صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. بَابُ مَا جَاءَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1392
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ , قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ اذْهَبْ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , فَقُلْ: يَقْرَأُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَيْكِ السَّلَامَ، ثُمَّ سَلْهَا أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيَّ، قَالَتْ: كُنْتُ أُرِيدُهُ لِنَفْسِي فَلَأُوثِرَنَّهُ الْيَوْمَ عَلَى نَفْسِي، فَلَمَّا أَقْبَلَ , قَالَ لَهُ: مَا لَدَيْكَ؟ , قَالَ: أَذِنَتْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: مَا كَانَ شَيْءٌ أَهَمَّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ الْمَضْجَعِ، فَإِذَا قُبِضْتُ فَاحْمِلُونِي، ثُمَّ سَلِّمُوا، ثُمَّ قُلْ: يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَإِنْ أَذِنَتْ لِي فَادْفِنُونِي، وَإِلَّا فَرُدُّونِي إِلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ، إِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، فَمَنِ اسْتَخْلَفُوا بَعْدِي فَهُوَ الْخَلِيفَةُ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا، فَسَمَّى عُثْمَانَ، وَعَلِيًّا، وَطَلْحَةَ , وَالزُّبَيْرَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَوَلَجَ عَلَيْهِ شَابٌّ مِنْ الْأَنْصَارِ , فَقَالَ: أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِبُشْرَى اللَّهِ كَانَ لَكَ مِنَ الْقَدَمِ فِي الْإِسْلَامِ مَا قَدْ عَلِمْتَ، ثُمَّ اسْتُخْلِفْتَ فَعَدَلْتَ، ثُمَّ الشَّهَادَةُ بَعْدَ هَذَا كُلِّهِ، فَقَالَ: لَيْتَنِي يَا ابْنَ أَخِي، وَذَلِكَ كَفَافًا لَا عَلَيَّ وَلَا لِي أُوصِي الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ خَيْرًا أَنْ يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهُمْ وَأَنْ يَحْفَظَ لَهُمْ حُرْمَتَهُمْ، وَأُوصِيهِ بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا الَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ أَنْ يُقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوفَى لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَأَنْ يُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِمْ وَأَنْ لَا يُكَلَّفُوا فَوْقَ طَاقَتِهِمْ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن میمون اودی نے بیان کیا کہ میری موجودگی میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ اے عبداللہ! ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جا اور کہہ کہ عمر بن خطاب نے آپ کو سلام کہا ہے اور پھر ان سے معلوم کرنا کہ کیا مجھے میرے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی آپ کی طرف سے اجازت مل سکتی ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے اس جگہ کو اپنے لیے پسند کر رکھا تھا لیکن آج میں اپنے پر عمر رضی اللہ عنہ کو ترجیح دیتی ہوں۔ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ کیا پیغام لائے ہو؟ کہا کہ امیرالمؤمنین انہوں نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر بولے کہ اس جگہ دفن ہونے سے زیادہ مجھے اور کوئی چیز عزیز نہیں تھی۔ لیکن جب میری روح قبض ہو جائے تو مجھے اٹھا کر لے جانا اور پھر دوبارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو میرا سلام پہنچا کر ان سے کہنا کہ عمر نے آپ سے اجازت چاہی ہے۔ اگر اس وقت بھی وہ اجازت دے دیں تو مجھے وہیں دفن کر دینا ‘ ورنہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔ میں اس امر خلافت کا ان چند صحابہ سے زیادہ اور کسی کو مستحق نہیں سمجھتا جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت تک خوش اور راضی رہے۔ وہ حضرات میرے بعد جسے بھی خلیفہ بنائیں ‘ خلیفہ وہی ہو گا اور تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اپنے خلیفہ کی باتیں توجہ سے سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ آپ نے اس موقع پر عثمان ‘ علی ‘ طلحہ ‘ زبیر ‘ عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کے نام لیے۔ اتنے میں ایک انصاری نوجوان داخل ہوا اور کہا کہ اے امیرالمؤمنین آپ کو بشارت ہو ‘ اللہ عزوجل کی طرف سے ‘ آپ کا اسلام میں پہلے داخل ہونے کی وجہ سے جو مرتبہ تھا وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے انصاف کیا۔ پھر آپ نے شہادت پائی۔ عمر رضی اللہ عنہ بولے میرے بھائی کے بیٹے! کاش ان کی وجہ سے میں برابر چھوٹ جاؤں۔ نہ مجھے کوئی عذاب ہو اور نہ کوئی ثواب۔ ہاں میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ مہاجرین اولین کے ساتھ اچھا برتاو رکھے ‘ ان کے حقوق پہچانے اور ان کی عزت کی حفاظت کرے اور میں اسے انصار کے بارے میں بھی اچھا برتاو رکھنے کی وصیت کرتا ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان والوں کو اپنے گھروں میں جگہ دی۔ (میری وصیت ہے کہ) ان کے اچھے لوگوں کے ساتھ بھلائی کی جائے اور ان میں جو برے ہوں ان سے درگذر کیا جائے اور میں ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی جو اللہ اور رسول کی ذمہ داری ہے (یعنی غیر مسلموں کی جو اسلامی حکومت کے تحت زندگی گذارتے ہیں) کہ ان سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے۔ انہیں بچا کر لڑا جائے اور طاقت سے زیادہ ان پر کوئی بار نہ ڈالا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1392]
