح کرتے حتی کہ اصل زر سے سود کی رقم کئی گنا بڑھ جاتی۔
اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
سود در سود کی وضاحت سے اس کی قباحت اور شناعت کو بیان کرنا ہے جس کا وہ ارتکاب کرتے تھے کہ ایک درہم قرض دے کر وہ کئی درہم وصول کرتے تھے۔
(2)
حدیث کی عنوان سے اس طرح مناسبت ہے کہ سود خور کئی گنا سود کھا کر پروا نہیں کرتا کہ حلال کھا رہا ہے یا حرام سے پیٹ بھررہا ہے۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مقصد امت کو خبردار کرنا ہےکہ ایک وقت آنے والا ہے جب سود کی وبا عام ہوجائے گی اور اس سے محفوظ رہنا بہت ہی دشوار ہوگا۔
اللهم احفظنامنه.آمين.
(1)
زمانۂ جاہلیت کا رواج تھا کہ جب قرض کی مدت ختم ہوجاتی تو اگر مقروض اپنا قرض ادا کردیتا تو بہتر بصورت دیگر مدت بڑھادی جاتی اور اس کا سود بھی بڑھا دیا جاتا۔
ہر سال اس طرح کرتے حتی کہ اصل زر سے سود کی رقم کئی گنا بڑھ جاتی۔
اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
سود در سود کی وضاحت سے اس کی قباحت اور شناعت کو بیان کرنا ہے جس کا وہ ارتکاب کرتے تھے کہ ایک درہم قرض دے کر وہ کئی درہم وصول کرتے تھے۔
(2)
حدیث کی عنوان سے اس طرح مناسبت ہے کہ سود خور کئی گنا سود کھا کر پروا نہیں کرتا کہ حلال کھا رہا ہے یا حرام سے پیٹ بھررہا ہے۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مقصد امت کو خبردار کرنا ہےکہ ایک وقت آنے والا ہے جب سود کی وبا عام ہوجائے گی اور اس سے محفوظ رہنا بہت ہی دشوار ہوگا۔
اللهم احفظنامنه.آمين.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2083]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4459
کمائی میں شکوک و شبہات سے دور رہنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی کو اس بات کی فکر و پروا نہ ہو گی کہ اسے مال کہاں سے ملا، حلال طریقے سے یا حرام طریقے سے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4459]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی کو اس بات کی فکر و پروا نہ ہو گی کہ اسے مال کہاں سے ملا، حلال طریقے سے یا حرام طریقے سے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4459]
اردو حاشہ:
(1) اس باب کے قائم کرنے سے امام صاحب رحمہ اللہ کا مقصد، کمائی میں شبہات سے بچنے کا شوق دلانا ہے کیونکہ جب انسان شبہات سے نہیں بچتا بلکہ ان کا شکار ہو جاتا ہے تو پھر مشتبہ اشیاء میں پڑنا اسے محرمات (اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء) کی طرف گھسیٹ لے جاتا ہے۔
(2) یہ حدیث مبارکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا کھلا معجزہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بات کی پیشین گوئی اپنے عہد مبارک میں فرمائی تھی وہ آج من و عن پوری ہو رہی ہے۔
(3) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی زمانے میں حلال، ساری دنیا سے مکمل طور پر، ختم نہیں ہو گا بلکہ کسی نہ کسی جگہ یہ موجود رہے گا، لہٰذا ضروری ہے کہ ہر مسلمان شخص کسب حلال کی کوشش کرے۔ جب وہ طلب حلال میں مخلص ہو گا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد فرمائے گا۔
(4) ان تمام باتوں کا لب لباب یہ ہے کہ لوگوں کا مقصود صرف مال ہو گا۔ مال ملے جہاں سے بھی ملے۔ حلال و حرام کی تمیز نہیں رہے گی۔ آج ہمارے ملک میں عموماً یہی فضا ہے۔ ہر شخص، ہر ادارہ، ہر جماعت، ہر تنظیم حصول مال کو اولیں مقصد قرار دے رہے ہیں۔ حلال و حرام بعد کی بات ہے، حتی کہ مذہبی ادارے اور تنظیمیں بھی کوئی خاص احتیاط کا ثبوت نہیں دے رہے۔ الا ما شاء اللہ۔
(1) اس باب کے قائم کرنے سے امام صاحب رحمہ اللہ کا مقصد، کمائی میں شبہات سے بچنے کا شوق دلانا ہے کیونکہ جب انسان شبہات سے نہیں بچتا بلکہ ان کا شکار ہو جاتا ہے تو پھر مشتبہ اشیاء میں پڑنا اسے محرمات (اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء) کی طرف گھسیٹ لے جاتا ہے۔
