🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
77. باب هل يخرج الميت من القبر واللحد لعلة:
باب: باب کہ میت کو کسی خاص وجہ سے قبر یا لحد سے باہر نکالا جا سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1351
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: لَمَّا حَضَرَ أُحُدٌ دَعَانِي أَبِي مِنَ اللَّيْلِ , فَقَالَ:" مَا أُرَانِي إِلَّا مَقْتُولًا فِي أَوَّلِ مَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي لَا أَتْرُكُ بَعْدِي أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْكَ غَيْرَ نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ عَلَيَّ دَيْنًا فَاقْضِ , وَاسْتَوْصِ بِأَخَوَاتِكَ خَيْرًا , فَأَصْبَحْنَا فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ , وَدُفِنَ مَعَهُ آخَرُ فِي قَبْرٍ، ثُمَّ لَمْ تَطِبْ نَفْسِي أَنْ أَتْرُكَهُ مَعَ الْآخَرِ فَاسْتَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا هُوَ كَيَوْمِ وَضَعْتُهُ هُنَيَّةً غَيْرَ أُذُنِهِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو بشر بن مفضل نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے حسین معلم نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء بن ابی رباح نے ‘ ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب جنگ احد کا وقت قریب آ گیا تو مجھے میرے باپ عبداللہ نے رات کو بلا کر کہا کہ مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سب سے پہلا مقتول میں ہی ہوں گا اور دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا دوسرا کوئی مجھے (اپنے عزیزوں اور وارثوں میں) تم سے زیادہ عزیز نہیں ہے ‘ میں مقروض ہوں اس لیے تم میرا قرض ادا کر دینا اور اپنی (نو) بہنوں سے اچھا سلوک کرنا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو سب سے پہلے میرے والد ہی شہید ہوئے۔ قبر میں آپ کے ساتھ میں نے ایک دوسرے شخص کو بھی دفن کیا تھا۔ پر میرا دل نہیں مانا کہ انہیں دوسرے صاحب کے ساتھ یوں ہی قبر میں رہنے دوں۔ چنانچہ چھ مہینے کے بعد میں نے ان کی لاش کو قبر سے نکالا دیکھا تو صرف کان تھوڑا سا گلنے کے سوا باقی سارا جسم اسی طرح تھا جیسے دفن کیا گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1351]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب احد کا واقعہ پیش آیا تو میرے والد گرامی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے اس رات بلایا اور فرمایا کہ میرے گمان کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جو شہید ہوں گے، ان میں پہلا مقتول میں خود ہوں گا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ کریمہ کے سوا اپنے بعد کسی کو تجھ سے زیادہ عزیز نہیں چھوڑ رہا ہوں، مجھ پر قرض ہے، اسے ادا کر دینا اور اپنی بہنوں سے اچھا برتاؤ کرنا۔ صبح ہوئی تو سب سے پہلے شہید ہونے والے وہی تھے، چنانچہ ان کے ساتھ قبر میں ایک دوسرے شہید کو بھی دفن کر دیا گیا، لیکن میرے دل کو یہ بات اچھی نہ لگی کہ میں اپنے والد گرامی کو دوسرے شخص کے ساتھ چھوڑ دوں، اس لیے میں نے چھ ماہ بعد انہیں قبر سے نکال لیا، وہ اسی طرح تھے جس طرح میں نے انہیں دفن کیا تھا، صرف کان کا تھوڑا سا حصہ متاثر ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1351]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1352
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ، فَلَمْ تَطِبْ نَفْسِي حَتَّى أَخْرَجْتُهُ، فَجَعَلْتُهُ فِي قَبْرٍ عَلَى حِدَةٍ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن عامر نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے ابن ابی نجیح نے ‘ ان سے عطاء بن ابی رباح اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے باپ کے ساتھ ایک ہی قبر میں ایک اور صحابی (جابر رضی اللہ عنہ کے چچا) دفن تھے۔ لیکن میرا دل اس پر راضی نہیں ہو رہا تھا۔ اس لیے میں نے ان کی لاش نکال کر دوسری قبر میں دفن کر دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1352]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے والد گرامی کے ہمراہ ایک اور شہید بھی دفن کیا گیا تھا، لیکن میری طبیعت کو یہ پسند نہ آیا، اس لیے میں نے انہیں نکالا اور علیحدہ قبر میں دفن کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1352]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں