محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح البخاري کی حدیث نمبر 743 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
رواه البخاريّ في الأذان (٧٤٣) ، ومسلم في الصّلاة (٣٩٩) كلاهما من حديث شعبة قال: سمعتُ قتادة، يحدث عن أنس واللّفظ للبخاريّ،
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے کتاب الاذان 743 اور امام مسلم نے کتاب الصلوٰۃ 399 میں شعبہ بن الحجاج کی سند سے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے قتادہ بن دعامہ السدوسی کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، اور الفاظ امام بخاری کے ہیں۔
وفي رواية عند مسلم بزيادة عثمان قال: فلم أسمع أحدًا منهم يقرأ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} ، وفي رواية: فكانوا يستفتحون بـ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} ، لا يذكرون في أول قراءة، {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} ولا في آخرها.
📖 حوالہ / مصدر: امام مسلم کے ہاں ایک روایت میں عثمان (بن عفان رضی اللہ عنہ) کے ذکر کے اضافے کے ساتھ مروی ہے کہ: "میں نے ان میں سے کسی کو بھی (بلند آواز سے) 'بسم اللہ الرحمن الرحیم' پڑھتے نہیں سنا"۔ 🧾 تفصیلِ روایت: ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں: "وہ (نبی ﷺ اور خلفاء) اپنی قراءت کا آغاز 'الحمد لله رب العالمين' سے کرتے تھے، وہ قراءت کے نہ شروع میں 'بسم اللہ الرحمن الرحیم' کا تذکرہ کرتے (یعنی بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے) اور نہ ہی قراءت کے آخر میں"۔
ورواه مالك في الصّلاة (٣٠) عن حميد الطّويل، عن أنس أنه قال: قمتُ وراء أبي بكر وعمر وعثمان، فكلهم كان لا يقرأ "بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" إذا افتتح الصّلاة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مالک نے "موطا" کتاب الصلوٰۃ 30 میں حمید بن ابی حمید الطویل عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: "میں نے ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی، وہ سب جب نماز شروع کرتے تو (بلند آواز سے) 'بسم اللہ الرحمن الرحیم' نہیں پڑھتے تھے"۔