الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل
Chapters on Medicine
35. بَابُ : رُقْيَةِ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ
35. باب: سانپ اور بچھو کے جھاڑ پھونک کا بیان۔
حدیث نمبر: 3518
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا إسماعيل بن بهرام , حدثنا عبيد الله الاشجعي , عن سفيان , عن سهيل بن ابي صالح , عن ابيه , عن ابي هريرة , قال: لدغت عقرب رجلا , فلم ينم ليلته , فقيل للنبي صلى الله عليه وسلم إن فلانا لدغته عقرب فلم ينم ليلته , فقال:" اما إنه لو قال حين امسى: اعوذ بكلمات الله التامات , من شر ما خلق , ما ضره لدغ عقرب حتى يصبح".
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ بَهْرَامَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: لَدَغَتْ عَقْرَبٌ رَجُلًا , فَلَمْ يَنَمْ لَيْلَتَهُ , فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فُلَانًا لَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ فَلَمْ يَنَمْ لَيْلَتَهُ , فَقَالَ:" أَمَا إِنَّهُ لَوْ قَالَ حِينَ أَمْسَى: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ , مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ , مَا ضَرَّهُ لَدْغُ عَقْرَبٍ حَتَّى يُصْبِحَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا تو وہ رات بھر نہیں سو سکا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ فلاں شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا ہے، اور وہ رات بھر نہیں سو سکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ شام کے وقت ہی یہ دعا پڑھ لیتا «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» یعنی میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا، تو بچھو کا اسے ڈنک مارنا صبح تک ضرر نہ پہنچاتا ۱؎۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12663، ومصباح الزجاجة: 1227)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 19 (3899)، مسند احمد (2/375) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: پھر صبح کو یہ کہہ لیتا تو شام تک کوئی کیڑا ضررنہ پہنچا سکتا سبحان اللہ کیا عمدہ موثر اور مختصر دعا ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
   صحيح مسلم6880عبد الرحمن بن صخرأعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم تضرك
   جامع الترمذي2922عبد الرحمن بن صخرمن قال حين يمسي ثلاث مرات أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم يضره حمة تلك الليلة
   سنن أبي داود3899عبد الرحمن بن صخرأعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق لم يلدغ أو لم يضره
   سنن ابن ماجه3518عبد الرحمن بن صخرلو قال حين أمسى أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق ما ضره لدغ عقرب حتى يصبح

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3518  
´سانپ اور بچھو کے جھاڑ پھونک کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا تو وہ رات بھر نہیں سو سکا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ فلاں شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا ہے، اور وہ رات بھر نہیں سو سکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ شام کے وقت ہی یہ دعا پڑھ لیتا «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» یعنی میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا، تو بچھو کا اسے ڈنک مارنا صبح تک ضرر نہ پہنچاتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3518]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
اللہ کے کلمات سے مراد اس کا کلام، اس کے فیصلے اور قدرت ہے۔

(2)
انسانوں، جنوں، حیوانوں اور حشرات کے شر سے محفوظ رہنے کےلئے یہ ایک بہترین دعا ہے۔

(3)
یہ دعا صبح وشام پڑھنی چاہیے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3518   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2922  
´باب:۔۔۔`
معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم» تین بار پڑھے، اور تین بار سورۃ الحشر کی آخری تین آیتیں پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے مغفرت مانگنے کے لیے ستر ہزار فرشتے لگا دیتا ہے جو شام تک یہی کام کرتے ہیں۔ اگر وہ ایسے دن میں مر جاتا ہے تو شہید ہو کر مرتا ہے، اور جو شخص ان کلمات کو شام کے وقت کہے گا وہ بھی اسی درجہ میں ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2922]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں موجود نافع بن ابی نافع دراصل نفیع ابوداؤد الاعمی ہے،
جو متروک ہے،
بلکہ ابن معین نے تکذیب کی ہے،
ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب)
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2922   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.