🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

12. باب من كره أن يكثر سواد الفتن والظلم:
باب: جس نے مفسدوں اور ظالموں کی جماعت کو بڑھانا ناپسند کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7085
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَغَيْرُهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، وَقَالَ اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، قَالَ:" قُطِعَ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ بَعْثٌ، فَاكْتُتِبْتُ فِيهِ، فَلَقِيتُ عِكْرِمة، فَأَخْبَرْتُهُ، فَنَهَانِي أَشَدَّ النَّهْيِ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَّ أُنَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا مَعَ الْمُشْرِكِينَ يُكَثِّرُونَ سَوَادَ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْتِي السَّهْمُ فَيُرْمَى، فَيُصِيبُ أَحَدَهُمْ فَيَقْتُلُهُ، أَوْ يَضْرِبُهُ فَيَقْتُلُهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ سورة النساء آية 97.
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے حیوہ بن شریح وغیرہ نے بیان کیا کہ ہم سے ابوالاسود نے بیان کیا، یا لیث نے ابوالاسود سے بیان کیا کہ اہل مدینہ کا ایک لشکر تیار کیا گیا (یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں شام والوں سے مقابلہ کرنے کے لیے) اور میرا نام اس میں لکھ دیا گیا۔ پھر میں عکرمہ سے ملا اور میں نے انہیں خبر دی تو انہوں نے مجھے شرکت سے سختی کے ساتھ منع کیا۔ پھر کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے خبر دی ہے کہ کچھ مسلمان جو مشرکین کے ساتھ رہتے تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف (غزوات) میں مشرکین کی جماعت کی زیادتی کا باعث بنتے۔ پھر کوئی تیر آتا اور ان میں سے کسی کو لگ جاتا اور قتل کر دیتا یا انہیں کوئی تلوار سے قتل کر دیتا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إن الذين توفاهم الملائكة ظالمي أنفسهم‏» بلا شک وہ لوگ جن کو فرشتے فوت کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7085]
حضرت ابوالاسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اہلِ مدینہ کا ایک لشکر تیار کیا گیا تو میرا بھی اس میں نام لکھا گیا۔ میں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے انہیں بتایا، انہوں نے بڑی سختی سے اس میں شرکت سے منع کیا۔ پھر انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا کہ کچھ مسلمان جو مشرکین کے ساتھ رہتے تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشرکین کی تعداد بڑھانے کا باعث بنتے، پھر کوئی تیر آتا تو تیر لگنے سے وہ قتل ہو جاتا یا انہیں کوئی تلوار سے مار دیتا تو ایسے حالات میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ﴾ [سورة النساء: 97] بے شک وہ لوگ جنہیں فرشتے اس حالت میں فوت کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7085]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4596
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَغَيْرُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو الْأَسْوَدِ، قَالَ: قُطِعَ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ بَعْثٌ، فَاكْتُتِبْتُ فِيهِ، فَلَقِيتُ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ، فَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ أَشَدَّ النَّهْيِ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا مَعَ الْمُشْرِكِينَ، يُكَثِّرُونَ سَوَادَ الْمُشْرِكِينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَأْتِي السَّهْمُ فَيُرْمَى بِهِ، فَيُصِيبُ أَحَدَهُمْ، فَيَقْتُلُهُ أَوْ يُضْرَبُ فَيُقْتَلُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ سورة النساء آية 97 الْآيَةَ. رَوَاهُ اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ.
ہم سے عبداللہ بن یزید المقری نے بیان کیا، کہا ہم سے حیوہ بن شریح وغیرہ (ابن لہیعہ) نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن ابوالاسود نے بیان کیا، کہا کہ اہل مدینہ کو (جب مکہ میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کا دور تھا) شام والوں کے خلاف ایک فوج نکالنے کا حکم دیا گیا۔ اس فوج میں میرا نام بھی لکھا گیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عکرمہ سے میں ملا اور انہیں اس صورت حال کی اطلاع کی۔ انہوں نے بڑی سختی کے ساتھ اس سے منع کیا اور فرمایا کہ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی تھی کہ کچھ مسلمان مشرکین کے ساتھ رہتے تھے اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ان کی زیادتی کا سبب بنتے، پھر تیر آتا اور وہ سامنے پڑ جاتے تو انہیں لگ جاتا اور اس طرح ان کی جان جاتی یا تلوار سے (غلطی میں) انہیں قتل کر دیا جاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين توفاهم الملائكة ظالمي أنفسهم‏» بیشک ان لوگوں کی جان جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کر رکھا ہے (جب) فرشتے قبض کرتے ہیں۔ آخر آیت تک۔ اس روایت کو لیث بن سعد نے بھی ابوالاسود سے نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 4596]
ابوالاسود محمد بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اہل مدینہ پر ایک لشکر کی تیاری ضروری قرار دی گئی تو اس میں میرا نام بھی لکھا گیا۔ اس دوران میں میری ملاقات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام عکرمہ رحمہ اللہ سے ہوئی تو میں نے انہیں اس امر سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بڑی سختی سے مجھے روک دیا اور فرمایا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا تھا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ مشرکین کے ساتھ رہتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشرکین کی جماعت میں اضافے کا سبب بنتے تھے۔ پھر جب کوئی تیر آتا اور ان میں سے کسی کو لگتا تو اسے قتل کر دیتا یا اسے تلوار ماری جاتی تو وہ قتل ہو جاتا۔ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿ «إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ» [سورة النساء: 97] بے شک وہ لوگ جن کی روح فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔۔ آخر آیت تک۔ اس روایت کو لیث بن سعد رحمہ اللہ نے بھی ابوالاسود رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 4596]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں