صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. باب إذا أسلم الصبي فمات هل يصلى عليه وهل يعرض على الصبي الإسلام:
باب: ایک بچہ اسلام لایا پھر اس کا انتقال ہو گیا، تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی؟ اور کیا بچے کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جا سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 1354
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ:" أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ الْحُلُمَ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ لِابْنِ صَيَّادٍ: تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ , فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ , فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَرَفَضَهُ , وَقَالَ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ، فَقَالَ لَهُ: مَاذَا تَرَى؟ , قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: يَأْتِينِي صَادِقٌ , وَكَاذِبٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: هُوَ الدُّخُّ، فَقَالَ: اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہیں یونس نے ‘ انہیں زہری نے ‘ کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ دوسرے اصحاب کی معیت میں ابن صیاد کے پاس گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بنو مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوا ملا۔ ان دنوں ابن صیاد جوانی کے قریب تھا۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی کوئی خبر ہی نہیں ہوئی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا تو اسے معلوم ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن صیاد! کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابن صیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر بولا ہاں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھوں کے رسول ہیں۔ پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ کیا آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ میں بھی اللہ کا رسول ہوں؟ یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا میں اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ ابن صیاد بولا کہ میرے پاس سچی اور جھوٹی دونوں خبریں آتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو تیرا سب کام گڈمڈ ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اچھا میں نے ایک بات دل میں رکھی ہے وہ بتلا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الدخان کی آیت کا تصور کیا «فارتقب يوم تاتی السماء بدخان مبين») ابن صیاد نے کہا وہ «دخ» ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چل دور ہو تو اپنی بساط سے آگے کبھی نہ بڑھ سکے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! مجھ کو چھوڑ دیجئیے میں اس کی گردن مار دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اگر یہ دجال ہے تو، تو اس پر غالب نہ ہو گا اور اگر دجال نہیں ہے تو اس کا مار ڈالنا تیرے لیے بہتر نہ ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1354]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیگر چند لوگوں کی معیت میں ابن صیاد کے پاس گئے، یہاں تک کہ انہوں نے اسے بنو مغالہ کی گڑھیوں کے قریب کچھ لڑکوں کے ساتھ کھیلتا ہوا پایا۔ ابن صیاد اس وقت قریب البلوغ تھا۔ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم نہ ہوا حتیٰ کہ آپ نے اپنے دست مبارک سے اسے مارا، پھر ابن صیاد سے فرمایا: ”کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے آپ کو دیکھا تو کہنے لگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھ لوگوں کے رسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں بھی اللہ کا فرستادہ ہوں؟ آپ یہ بات سن کر اس سے الگ ہو گئے اور فرمایا: ”میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تو کیا دیکھتا ہے؟“ ابن صیاد بولا: میرے پاس سچی اور جھوٹی دونوں خبریں آتی ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”میں نے تیرے لیے ایک بات اپنے دل میں سوچی ہے (بتا وہ کیا ہے؟)“ ابن صیاد بولا: وہ «الدُّخُّ» ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تو دفع ہو جا، اپنی بساط سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکے گا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ وہی (دجال) ہے تو تم اس پر قابو نہیں پا سکتے اور اگر وہ نہیں تو پھر اس کے قتل کرنے میں کوئی فائدہ نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1354]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3055
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ يَوْمَئِذٍ ابْنُ صَيَّادٍ يَحْتَلِمُ، فَلَمْ يَشْعُرْ بِشَيْءٍ حَتَّى ضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ، فَقَالَ: ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ لَهُ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاذَا تَرَى؟، قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُلِطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا، قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ، قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سالم بن عبداللہ نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت جن میں عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ‘ ابن صیاد (یہودی لڑکا) کے یہاں جا رہی تھی۔ آخر بنو مغالہ (ایک انصاری قبیلے) کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اسے ان لوگوں نے پا لیا ‘ ابن صیاد بالغ ہونے کے قریب تھا۔ اسے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا) پتہ نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے قریب پہنچ کر) اپنا ہاتھ اس کی پیٹھ پر مارا ‘ اور فرمایا کیا تو اس کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا ‘ پھر کہنے لگا۔ ہاں! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھوں کے نبی ہیں۔ اس کے بعد اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ نے اس کا جواب (صرف اتنا) دیا کہ میں اللہ اور اس کے (سچے) انبیاء پر ایمان لایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ‘ تو کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس ایک خبر سچی آتی ہے تو دوسری جھوٹی بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ حقیقت حال تجھ پر مشتبہ ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ”اچھا میں نے تیرے لیے اپنے دل میں ایک بات سوچی ہے (بتا وہ کیا ہے؟)“ ابن صیاد بولا کہ دھواں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ذلیل ہو ‘ کمبخت! تو اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ سکے گا۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! مجھے اجازت ہو تو میں اس کی گردن مار دوں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر یہ وہی (دجال) ہے تو تم اس پر قادر نہیں ہو سکتے اور اگر دجال نہیں ہے تو اس کی جان لینے میں کوئی خیر نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 3055]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت، جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، ابن صیاد کی طرف گئی۔ انہوں نے آ کر بنو مغالہ کے ٹیلوں کے پاس اسے بچوں کے ہمراہ کھیلتے ہوئے پایا۔ اس وقت وہ قریب البلوغ تھا۔ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا کچھ علم نہ ہوا حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کی پشت پر مارا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟“ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا: ہاں، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھ لوگوں کے رسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں بھی اللہ کا رسول ہوں؟ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو اللہ اور اس کے سچے رسولوں پر ایمان لایا ہوں۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کیا نظر آتا ہے؟“ ابن صیاد نے کہا: میرے پاس سچا اور جھوٹا دونوں آتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر حقیقتِ حال مشتبہ ہو گئی ہے۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”میں نے تیرے لیے اپنے دل میں ایک بات سوچی ہے (بتا وہ کیا ہے؟)“ ابن صیاد نے کہا: وہ «الدُّخُّ» ”دخ“ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذلیل اور کم بخت! تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن مار دوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ وہی (دجال) ہے تو تم اس پر ہرگز مسلط نہیں ہو سکتے اور اگر یہ وہ نہیں تو اس کے قتل کرنے میں کوئی فائدہ نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 3055]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6173
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فِي أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَرَضَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ثُمَّ قَالَ لِابْنِ صَيَّادٍ: مَاذَا تَرَى؟ قَالَ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا قَالَ: هُوَ الدُّخُّ، قَالَ:" اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ" قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ يَكُنْ هُوَ لَا تُسَلَّطُ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی، کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے۔ بہت سے دوسرے صحابہ بھی ساتھ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ چند بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے قلعہ کے پاس کھیل رہا ہے۔ ان دنوں ابن صیاد بلوغ کے قریب تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا اسے احساس نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ آپ نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا۔ پھر فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے یعنی (عربوں کے) رسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اسے دفع کر دیا اور فرمایا، میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔ پھر ابن صیاد سے آپ نے پوچھا، تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے کہا کہ میرے پاس سچا اور جھوٹا دونوں آتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے معاملہ کو مشتبہ کر دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے ایک بات اپنے دل میں چھپا رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ وہ «الدخ.» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دور ہو، اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ اسے قتل کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر یہ وہی (دجال) ہے تو اس پر غالب نہیں ہوا جا سکتا اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی خیر نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 6173]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ابن صیاد کی طرف گئے اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک گروہ بھی ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ بنو مغالہ کے محلہ میں چند بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہے، ان دنوں ابن صیاد بلوغ کے قریب تھا۔ اسے (آپ کی آمد کا) احساس نہ ہوا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کی پشت پر مار کر فرمایا: ”تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے آپ کی طرف دیکھ کر کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں، یعنی عربوں کے رسول ہیں۔“ پھر ابن صیاد نے کہا: ”کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دھکا دے کر فرمایا: «آمَنْتُ بِاللّٰهِ وَبِرُسُلِهِ» ”میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا: ”تو کیا دیکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”میرے پاس سچا اور جھوٹا دونوں آتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے معاملہ مشتبہ کر دیا گیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرے لیے ایک بات اپنے دل میں چھپا رکھی ہے (وہ کیا ہے؟)“ اس نے کہا: ”وہ «الدُّخُّ» ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چل دفع ہو جا، تو اپنی حیثیت سے آگے ہرگز نہیں بڑھ سکے گا۔“ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے اس کے قتل کی اجازت دیتے ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ وہی (دجال) ہے تو تم اس پر غالب نہیں آ سکتے اور اگر یہ (دجال) نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی فائدہ نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 6173]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6618
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، وَبِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَيَّادٍ:" خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئَا"، قَالَ: الدُّخُّ؟ قَالَ:" اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ"، قَالَ عُمَرُ: ائْذَنْ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، قَالَ:" دَعْهُ إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَا تُطِيقُهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ".
ہم سے علی بن حفص اور بشر بن محمد نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ عبداللہ نے ہمیں خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا کہ میں نے تیرے لیے ایک بات دل میں چھپا رکھی ہے (بتا وہ کیا ہے؟) اس نے کہا کہ ”دھواں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدبخت! اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، اگر یہ وہی (دجال) ہوا تو تم اس پر قابو نہیں پا سکتے اور اگر یہ وہ نہ ہوا تو اسے قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 6618]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا: ”میں نے تیرے لیے ایک بات اپنے دل میں چھپا رکھی ہے (بتا وہ کیا ہے؟)“ اس نے کہا: وہ «الدُّخُّ» ”دخ“ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بد بخت، دور ہو جا! تو اپنی حیثیت سے ہرگز آگے نہیں بڑھ سکے گا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن اڑاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، اگر یہ وہی ہے تو تم اسے قتل نہیں کر سکتے اور اگر یہ وہ نہیں تو اس کے قتل کرنے میں تمہیں کوئی فائدہ نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 6618]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة