صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: نماز کے احکام و مسائل
The Book of As-Salat (The Prayer)
101. بَابُ إِثْمِ الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي:
101. باب: نمازی کے آگے سے گزرنے کا گناہ کتنا ہے؟
(101) Chapter. The sin of a person who passes in front of a person offering Salat (prayer).
حدیث نمبر: 510
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال: اخبرنا مالك، عن ابي النضر مولى عمر بن عبيد الله، عن بسر بن سعيد، ان زيد بن خالد ارسله إلى ابي جهيم يساله، ماذا سمع من رسول الله صلى الله عليه وسلم في المار بين يدي المصلي؟ فقال ابو جهيم: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه، لكان ان يقف اربعين خيرا له من ان يمر بين يديه"، قال ابو النضر: لا ادري، اقال اربعين يوما او شهرا او سنة.حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ، مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؟ فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ"، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: لَا أَدْرِي، أَقَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابونضر سالم بن ابی امیہ سے خبر دی۔ انہوں نے بسر بن سعید سے کہ زید بن خالد نے انہیں ابوجہیم عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان سے یہ بات پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنے والے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے۔ ابوجہیم نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے سامنے سے گزرنے پر چالیس تک وہیں کھڑے رہنے کو ترجیح دیتا۔ ابوالنضر نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ بسر بن سعید نے چالیس دن کہا یا مہینہ یا سال۔

Narrated Busr bin Sa`id: that Zaid bin Khalid sent him to Abi Juhaim to ask him what he had heard from Allah's Apostle about a person passing in front of another person who was praying. Abu Juhaim replied, "Allah's Apostle said, 'If the person who passes in front of another person in prayer knew the magnitude of his sin he would prefer to wait for 40 (days, months or years) rather than to pass in front of him." Abu An-Nadr said, "I do not remember exactly whether he said 40 days, months or years."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 1, Book 9, Number 489

   صحيح البخاري510حارث بن الصمةلو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه
   صحيح مسلم1132حارث بن الصمةلو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه
   جامع الترمذي336حارث بن الصمةلو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خير له من أن يمر بين يديه
   سنن أبي داود701حارث بن الصمةلو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خير له من أن يمر بين يديه
   سنن النسائى الصغرى757حارث بن الصمةلو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه
   سنن ابن ماجه945حارث بن الصمةلو يعلم أحدكم ما له أن يمر بين يدي أخيه وهو يصلي كان لأن يقف أربعين
   بلوغ المرام180حارث بن الصمة‏‏‏‏لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه من الإثم لكان ان يقف اربعين خيرا له من ان يمر بين يديه
   مسندالحميدي836حارث بن الصمةلأن يمكث أحدكم أربعين، خير له من أن يمر بين يدي المصلي

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 130  
´نمازی کے سامنے سے گزرنا سخت گناہ ہے`
«. . . 422- وعن أبى النضر عن بسر بن سعيد أن زيد بن خالد الجهني أرسله إلى أبى جهيم يسأله ماذا سمع من رسول الله صلى الله عليه وسلم فى المار بين يدي المصلي؟ فقال أبو جهيم: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه، لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه قال أبو النضر: لا أدري قال: أربعين يوما أم شهرا أم سنة. . . .»
. . . بسر بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ نے انہیں سیدنا ابوجہیم رضی اللہ عنہ کی طرف یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟ تو سیدنا ابوجہیم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر نمازی کے سامنے گزرنے والے کو یہ معلوم ہوتا کہ اس پر کیا (گناہ) ہے تو اس کے لئے چالیس (؟) کھڑے رہنا بہتر تھا، اس سے کہ وہ نمازی کے آگے سے گزرے۔ ابوالنضر (رحمہ اللہ، راوی) نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے چالیس دن فرمایا تھا یا چالیس مہینے یا چالیس سال؟۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 130]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 510، ومسلم 507، من حديث مالك به]

تفقه:
➊ نمازی کے آگے سے (بغیر سترے کے) گزرنا حرام ہے۔
➋ نافع سے روایت ہے کہ (سیدنا) عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) کسی (نمازی) کے سامنے سے کبھی نہیں گزرے تھے اور نہ اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے دیتے تھے۔ [الموطأ 1/155 ح365 وسنده صحيح]
➌ کعب الاحبار نے کہا: اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو معلوم ہوتا کہ اس پر کتنا گناہ ہے تو اس کے لئے زمین میں دھنس جانا نمازی کے سامنے گزرنے سے بہتر ہوتا۔ [الموطأ 1/155 ح363 وسنده صحيح]
➍ نیز دیکھئے الموطأ حدیث سابق: 175
➎ جن احادیث میں آیا ہے کہ نمازی کے سامنے سے اگر عورت یا گدھا وغیرہ گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے، یہ تمام احادیث اس حدیث کی رو سے منسوخ ہیں جس میں آیا ہے کہ «لا يقطع الصلاة شئ» نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی۔ [سنن الدارقطني 1/367 ح1365، وسنده حسن، السنن الكبريٰ للبيهقي 2/278 وحسنه الحافظ فى الدرايه ص178 ح221، وقال شيخنا الامام ابومحمد بديع الدين الراشدي السندهي: الظاهر أن حديث أنس حسن السمط الابريز حاشية مسند عمر بن عبدالعزيز ص16 ح7]
◄ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «كان يقال لا يقطع صلاة المسلم شئ» کہا جاتا تھا کہ مسلمان کی نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی۔ [سنن الدار قطني 368/1 ح 1369، و سنده صحيح]
◄ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی سوائے کالے کتے کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 1/280 ح2890 وسنده صحيح، الحكم بن عتيبه صرح بالسماع من خيثمة بن عبدالرحمٰن بن ابي سبرة والحمدلله]
◄ سالم بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمیں (سیدنا) ابن الزبیر (رضی اللہ عنہ) نے نماز پڑھائی، جب ہم نے ایک یا دو رکعتیں پڑھ لیں تو ہمارے سامنے سے ایک عورت گزر گئی، پس انہوں (ابن الزبیر رضی اللہ عنہ) نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه 524/2 ح 8757 و سنده صحيح]
◄ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی اور جتنی تیری طاقت ہو روک دے۔ [الاوسط لابن المنذر 5/103، 104 ت2473 وسنده صحيح، شرح معاني الآثار للطحاوي 1/463 وسنده صحيح]
◄ ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میرے سامنے سے ایک آدمی گزرا۔ میں نے اسے روکا پھر بھی وہ گزر گیا۔ پھر میں نے (سیدنا) عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: تو انہوں نے فرمایا: بھتیجے! اس کا تجھے کوئی تقصان نہیں ہے۔ [الاوسط لابن المنذر 5/104 ت2476 وسنده صحيح، شرح معاني الآثار 1/464، زوائد مسند أحمد 1/72 ح523] معلوم ہوا کہ سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹنے والی حدیث منسوخ ہے یا پھر اس سے مراد یہ ہے کہ نماز کے ثواب میں کمی آتی ہے۔ منسوخیت کے لئے دیکھئے [الاعتبار فى الناسخ والمنسوخ من الآثار للحازمي ص118]
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 422   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 180  
´نمازی کے سترے کا بیان`
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه من الإثم لكان ان يقف اربعين خيرا له من ان يمر بين يديه . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو یہ معلوم ہو جائے کہ ایسا کرنے کا کتنا گناہ ہے تو اس کو نمازی کے آگے سے گزرنے کے مقابلے میں چالیس (برس) تک وہاں کھڑا رہنا زیادہ پسند ہ . . . [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 180]

لغوی تشریح:
«بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي» سترہ کے سین پر ضمہ اور تا ساکن ہے۔ جسے نمازی اپنی سجدہ گاہ کے آگے نصب کر لے یا کھڑا کر لے یا رکاوٹ بنا لے، خواہ دیوار ہو، ستون ہو، نیزہ ہو یا لکڑی وغیرہ، تاکہ یہ سترہ گزرنے والے اور اس نمازی کے درمیان حائل رہے۔
«اَلْمَارُّ»، «مُرُور» سے اسم فاعل ہے۔ گزرنے والا۔
«خَرِيفًا» بمعنی سال۔ خریف، ربیع کے بالمقابل ایک فصل کا نام ہے اور یہ سال بھر میں ایک ہی مرتبہ وصول ہوتی ہے، اس لیے یہاں جز بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔ یہ مجاز مرسل ہے۔