(2) یہ حدیث مبارکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا کھلا معجزہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بات کی پیشین گوئی اپنے عہد مبارک میں فرمائی تھی وہ آج من و عن پوری ہو رہی ہے۔
(3) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی زمانے میں حلال، ساری دنیا سے مکمل طور پر، ختم نہیں ہو گا بلکہ کسی نہ کسی جگہ یہ موجود رہے گا، لہٰذا ضروری ہے کہ ہر مسلمان شخص کسب حلال کی کوشش کرے۔ جب وہ طلب حلال میں مخلص ہو گا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد فرمائے گا۔
(4) ان تمام باتوں کا لب لباب یہ ہے کہ لوگوں کا مقصود صرف مال ہو گا۔ مال ملے جہاں سے بھی ملے۔ حلال و حرام کی تمیز نہیں رہے گی۔ آج ہمارے ملک میں عموماً یہی فضا ہے۔ ہر شخص، ہر ادارہ، ہر جماعت، ہر تنظیم حصول مال کو اولیں مقصد قرار دے رہے ہیں۔ حلال و حرام بعد کی بات ہے، حتی کہ مذہبی ادارے اور تنظیمیں بھی کوئی خاص احتیاط کا ثبوت نہیں دے رہے۔ الا ما شاء اللہ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4459]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2059
2059. حضرت ابوہریرۃ ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا؛ ”لوگوں پر ایک وقت آئے گا جب آدمی کو اس کی کچھ پروا نہیں رہے گی کہ مال حلال طریقے سے حاصل کیا ہے یاحرام طریقے سے کمایا ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2059]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فتنۂ مال سے خبردار کیا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ اسباب معیشت کے متعلق خوب چھان بین کریں۔
کمانے کے لیے حلال ذرائع کا انتخاب کریں لیکن افسوس کہ اس وقت ہم ایسے حالات سے دوچار ہیں کہ حلال حرام کی تمیز اٹھ گئی ہے۔
صرف مال جمع کرنے کی دھن ہم پر سوار ہے جبکہ قرآن وحدیث میں رزق حلال کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے۔
ایک حدیث میں ہے:
”لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ تمام لوگ سود خوری میں مبتلا ہوں گے،اگر کوئی اس سے بچنے کی کوشش کرے گا تو بھی اس کی گرد وغبار ضرور اسے متاثر کرے گی۔
“ (المستدرك للحاکم: 11/2)
اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد امام حاکم ؒ فرماتے ہیں:
اگر حسن بصری کا سماع سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے ثابت ہوجائے تو یہ روایت صحیح ہے ورنہ منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف۔
علامہ البانی ؒ نے اسے ضعیف الجامع الصغیر میں ذکر کیا ہے۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فتنۂ مال سے خبردار کیا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ اسباب معیشت کے متعلق خوب چھان بین کریں۔
کمانے کے لیے حلال ذرائع کا انتخاب کریں لیکن افسوس کہ اس وقت ہم ایسے حالات سے دوچار ہیں کہ حلال حرام کی تمیز اٹھ گئی ہے۔
صرف مال جمع کرنے کی دھن ہم پر سوار ہے جبکہ قرآن وحدیث میں رزق حلال کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے۔
ایک حدیث میں ہے:
”لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ تمام لوگ سود خوری میں مبتلا ہوں گے،اگر کوئی اس سے بچنے کی کوشش کرے گا تو بھی اس کی گرد وغبار ضرور اسے متاثر کرے گی۔
“ (المستدرك للحاکم: 11/2)
اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد امام حاکم ؒ فرماتے ہیں:
اگر حسن بصری کا سماع سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے ثابت ہوجائے تو یہ روایت صحیح ہے ورنہ منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف۔
علامہ البانی ؒ نے اسے ضعیف الجامع الصغیر میں ذکر کیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2059]
Sahih Bukhari Hadith 2083 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي