🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
سنن ابن ماجه کی حدیث نمبر 579 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ New
رواه أبو داود (٢٥٠) واللفظ له، والترمذي (١٠٧) والنسائي (٢٥٢) وابن ماجه (٥٧٩) كلهم من حديث أبي إسحاق، عن الأسود، عن عائشة، فذكرت الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد 250، ترمذی 107، نسائی 252 اور ابن ماجہ 579 سب نے ابو اسحاق سبیعی کے طریق سے، انھوں نے اسود بن یزید سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
وفي رواية:" كان رسول الله - ﷺ - لا يتوضأ بعد الغسل ". وفي رواية ابن ماجه:" بعد الغسل من الجنابة ". قال الترمذي:" حسن صحيح ". وصحّحه الحاكم (١/ ١٥٣) فقال:" صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه". وهو كما قال.
🧾 تفصیلِ روایت: ایک روایت میں الفاظ ہیں: "رسول اللہ ﷺ غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے"۔ ابن ماجہ 579 کی روایت میں ہے: "غسلِ جنابت کے بعد"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔ امام حاکم 1/153 نے اسے "بخاری و مسلم کی شرائط پر صحیح" قرار دیا ہے، اور حقیقت بھی یہی ہے۔
قال الترمذي: وهذا قول غير واحد من (أهل العلم) من أصحاب رسول الله - ﷺ - والتابعين؛ أن لا يتوضأ بعد الغُسل.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام اور تابعین میں سے متعدد اہل علم کا یہی قول ہے کہ غسل کے بعد (دوبارہ) وضو نہیں کیا جائے گا۔