🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
سنن ترمذي کی حدیث نمبر 2645 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ New
رواه الترمذيّ (٢٦٤٥) عن علي بن حجر، حدّثنا إسماعيل بن جعفر، حدّثني عبد اللَّه ابن سعيد بن أبي هند، عن أبيه، عن ابن عباس، فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (2645) نے علی بن حجر کی سند سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں ہمیں اسماعیل بن جعفر (بن ابی کثیر) نے، ہمیں عبد اللہ بن سعید بن ابی ہند نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔
قال الترمذيّ: "هذا حديث حسن صحيح" .
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی فرماتے ہیں: "یہ حدیث حسن صحیح ہے"۔
وهو كما قال؛ فإنّ رواته كلّهم ثقات معروفون، وعبد اللَّه بن سعيد بن أبي هند، قال الإمام أحمد: "ثقة ثقة" . وفي رواية: "ثقة مأمون" . ووثقه أيضًا ابن معين، وابن المديني، ويعقوب الفسويّ وغيرهم.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت ویسی ہی ہے جیسے انہوں (امام ترمذی) نے کہی (یعنی حسن صحیح ہے)؛ کیونکہ اس کے تمام راوی ثقہ اور معروف ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی عبد اللہ بن سعید بن ابی ہند (بن المغیرہ المخزومی) کے بارے میں امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ وہ "ثقہ ثقہ" (انتہائی معتبر) ہیں، اور ایک روایت میں انہیں "ثقہ مامون" قرار دیا ہے۔ امام یحییٰ بن معین، علی بن المدینی اور یعقوب الفسوی وغیرہ نے بھی ان کی توثیق کی ہے۔
واحتجّ به الشّيخان وغيرهما من أصحاب الأصول الستة، فالصحيح أنه ثقة، وحديثه هذا قد أخرجه أيضًا الإمام أحمد في مسنده (٢٧٩٠) من هذا الوجه.
📌 اہم نکتہ: شیخین (بخاری و مسلم) اور دیگر اصحابِ اصولِ ستہ نے ان سے استدلال کیا ہے، لہٰذا صحیح بات یہی ہے کہ وہ ثقہ ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: ان کی اسی حدیث کو امام احمد نے بھی اپنی مسند (2790) میں اسی سند (وجہ) سے روایت کیا ہے۔