محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
سنن نسائي کی حدیث نمبر 815 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
أخرجه أبو داود (667) ، والنسائي (٨١٥) كلاهما من طريق أبان، عن قتادة، عن أنس بن مالك فذكر مثله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد نے سنن 667 اور امام نسائی نے سنن 815 میں روایت کیا ہے، یہ دونوں روایات ابان بن یزید العطار کے طریق سے قتادہ بن دعامہ السدوسی کے واسطے سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔
وإسناده صحيح، وأبان هو: يزيد العطار البصري ثقة من رجال مسلم، وروى له البخاري تعليقًا.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی "ابان" سے مراد ابان بن یزید العطار البصری ہیں جو کہ ثقہ راوی اور امام مسلم کے مرکزی رجال میں سے ہیں، جبکہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ان سے بطور تعلیق روایت لی ہے۔
وصحّحه ابن خزيمة (١٥٤٥) ، وابن حبان (٢١٦٦) فروياه في صحيحيهما، والإمام أحمد (١٣٧٣٥) كلهم من طرق عن أبان به.
⚖️ درجۂ حدیث: اس روایت کو امام ابن خزیمہ 1545 اور امام ابن حبان 2166 نے اپنی اپنی "صحیح" میں روایت کر کے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے بھی اسے مسند 13735 میں ابان بن یزید العطار کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
والحَذَفُ: غنم سُود صِغار، واحدتُها: حَذْفَةٌ، وفي رواية: كأنها بنات حذفٍ.
📝 نوٹ / توضیح: لغت میں لفظ "الحَذَفُ" سے مراد چھوٹے قد کی کالی بھیڑیں ہیں، اس کا واحد "حذفہ" آتا ہے۔ ایک روایت میں "کانہا بنات حذف" (گویا کہ وہ کالی بھیڑ کے بچے ہوں) کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں جو صغرِ جثہ کی تشبیہ کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