راویٔ حدیث:
(سیدنا ابوجہیم بن حارث رضی اللہ عنہ) کہا گیا ہے کہ ان کا نام عبداللہ بن حارث بن صمّہ انصاری ہے۔ خزرج قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ مشہور صحابی ہیں۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت تک زندہ رہے۔ «جُهَيْم»، «جَهْم» کی تصغیر ہے اور «الصِمَّة» صاد کے نیچے کسرہ اور میم کی تشدید کے ساتھ ہے۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 180   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 701  
´نمازی کے سامنے سے گزرنا منع ہے۔`
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے انہیں ابوجہیم رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں کیا سنا ہے؟ تو ابوجہیم رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا یہ جان لے کہ اس پر کس قدر گناہ ہے، تو اس کو نمازی کے سامنے گزرنے سے چالیس (دن یا مہینے یا سال تک) وہیں کھڑا رہنا بہتر لگتا۔‏‏‏‏ ابونضر کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے چالیس دن کہا یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 701]
701۔ اردو حاشیہ:
➊ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جان بوجھ کر نمازی کے آگے سے گزرنا کتنا سخت گنا ہ ہے۔ نماز خواہ فرض ہو یا نفل۔
➋ چالیس کے عدد کے بعد دن، مہینے یا سال کا ذکر نہ ہونا اس سزا کی شدت کے لیے ہے۔ تاہم بعض ضعیف طرق میں «خريف» سال کا لفظ آیا ہے، اس سے گناہ کی شناعت و قباحت واضح ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 701   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 757  
´نمازی اور سترہ کے درمیان گزرنے کی شناعت کا بیان۔`
بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد نے انہیں ابوجہیم رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ انہوں نے نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کہتے سنا ہے؟ تو ابوجہیم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس پر کیا گناہ ہے تو وہ چالیس (دن، مہینہ یا سال) تک کھڑا رہنے کو بہتر اس بات سے جانتا کہ وہ اس کے سامنے سے گزرے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 757]
757 ۔ اردو حاشیہ:
➊ اس روایت میں چالیس کے بعد سال کا ذکر نہیں۔ مسند بزار میں خریف کا لفظ ہے، اس کے معنی سال کے ہیں لیکن یہ لفظ سنداً ضعیف اور ناقابل حجت ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [تمام المنة للألباني، ص: 302، و فتح الباري: 585/1، حدیث: 510]
ایک حدیث میں «مائة عام» سو سال کھڑے رہنے کا ذکر ہے، لیکن اس کی سند میں عبیداللہ بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن موہب ضعیف ہے اور اس کا چچا عبیداللہ بن عبداللہ بن موہب مجہول ہے۔ دیکھیے: [تھذیب الکمال: 80/19]
شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف ابن ماجہ میں ضعیف کہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ معدود کی صراحت درست نہیں ہے۔ معدود مبہم رکھا گیا ہے۔ عربی میں اس طریقے سے زجرو توبیخ اور معاملے کی سنگینی کا بیان مقصود ہوتا ہے بہرحال مقصود عدد نہیں کثرت اور مبالغہ ہے۔ واللہ أعلم۔
➋ چالیس یا سو سال تک رکے رہنے کی بات بھی یفرض محال ہے ورنہ اتنی دیر تک ایک انسان کا نماز پڑھنا ایک جگہ رکے رہنا قابل تصور نہیں۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 757   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:510  
510. حضرت بسر بن سعید بیان کرتے ہیں کہ حضرت زید بن خالد نے انہیں حضرت ابوجہیم ؓ کی طرف بھیجا کہ ان سے نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے متعلق پوچھیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی بابت کیا سنا ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا یہ جانتا کہ اس پر کس قدر گناہ ہے تو آگے سے گزرنے کے بجائے وہاں چالیس تک کھڑے رہنے کو پسند کرتا۔ (راوی حدیث) ابوالنضر نے کہا: مجھے یاد نہیں رہا کہ بسر بن سعید نے چالیس دن کہے یا مہینے یا سال۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:510]
حدیث حاشیہ:

اس سے پہلی حدیث میں نمازی کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ سترہ قائم کرنے کے بعد آگے سے گزرنے والے کو پہلے نرمی پھر سختی سے منع کرے۔
اب گزرنے والے کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اس عمل کا نتیجہ انتہائی خطرناک ہے۔
اس لیے اگر اسے روکا جائے تو اسے نماز کا مضمون ہونا چاہیے کہ اس نے مجھے گناہ اور عذاب آخرت سے بچا لیا ہے۔
واضح رہے کہ اصل روایت میں کوئی ابہام نہیں، بلکہ بسربن سعید نے تو دن مہینہ یا سال کی تعیین کی تھی، آگے راوی کو یا د نہیں رہا مطلب یہ ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنا سخت گناہ ہے۔
اگر اس کی سنگینی کا گزرنے والے کو ادراک ہو جائے تو وہ مدتوں کھڑا رہنے کو گزرنے سے بہترخیال کرے۔
(فتح الباري: 756/1)

صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں (مِنَ الإِثمِ)
کے الفاظ بھی ہیں، لیکن دیگر معتبر کتب حدیث کی جملہ روایات اس اضافے کے بغیر ہی مروی ہیں، صرف مصنف ابن ابی شیبہ میں (مِنَ الإِثمِ)
کے الفاظ ہیں۔
یہ بھی کسی راوی کی تفسیر ہے، حدیث کے الفاظ نہیں۔
ممکن ہے کہ بخاری ؒ کے حاشیے میں یہ الفاظ درج ہوں، پھر کسی نسخہ لکھنے والے نے انھیں متن کا حصہ بنا دیا ہو، نیز روایت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سنگین گناہ اس شخص کو ملے گا جسے اس کا علم ہو، پھر جان بوجھ کر اس کا مرتکب ہو اس کے علاوہ یہ وعید اس شخص کے حق میں ہے جو نمازی کے آگے سے گزرے۔
لیکن اگر کوئی نمازی کے اگے کھڑا ہو جائے یا بیٹھ جائے یا سو جائے تو ظاہر الفاظ کا تقاضا ہے کہ مذکورہ وعید ان حضرات کے لیے نہیں ہوگی، ہاں اگر ہم امتناعی کی علت نمازی کی تشویش و قراردیا جائے تو پھر تمام صورتیں گزرنے والے کے معنی ہوں گی۔
(فتح الباري: 757/1)

علامہ تقی الدین ابن دقیق العید ؒ نے گزرنےوالے اور نمازی کے حالات کے متعلق کچھ تفصیل بیان کی ہے جس کا خلاصہ ہدیہ قارئین ہے:
نمازی عام گزر گاہ سے ہٹ کر اپنے سامنے سترے کا اہتمام کر کے نماز پڑھتا ہے اور گزرنے والے کے لیے متبادل راستہ موجود ہے، لیکن وہ دانستہ طور پر نمازی کے آگے سے گزرتا ہے، اس صورت میں آگے سے گزرنے والا مجرم اور خطا کار ہے۔
نمازی عام گزر گاہ سترے کا اہتمام کے بغیر نماز شروع کردیتا ہے، گزرنے والے کے لیے کوئی متبادل راستہ بھی نہیں اور کسی وجہ سے گزرنابھی ضروری ہے، وہ انتظار نہیں کر سکتا تو اس صورت میں تمام تر ذمے داری نمازی پر عائد ہوتی ہے گزرنے والا مجبور ہے، اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔
عام گزرگاہ سترے کے بغیر نماز شروع کر دیتا ہے۔
متبادل راستہ بھی موجود ہے، لیکن گزرنے والا نمازی کے آگے سے گزرتا ہے تو جس طرح نمازی سترے کے بغیر نماز شروع کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہے، اسی طرح گزرنے والا بھی متبادل راستہ ہونے کے باوجود نمازی کے آگے سے گزرنے کی بنا پر مجرم ہے۔
نمازی نے عام راستے سے ہٹ کراور سترہ قائم کر کے نماز شروع کی، لیکن گزرنے والے کے لیے کوئی اور متبادل راستہ موجود نہیں، کیونکہ گزرگاہ پر بھی کوئی رکاوٹ کھڑی ہے تو ایسی صورت میں نہ نمازی گناہ گار ہے اور نہ گزرنے والا مجرم ہے، کیونکہ نمازی نے سترہ کر رکھا تھا اور گزرنے والے کے لیے کوئی اور راستہ نہیں تھا جس بنا پر وہ نمازی کے آگے سے گزرنے پر مجبور تھا۔
(فتح الباري: 757/1)
لیکن اس حدیث کے ظاہری مفہوم کا تقاضا ہے کہ مطلق طور پر نمازی کے آگے سے گزرنا منع ہے، خواہ گزرنے والے کوکوئی متبادل راستہ ملے یا نہ ملے۔
وہ انتظار کرے تاآنکہ نمازی اپنی نماز سے فارغ ہو جائے۔
حضرت ابو سعید خدری ؒ والے واقعے سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 758/1)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 510   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.