حضرت عمرو بن میمون اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: اے عبداللہ! تم ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ، ان سے کہو کہ عمر بن خطاب آپ کو سلام کہتے ہیں اور ان سے دریافت کرو کہ میں اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونا چاہتا ہوں۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: میں اپنی ذات کے لیے اس جگہ کا ارادہ رکھتی تھی، لیکن آج میں ان کو اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہوں۔ جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو انہوں نے پوچھا: کیا جواب لائے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: امیر المؤمنین! ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے آپ کو اجازت دے دی ہے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے سب سے زیادہ فکر اسی خواب گاہ کی تھی۔ جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے اٹھا کر وہاں لے جانا، سلام کرنا پھر کہنا کہ عمر بن خطاب اجازت مانگتے ہیں۔ اگر وہ اجازت دے دیں تو مجھے وہاں دفن کر دینا، بصورتِ دیگر مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں واپس لے جانا۔ میں خلافت کا مستحق ان لوگوں سے زیادہ کسی کو خیال نہیں کرتا جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو کر فوت ہوئے ہیں۔ یہ لوگ میرے بعد جسے بھی خلیفہ بنا لیں وہی خلیفہ ہیں۔ اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا، پھر آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ، اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے نام ذکر کیے۔ دریں اثنا انصار کا ایک نوجوان آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: امیر المؤمنین! آپ کو اللہ تعالیٰ کی بشارت سے خوش ہونا چاہیے، کیونکہ آپ کو اسلام میں قدامت کا شرف حاصل ہے جو آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں، علاوہ ازیں آپ خلیفہ منتخب ہوئے اور عدل و انصاف سے کام لیا، پھر ان سب کے بعد آپ نے شہادت پائی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! کاش کہ میں ان کی وجہ سے برابر برابر چھوٹ جاؤں، نہ مجھے کوئی عذاب ہو اور نہ کوئی ثواب ملے۔ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو مہاجرینِ اولین سے اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں، وہ ان کے حقوق کو پہچانے اور ان کی عزت و حرمت کی نگہداشت کرے، اور انصار کے متعلق بھی خیر خواہی کی وصیت کرتا ہوں جنہوں نے مدینہ کو اپنا گھر بنایا اور (مہاجرین کے مدینہ آنے سے پہلے) ایمان لے آئے کہ ان میں سے محسن کا احسان قبول کیا جائے اور ان میں سے جو بُرا کام کرنے والے ہوں ان سے درگزر کیا جائے۔ میں ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ اس ذمہ داری کو پورا کرے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری ہے، یعنی ان کے عہد و پیمان کو پورا کیا جائے اور ان کے آگے دشمن سے لڑا جائے اور طاقت سے زیادہ ان پر کوئی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1392]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3052
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوفَى لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَأَنْ يُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِمْ وَلَا يُكَلَّفُوا إِلَّا طَاقَتَهُمْ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ انہیں حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے عمرو بن میمون نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے (وفات سے تھوڑی دیر پہلے) فرمایا کہ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو اس کی وصیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا (ذمیوں سے) جو عہد ہے اس کو وہ پورا کرے اور یہ کہ ان کی حمایت میں ان کے دشمنوں سے جنگ کرے اور ان کی طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ ان پر نہ ڈالا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 3052]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو اس امر کی وصیت کرتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا (اہل ذمہ سے) جو عہد و پیمان ہے وہ اسے پورا کرے اور ان کی حمایت کرتے ہوئے دشمنوں سے جنگ کرے اور انہیں ان کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دی جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 3052]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3162
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جُوَيْرِيَةَ بْنَ قُدَامَةَ التَّمِيمِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" قُلْنَا أَوْصِنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: أُوصِيكُمْ بِذِمَّةِ اللَّهِ فَإِنَّهُ ذِمَّةُ نَبِيِّكُمْ، وَرِزْقُ عِيَالِكُمْ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جویریہ بن قدامہ تمیمی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا تھا، (جب وہ زخمی ہوئے) آپ سے ہم نے عرض کیا تھا کہ ہمیں کوئی وصیت کیجئے! تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے عہد کی (جو تم نے ذمیوں سے کیا ہے) وصیت کرتا ہوں (کہ اس کی حفاظت میں کوتاہی نہ کرنا) کیونکہ وہ تمہارے نبی کا ذمہ ہے اور تمہارے گھر والوں کی روزی ہے (کہ جزیہ کے روپیہ سے تمہارے بال بچوں کی گزران ہوتی ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 3162]
حضرت جویریہ بن قدامہ تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: امیر المؤمنین! آپ ہمیں کوئی وصیت کریں تو انہوں نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کے عہد کی وصیت کرتا ہوں (کہ اس کو پورا کرو) کیونکہ وہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد اور تمہارے بال بچوں کا رزق ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 3162]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3700
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بِأَيَّامٍ بِالْمَدِينَةِ وَقَفَ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ وَعُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ:" كَيْفَ فَعَلْتُمَا أَتَخَافَانِ أَنْ تَكُونَا قَدْ حَمَّلْتُمَا الْأَرْضَ مَا لَا تُطِيقُ؟، قَالَا: حَمَّلْنَاهَا أَمْرًا هِيَ لَهُ مُطِيقَةٌ مَا فِيهَا كَبِيرُ فَضْلٍ، قَالَ: انْظُرَا أَنْ تَكُونَا حَمَّلْتُمَا الْأَرْضَ مَا لَا تُطِيقُ، قَالَ: قَالَا لَا، فَقَالَ عُمَرُ: لَئِنْ سَلَّمَنِي اللَّهُ لَأَدَعَنَّ أَرَامِلَ أَهْلِ الْعِرَاقِ لَا يَحْتَجْنَ إِلَى رَجُلٍ بَعْدِي أَبَدًا، قَالَ: فَمَا أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا رَابِعَةٌ حَتَّى أُصِيبَ، قَالَ: إِنِّي لَقَائِمٌ مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ غَدَاةَ أُصِيبَ وَكَانَ إِذَا مَرَّ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ، قَالَ: اسْتَوُوا حَتَّى إِذَا لَمْ يَرَ فِيهِنَّ خَلَلًا تَقَدَّمَ فَكَبَّرَ وَرُبَّمَا قَرَأَ سُورَةَ يُوسُفَ أَوْ النَّحْلَ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ كَبَّرَ فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: قَتَلَنِي أَوْ أَكَلَنِي الْكَلْبُ حِينَ طَعَنَهُ فَطَارَ الْعِلْجُ بِسِكِّينٍ ذَاتِ طَرَفَيْنِ لَا يَمُرُّ عَلَى أَحَدٍ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا إِلَّا طَعَنَهُ , حَتَّى طَعَنَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا مَاتَ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ طَرَحَ عَلَيْهِ بُرْنُسًا، فَلَمَّا ظَنَّ الْعِلْجُ أَنَّهُ مَأْخُوذٌ نَحَرَ نَفْسَهُ وَتَنَاوَلَ عُمَرُ يَدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَدَّمَهُ فَمَنْ يَلِي عُمَرَ فَقَدْ رَأَى الَّذِي أَرَى وَأَمَّا نَوَاحِي الْمَسْجِدِ فَإِنَّهُمْ لَا يَدْرُونَ غَيْرَ أَنَّهُمْ قَدْ فَقَدُوا صَوْتَ عُمَرَ، وَهُمْ يَقُولُونَ: سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ , فَصَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ صَلَاةً خَفِيفَةً فَلَمَّا انْصَرَفُوا، قَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ انْظُرْ مَنْ قَتَلَنِي فَجَالَ سَاعَةً ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: غُلَامُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: الصَّنَعُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قَاتَلَهُ اللَّهُ لَقَدْ أَمَرْتُ بِهِ مَعْرُوفًا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَجْعَلْ مِيتَتِي بِيَدِ رَجُلٍ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ قَدْ كُنْتَ أَنْتَ وَأَبُوكَ تُحِبَّانِ أَنْ تَكْثُرَ الْعُلُوجُ بِالْمَدِينَةِ وَكَانَ الْعَبَّاسُ أَكْثَرَهُمْ رَقِيقًا، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَعَلْتُ أَيْ إِنْ شِئْتَ قَتَلْنَا، قَالَ: كَذَبْتَ بَعْدَ مَا تَكَلَّمُوا بِلِسَانِكُمْ وَصَلَّوْا قِبْلَتَكُمْ وَحَجُّوا حَجَّكُمْ فَاحْتُمِلَ إِلَى بَيْتِهِ فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ وَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ تُصِبْهُمْ مُصِيبَةٌ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ فَقَائِلٌ، يَقُولُ: لَا بَأْسَ وَقَائِلٌ، يَقُولُ: أَخَافُ عَلَيْهِ فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ , فَخَرَجَ مِنْ جَوْفِهِ , ثُمَّ أُتِيَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ , فَعَلِمُوا أَنَّهُ مَيِّتٌ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَجَاءَ النَّاسُ يُثْنُونَ عَلَيْهِ وَجَاءَ رَجُلٌ شَابٌّ، فَقَالَ: أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِبُشْرَى اللَّهِ لَكَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدَمٍ فِي الْإِسْلَامِ مَا قَدْ عَلِمْتَ ثُمَّ وَلِيتَ فَعَدَلْتَ ثُمَّ شَهَادَةٌ، قَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَفَافٌ لَا عَلَيَّ وَلَا لِي فَلَمَّا أَدْبَرَ إِذَا إِزَارُهُ يَمَسُّ الْأَرْضَ، قَالَ: رُدُّوا عَلَيَّ الْغُلَامَ، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي ارْفَعْ ثَوْبَكَ فَإِنَّهُ أَبْقَى لِثَوْبِكَ وَأَتْقَى لِرَبِّكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ انْظُرْ مَا عَلَيَّ مِنَ الدَّيْنِ فَحَسَبُوهُ فَوَجَدُوهُ سِتَّةً وَثَمَانِينَ أَلْفًا أَوْ نَحْوَهُ، قَالَ: إِنْ وَفَى لَهُ مَالُ آلِ عُمَرَ فَأَدِّهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَإِلَّا فَسَلْ فِي بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ , فَإِنْ لَمْ تَفِ أَمْوَالُهُمْ فَسَلْ فِي قُرَيْشٍ وَلَا تَعْدُهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ فَأَدِّ عَنِّي هَذَا الْمَالَ , انْطَلِقْ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْ يَقْرَأُ عَلَيْكِ عُمَرُ السَّلَامَ وَلَا تَقُلْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنِّي لَسْتُ الْيَوْمَ لِلْمُؤْمِنِينَ أَمِيرًا , وَقُلْ يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ يُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيْهِ فَسَلَّمَ وَاسْتَأْذَنَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهَا فَوَجَدَهَا قَاعِدَةً تَبْكِي، فَقَالَ: يَقْرَأُ عَلَيْكِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ السَّلَامَ وَيَسْتَأْذِنُ أَنْ يُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيْهِ، فَقَالَتْ: كُنْتُ أُرِيدُهُ لِنَفْسِي وَلَأُوثِرَنَّ بِهِ الْيَوْمَ عَلَى نَفْسِي , فَلَمَّا أَقْبَلَ قِيلَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَدْ جَاءَ، قَالَ: ارْفَعُونِي فَأَسْنَدَهُ رَجُلٌ إِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا لَدَيْكَ، قَالَ: الَّذِي تُحِبُّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَذِنَتْ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا كَانَ مِنْ شَيْءٍ أَهَمُّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ فَإِذَا أَنَا قَضَيْتُ فَاحْمِلُونِي ثُمَّ سَلِّمْ فَقُلْ يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَإِنْ أَذِنَتْ لِي فَأَدْخِلُونِي وَإِنْ رَدَّتْنِي رُدُّونِي إِلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ , وَجَاءَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ حَفْصَةُ وَالنِّسَاءُ تَسِيرُ مَعَهَا فَلَمَّا رَأَيْنَاهَا قُمْنَا , فَوَلَجَتْ عَلَيْهِ فَبَكَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً وَاسْتَأْذَنَ الرِّجَالُ فَوَلَجَتْ دَاخِلًا لَهُمْ فَسَمِعْنَا بُكَاءَهَا مِنَ الدَّاخِلِ، فَقَالُوا: أَوْصِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اسْتَخْلِفْ، قَالَ: مَا أَجِدُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ أَوِ الرَّهْطِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ فَسَمَّى عَلِيًّا , وَعُثْمَانَ , وَالزُّبَيْرَ , وَطَلْحَةَ , وَسَعْدًا , وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ، وَقَالَ: يَشْهَدُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَلَيْسَ لَهُ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ كَهَيْئَةِ التَّعْزِيَةِ لَهُ فَإِنْ أَصَابَتِ الْإِمْرَةُ سَعْدًا فَهُوَ ذَاكَ وَإِلَّا فَلْيَسْتَعِنْ بِهِ أَيُّكُمْ مَا أُمِّرَ فَإِنِّي لَمْ أَعْزِلْهُ عَنْ عَجْزٍ وَلَا خِيَانَةٍ، وَقَالَ:" أُوصِي الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ أَنْ يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهُمْ وَيَحْفَظَ لَهُمْ حُرْمَتَهُمْ , وَأُوصِيهِ بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا الَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَنْ يُقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَأَنْ يُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ وَأُوصِيهِ بِأَهْلِ الْأَمْصَارِ خَيْرًا فَإِنَّهُمْ رِدْءُ الْإِسْلَامِ وَجُبَاةُ الْمَالِ وَغَيْظُ الْعَدُوِّ , وَأَنْ لَا يُؤْخَذَ مِنْهُمْ إِلَّا فَضْلُهُمْ عَنْ رِضَاهُمْ وَأُوصِيهِ بِالْأَعْرَابِ خَيْرًا فَإِنَّهُمْ أَصْلُ الْعَرَبِ وَمَادَّةُ الْإِسْلَامِ أَنْ يُؤْخَذَ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ وَتُرَدَّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ , وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوفَى لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ وَأَنْ يُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِمْ وَلَا يُكَلَّفُوا إِلَّا طَاقَتَهُمْ" , فَلَمَّا قُبِضَ خَرَجْنَا بِهِ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي فَسَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَتْ: أَدْخِلُوهُ فَأُدْخِلَ فَوُضِعَ هُنَالِكَ مَعَ صَاحِبَيْهِ فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ دَفْنِهِ اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ الرَّهْطُ، فَقَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ اجْعَلُوا أَمْرَكُمْ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْكُمْ، فَقَالَ: الزُّبَيْرُ قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَ: طَلْحَةُ قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عُثْمَانَ، وَقَالَ سَعْدٌ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَيُّكُمَا تَبَرَّأَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ فَنَجْعَلُهُ إِلَيْهِ وَاللَّهُ عَلَيْهِ وَالْإِسْلَامُ لَيَنْظُرَنَّ أَفْضَلَهُمْ فِي نَفْسِهِ فَأُسْكِتَ الشَّيْخَانِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَفَتَجْعَلُونَهُ إِلَيَّ وَاللَّهُ عَلَيَّ أَنْ لَا آلُ عَنْ أَفْضَلِكُمْ، قَالَا: نَعَمْ فَأَخَذَ بِيَدِ أَحَدِهِمَا، فَقَالَ: لَكَ قَرَابَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَدَمُ فِي الْإِسْلَامِ مَا قَدْ عَلِمْتَ فَاللَّهُ عَلَيْكَ لَئِنْ أَمَّرْتُكَ لَتَعْدِلَنَّ وَلَئِنْ أَمَّرْتُ عُثْمَانَ لَتَسْمَعَنَّ وَلَتُطِيعَنَّ ثُمَّ خَلَا بِالْآخَرِ، فَقَالَ لَهُ: مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمَّا أَخَذَ الْمِيثَاقَ، قَالَ: ارْفَعْ يَدَكَ يَا عُثْمَانُ فَبَايَعَهُ فَبَايَعَ لَهُ عَلِيٌّ وَوَلَجَ أَهْلُ الدَّارِ فَبَايَعُوهُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین نے، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زخمی ہونے سے چند دن پہلے مدینہ میں دیکھا کہ وہ حذیفہ بن یمان اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہما کے ساتھ کھڑے تھے اور ان سے یہ فرما رہے تھے کہ (عراق کی اراضی کے لیے، جس کا انتظام خلافت کی جانب سے ان کے سپرد کیا گیا تھا) تم لوگوں نے کیا کیا ہے؟ کیا تم لوگوں کو یہ اندیشہ تو نہیں ہے کہ تم نے زمین کا اتنا محصول لگا دیا ہے جس کی گنجائش نہ ہو۔ ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے ان پر خراج کا اتنا ہی بار ڈالا ہے جسے ادا کرنے کی زمین میں طاقت ہے، اس میں کوئی زیادتی نہیں کی گئی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دیکھو پھر سمجھ لو کہ تم نے ایسی جمع تو نہیں لگائی ہے جو زمین کی طاقت سے باہر ہو۔ راوی نے بیان کیا کہ ان دونوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونے پائے گا، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے زندہ رکھا تو میں عراق کی بیوہ عورتوں کے لیے اتنا کر دوں گا کہ پھر میرے بعد کسی کی محتاج نہیں رہیں گی۔ راوی عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ ابھی اس گفتگو پر چوتھا دن ہی آیا تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دیئے گئے۔ عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ جس صبح کو آپ زخمی کئے گئے، میں (فجر کی نماز کے انتظار میں) صف کے اندر کھڑا تھا اور میرے اور ان کے درمیان عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سوا اور کوئی نہیں تھا عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب صف سے گزرتے تو فرماتے جاتے کہ صفیں سیدھی کر لو اور جب دیکھتے کہ صفوں میں کوئی خلل نہیں رہ گیا ہے تب آگے (مصلی پر) بڑھتے اور تکبیر کہتے۔ آپ (فجر کی نماز کی) پہلی رکعت میں عموماً سورۃ یوسف یا سورۃ النحل یا اتنی ہی طویل کوئی سورت پڑھتے یہاں تک کہ لوگ جمع ہو جاتے۔ اس دن ابھی آپ نے تکبیر ہی کہی تھی کہ میں نے سنا، آپ فرما رہے ہیں کہ مجھے قتل کر دیا یا کتے نے کاٹ لیا۔ ابولولو نے آپ کو زخمی کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ بدبخت اپنا دو دھاری خنجر لیے دوڑنے لگا اور دائیں اور بائیں جدھر بھی پھرتا تو لوگوں کو زخمی کرتا جاتا۔ اس طرح اس نے تیرہ آدمیوں کو زخمی کر دیا جن میں سات حضرات نے شہادت پائی۔ مسلمانوں میں سے ایک صاحب (حطان نامی) نے یہ صورت حال دیکھی تو انہوں نے اس پر اپنی چادر ڈال دی۔ اس بدبخت کو جب یقین ہو گیا کہ اب پکڑ لیا جائے گا تو اس نے خود اپنا بھی گلا کاٹ لیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں آگے بڑھا دیا (عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ) جو لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے قریب تھے انہوں نے بھی وہ صورت حال دیکھی جو میں دیکھ رہا تھا لیکن جو لوگ مسجد کے کنارے پر تھے (پیچھے کی صفوں میں) تو انہیں کچھ معلوم نہیں ہو سکا، البتہ چونکہ عمر رضی اللہ عنہ کی قرآت (نماز میں) انہوں نے نہیں سنی تو سبحان اللہ! سبحان اللہ! کہتے رہے۔ آخر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بہت ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر جب لوگ نماز سے پلٹے تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابن عباس! دیکھو مجھے کس نے زخمی کیا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تھوڑی دیر گھوم پھر کر دیکھا اور آ کر فرمایا کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ کے غلام (ابولولو) نے آپ کو زخمی کیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا، وہی جو کاریگر ہے؟ جواب دیا کہ جی ہاں، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ اسے برباد کرے میں نے تو اسے اچھی بات کہی تھی (جس کا اس نے یہ بدلا دیا) اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں مقدر کی جو اسلام کا مدعی ہو۔ تم اور تمہارے والد (عباس رضی اللہ عنہ) اس کے بہت ہی خواہشمند تھے کہ عجمی غلام مدینہ میں زیادہ سے زیادہ لائے جائیں۔ یوں بھی ان کے پاس غلام بہت تھے، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا، اگر آپ فرمائیں تو ہم بھی کر گزریں۔ مقصد یہ تھا کہ اگر آپ چاہیں تو ہم (مدینہ میں مقیم عجمی غلاموں کو) قتل کر ڈالیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ انتہائی غلط فکر ہے، خصوصاً جب کہ تمہاری زبان میں وہ گفتگو کرتے ہیں، تمہارے قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں اور تمہاری طرح حج کرتے ہیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر اٹھا کر لایا گیا اور ہم آپ کے ساتھ ساتھ آئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے لوگوں پر کبھی اس سے پہلے اتنی بڑی مصیبت آئی ہی نہیں تھی، بعض تو یہ کہتے تھے کہ کچھ نہیں ہو گا۔ (اچھے ہو جائیں گے) اور بعض کہتے تھے کہ آپ کی زندگی خطرہ میں ہے۔ اس کے بعد کھجور کا پانی لایا گیا۔ اسے آپ نے پیا تو وہ آپ کے پیٹ سے باہر نکل آیا۔ پھر دودھ لایا گیا اسے بھی جوں ہی آپ نے پیا زخم کے راستے وہ بھی باہر نکل آیا۔ اب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ آپ کی شہادت یقینی ہے۔ پھر ہم اندر آ گئے اور لوگ آپ کی تعریف بیان کرنے لگے، اتنے میں ایک نوجوان اندر آیا اور کہنے لگایا امیرالمؤمنین! آپ کو خوشخبری ہو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی۔ ابتداء میں اسلام لانے کا شرف حاصل کیا جو آپ کو معلوم ہے۔ پھر آپ خلیفہ بنائے گئے اور آپ نے پورے انصاف سے حکومت کی، پھر شہادت پائی، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اس پر بھی خوش تھا کہ ان باتوں کی وجہ سے برابر پر میرا معاملہ ختم ہو جاتا، نہ ثواب ہوتا اور نہ عذاب۔ جب وہ نوجوان جانے لگا تو اس کا تہبند (ازار) لٹک رہا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس لڑکے کو میرے پاس واپس بلا لاؤ (جب وہ آئے تو) آپ نے فرمایا: میرے بھتیجے! یہ اپنا کپڑا اوپر اٹھائے رکھو کہ اس سے تمہارا کپڑا بھی زیادہ دنوں چلے گا اور تمہارے رب سے تقویٰ کا بھی باعث ہے۔ اے عبداللہ بن عمر! دیکھو مجھ پر کتنا قرض ہے؟ جب لوگوں نے آپ پر قرض کا شمار کیا تو تقریباً چھیاسی (86) ہزار نکلا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کہ اگر یہ قرض آل عمر کے مال سے ادا ہو سکے تو انہی کے مال سے اس کو ادا کرنا ورنہ پھر بنی عدی بن کعب سے کہنا، اگر ان کے مال کے بعد بھی ادائیگی نہ ہو سکے تو قریش سے کہنا، ان کے سوا کسی سے امداد نہ طلب کرنا اور میری طرف سے اس قرض کو ادا کر دینا۔ اچھا اب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں جاؤ اور ان سے عرض کرو کہ عمر نے آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا ہے۔ امیرالمؤمنین (میرے نام کے ساتھ) نہ کہنا، کیونکہ اب میں مسلمانوں کا امیر نہیں رہا ہوں، تو ان سے عرض کرنا کہ عمر بن خطاب نے آپ سے اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے (عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر) سلام کیا اور اجازت لے کر اندر داخل ہوئے۔ دیکھا کہ آپ بیٹھی رو رہی ہیں۔ پھر کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ کو سلام کہا ہے اور اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہی ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اس جگہ کو اپنے لیے منتخب کر رکھا تھا لیکن آج میں انہیں اپنے پر ترجیح دوں گی، پھر جب ابن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو لوگوں نے بتایا کہ عبداللہ آ گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اٹھاؤ۔ ایک صاحب نے سہارا دے کر آپ کو اٹھایا۔ آپ نے دریافت کیا کیا خبر لائے؟ کہا کہ جو آپ کی تمنا تھی اے امیرالمؤمنین! عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا الحمدللہ۔ اس سے اہم چیز اب میرے لیے کوئی نہیں رہ گئی تھی۔ لیکن جب میری وفات ہو چکے اور مجھے اٹھا کر (دفن کے لیے) لے چلو تو پھر میرا سلام ان سے کہنا اور عرض کرنا کہ عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) نے آپ سے اجازت چاہی ہے۔ اگر وہ میرے لیے اجازت دے دیں تب تو وہاں دفن کرنا اور اگر اجازت نہ دیں تو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔ اس کے بعد ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا آئیں۔ ان کے ساتھ کچھ دوسری خواتین بھی تھیں، جب ہم نے انہیں دیکھا تو ہم اٹھ گئے۔ آپ عمر رضی اللہ عنہ کے قریب آئیں اور وہاں تھوڑی دیر تک آنسو بہاتی رہیں۔ پھر جب مردوں نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو وہ مکان کے اندرونی حصہ میں چلی گئیں اور ہم نے ان کے رونے کی آواز سنی پھر لوگوں نے عرض کیا امیرالمؤمنین! خلافت کے لیے کوئی وصیت کر دیجئیے، فرمایا کہ خلافت کا میں ان حضرات سے زیادہ اور کسی کو مستحق نہیں پاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک جن سے راضی اور خوش تھے پھر آپ نے علی، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف کا نام لیا اور یہ بھی فرمایا کہ عبداللہ بن عمر کو بھی صرف مشورہ کی حد تک شریک رکھنا لیکن خلافت سے انہیں کوئی سروکار نہیں رہے گا۔ جیسے آپ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی تسکین کے لیے یہ فرمایا ہو۔ پھر اگر خلافت سعد کو مل جائے تو وہ اس کے اہل ہیں اور اگر وہ نہ ہو سکیں تو جو شخص بھی خلیفہ ہو وہ اپنے زمانہ خلافت میں ان کا تعاون حاصل کرتا رہے۔ کیونکہ میں نے ان کو (کوفہ کی گورنری سے) نااہلی یا کسی خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا ہے اور عمر نے فرمایا: میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو مہاجرین اولین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کے حقوق پہچانے اور ان کے احترام کو ملحوظ رکھے اور میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ انصار کے ساتھ بہتر معاملہ کرے جو دارالہجرت اور دارالایمان (مدینہ منورہ) میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے سے) مقیم ہیں۔ (خلیفہ کو چاہیے) کہ وہ ان کے نیکوں کو نوازے اور ان کے بروں کو معاف کر دیا کرے اور میں ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ شہری آبادی کے ساتھ بھی اچھا معاملہ رکھے کہ یہ لوگ اسلام کی مدد، مال جمع کرنے کا ذریعہ اور (اسلام کے) دشمنوں کے لیے ایک مصیبت ہیں اور یہ کہ ان سے وہی وصول کیا جائے جو ان کے پاس فاضل ہو اور ان کی خوشی سے لیا جائے اور میں ہونے والے خلیفہ کو بدویوں کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ وہ اصل عرب ہیں اور اسلام کی جڑ ہیں اور یہ کہ ان سے ان کا بچا کھچا مال وصول کیا جائے اور انہیں کے محتاجوں میں تقسیم کر دیا جائے اور میں ہونے والے خلیفہ کو اللہ اور اس کے رسول کے عہد کی نگہداشت کی (جو اسلامی حکومت کے تحت غیر مسلموں سے کیا ہے) وصیت کرتا ہوں کہ ان سے کئے گئے عہد کو پورا کیا جائے، ان کی حفاظت کے لیے جنگ کی جائے اور ان کی حیثیت سے زیادہ ان پر بوجھ نہ ڈالا جائے، جب عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی تو ہم وہاں سے ان کو لے کر (عائشہ رضی اللہ عنہا) کے حجرہ کی طرف آئے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سلام کیا اور عرض کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی ہے۔ ام المؤمنین نے کہا انہیں یہیں دفن کیا جائے۔ چنانچہ وہ وہیں دفن ہوئے، پھر جب لوگ دفن سے فارغ ہو چکے تو وہ جماعت (جن کے نام عمر رضی اللہ عنہ نے وفات سے پہلے بتائے تھے) جمع ہوئی عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: تمہیں اپنا معاملہ اپنے ہی میں سے تین آدمیوں کے سپرد کر دینا چاہیے اس پر زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنا معاملہ علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا۔ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اپنا معاملہ عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد کرتا ہوں اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنا معاملہ عبدالرحمٰن بن عوف کے سپرد کیا۔ اس کے بعد عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے (عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کو مخاطب کر کے) کہا کہ آپ دونوں حضرات میں سے جو بھی خلافت سے اپنی برات ظاہر کرے ہم اسی کو خلافت دیں گے اور اللہ اس کا نگراں و نگہبان ہو گا اور اسلام کے حقوق کی ذمہ داری اس پر لازم ہو گی۔ ہر شخص کو غور کرنا چاہیے کہ اس کے خیال میں کون افضل ہے، اس پر یہ دونوں حضرات خاموش ہو گئے تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ حضرات اس انتخاب کی ذمہ داری مجھ پر ڈالتے ہیں، اللہ کی قسم کہ میں آپ حضرات میں سے اسی کو منتخب کروں گا جو سب میں افضل ہو گا۔ ان دونوں حضرات نے کہا کہ جی ہاں، پھر آپ نے ان دونوں میں سے ایک کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ آپ کی قرابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور ابتداء میں اسلام لانے کا شرف بھی۔ جیسا کہ آپ کو خود ہی معلوم ہے، پس اللہ آپ کا نگران ہے کہ اگر میں آپ کو خلیفہ بنا دوں تو کیا آپ عدل و انصاف سے کام لیں گے اور اگر عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دوں تو کیا آپ ان کے احکام سنیں گے اور ان کی اطاعت کریں گے؟ اس کے بعد دوسرے صاحب کو تنہائی میں لے گئے اور ان سے بھی یہی کہا اور جب ان سے وعدہ لے لیا تو فرمایا: اے عثمان! اپنا ہاتھ بڑھایئے۔ چنانچہ انہوں نے ان سے بیعت کی اور علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان سے بیعت کی، پھر اہل مدینہ آئے اور سب نے بیعت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 3700]
عمرو بن میمون سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو شہید ہونے سے چند دن پہلے مدینہ طیبہ میں دیکھا تھا کہ آپ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے (ان سے) پوچھ رہے تھے کہ: ”تم لوگوں نے کیسے کیا ہے؟ کیا تم لوگوں کو یہ اندیشہ تو نہیں کہ تم نے (عراق کی) اراضی کا اتنا محصول لگا دیا ہے جس کی گنجائش نہ ہو؟“ انہوں نے جواب دیا کہ: ”ہم نے ان پر خرچ کا اتنا ہی بوجھ ڈالا ہے جسے ادا کرنے کی اس زمین میں ہمت ہے۔ اس سلسلے میں کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”دیکھو! پھر سوچ لو کہ تم نے اتنا ٹیکس تو نہیں لگایا جو زمین کی طاقت سے باہر ہو؟“ ان دونوں نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے (بلکہ حسب استطاعت اور معقول ہے)۔ اس کے بعد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے سلامت رکھا تو میں عراق کی بیواؤں کو اس حال میں چھوڑوں گا کہ وہ میرے بعد کسی کی محتاج نہیں رہیں گی۔“ عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ابھی اس گفتگو پر چوتھا دن ہی آیا تھا کہ انہیں زخمی کر دیا گیا۔ جس روز وہ زخمی کیے گئے میں صف میں کھڑا تھا۔ میرے اور ان کے درمیان صرف عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔ ان کی یہ عادت تھی کہ جب صف کے پاس سے گزرتے تو فرماتے کہ: ”صفیں سیدھی کر لو۔“ اور جب دیکھتے کہ اب صفوں میں کوئی خلل نہیں رہ گیا تو آگے بڑھتے اور تکبیر تحریمہ کہتے اور پہلی رکعت میں اکثر سورت یوسف یا سورت النحل یا اتنی ہی طویل کوئی اور سورت پڑھتے تاکہ سب لوگ جمع ہو جائیں۔ اس دن بھی ابھی آپ نے «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ ہی کہا تھا کہ میں نے سنا، آپ فرما رہے ہیں: ”مجھے کتے نے قتل کر ڈالا یا مجھے کتے نے کاٹ کھایا ہے۔“ دراصل ابو لؤلؤ نے آپ کو زخمی کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ بدبخت اپنا دو دھاری خنجر لیے دوڑنے لگا۔ دائیں بائیں جدھر سے گزرتا لوگوں کو زخمی کرتا جاتا تھا حتیٰ کہ اس نے تیرہ آدمی زخمی کیے جن میں سے سات فوت ہو گئے۔ مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے جب یہ صورت حال دیکھ لی تو اس نے اس پر اپنا لمبا کوٹ ڈال دیا۔ جب اس ملعون غلام کو یقین ہو گیا کہ وہ گرفتار ہو چکا ہے تو اس نے اپنے آپ کو ذبح کر ڈالا۔ ادھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور انہیں آگے بڑھا دیا۔ جو لوگ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قریب تھے انہوں نے وہ صورت حال دیکھی جو میں نے دیکھی تھی لیکن جو لوگ مسجد کے کونوں میں تھے انہیں کچھ نہ معلوم ہو سکا۔ چونکہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی قراءت نہ سنی تو وہ «سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے، اللہ پاک ہے“ کہتے رہے، تاہم عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بہت ہلکی سی نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ابن عباس! دیکھو مجھے کس نے زخمی کیا ہے؟“ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے تھوڑی دیر گھوم پھر کر دیکھا اور آکر کہا: ”مغیرہ رضی اللہ عنہ کے غلام نے (آپ کو زخمی کیا ہے)۔“ آپ نے دریافت فرمایا: ”وہی جو کاریگر ہے؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ”ہاں۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کرے! میں نے اس کے بارے میں اچھی بات کہی تھی۔ اللہ کا شکر ہے جس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں مقدر نہیں کی جو اسلام کا مدعی ہو۔ اے ابن عباس! تم اور تمہارے والد اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مدینہ طیبہ میں عجمی غلام زیادہ ہوں۔“ یوں بھی ان کے پاس غلام بہت تھے۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اگر آپ فرمائیں تو ہم سب کو قتل کر دیتے ہیں۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوچ انتہائی غلط ہے، خصوصاً جب وہ تمہاری زبان میں کلام کرتے ہیں، تمہارے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں اور تمہاری طرح حج کرتے ہیں تو اس کے بعد تم انہیں قتل کرنے میں سچے نہیں ہو۔“ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر لایا گیا اور ہم بھی آپ کے ساتھ ساتھ آئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے لوگوں پر اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی مصیبت آئی ہی نہیں ہے۔ کچھ کہتے کہ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں اور کچھ لوگ کہتے تھے کہ آپ کی زندگی خطرے میں ہے۔ پھر نبیذ لائی گئی، آپ نے نوش کی تو وہ پیٹ کے راستے سے باہر نکل گئی۔ پھر دودھ لایا گیا، آپ نے وہ نوش کیا تو وہ بھی پیٹ سے نکل گیا۔ اس وقت لوگوں کو یقین ہو گیا کہ آپ زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ پھر ہم آپ کے پاس آئے جبکہ دوسرے لوگ بھی آ رہے تھے۔ وہ سب آپ کی تعریف کرتے تھے۔ اس دوران میں ایک نوجوان آیا اور کہنے لگا: ”امیر المؤمنین! آپ کو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہو کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت حاصل رہی اور آپ جانتے ہیں کہ آپ قدیم الاسلام ہیں، پھر آپ خلیفہ بنائے گئے اور آپ نے پورے انصاف کے ساتھ حکومت کی، پھر آپ کو شہادت نصیب ہوئی۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تو اس بات پر خوش ہوں کہ ان تمام باتوں کی وجہ سے میرا معاملہ برابری پر ختم ہو جائے، نہ مجھے ان کا ثواب ہو اور نہ مجھے ان کی پاداش میں کوئی سزا ہو۔“ پھر جب وہ نوجوان واپس ہوا تو اس کا تہبند زمین پر گھسٹ رہا تھا۔ فرمایا کہ: ”اس نوجوان کو واپس بلاؤ۔“ جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا: ”میرے بھتیجے! اپنا تہبند اوپر اٹھاؤ، اس سے کپڑا صاف رہے گا اور اللہ کے ہاں تقویٰ کا باعث بھی ہے۔ عبداللہ بن عمر! دیکھو مجھ پر کتنا قرض ہے؟“ انہوں نے حساب کیا تو چھیاسی ہزار یا اس کے لگ بھگ پایا۔ آپ نے فرمایا: ”اگر عمر کی اولاد کے اموال ہی سے اسے ادا کرنا، بصورت دیگر (میری قوم) قبیلہ بنو عدی بن کعب کو اس کی ادائیگی کے لیے کہنا۔ اگر ان کے اموال بھی کافی نہ ہوں تو قریش سے کہنا۔ ان کے علاوہ کسی اور سے مدد طلب نہ کرنا۔ بہرحال تم نے میرا قرض ادا کرنا ہے۔ اب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور انہیں کہنا کہ عمر نے آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا ہے۔ امیر المؤمنین نہ کہنا کیونکہ میں اب مسلمانوں کا امیر نہیں رہا۔ ان سے عرض کرنا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ سے اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔“ چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سلام کیا اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ آپ نے اندر جانے کے بعد دیکھا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی رو رہی ہیں۔ عرض کیا کہ: ”عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ کو سلام کہا ہے اور وہ آپ سے اجازت چاہتے ہیں کہ اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہوں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ: ”میں نے اس جگہ کو اپنے لیے منتخب کر رکھا تھا لیکن آج میں انہیں اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہوں۔“ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو لوگوں نے بتایا کہ وہ آ گئے ہیں تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: ”مجھے اٹھاؤ۔“ ایک شخص نے سہارا دے کر آپ کو بٹھایا۔ فرمایا: ”عبداللہ! کیا جواب لائے ہو؟“ عرض کیا: ”امیر المؤمنین! وہی جو آپ کی تمنا تھی۔ انہوں نے دفن کی اجازت دے دی ہے۔“ فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے۔ میرے لیے اس سے زیادہ کوئی اور چیز اہم نہ تھی۔ لیکن جب میری وفات ہو جائے اور مجھے اٹھا لے جاؤ تو پھر سلام عرض کرنے کے بعد کہنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دفن ہونے کی اجازت چاہتے ہیں۔ اگر وہ میرے لیے بخوشی اجازت دے دیں تو مجھے وہاں دفن کر دینا اور اگر اجازت نہ دیں تو مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔“ اس کے بعد ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا آئیں۔ ان کے ہمراہ کچھ دوسری خواتین بھی تھیں۔ جب ہم نے انہیں دیکھا تو ہم وہاں سے اٹھ گئے۔ وہ آپ کے پاس آکر کچھ دیر روتی رہیں۔ پھر جب دوسرے لوگوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو وہ مکان کے اندرونی حصے میں چلی گئیں، چنانچہ ہم نے مکان کے اندر ان کے رونے کی آواز سنی۔ لوگوں نے عرض کیا: ”امیر المؤمنین! خلافت کے متعلق کوئی وصیت کر دیں۔“ فرمایا: ”میں خلافت کا ان حضرات سے زیادہ کسی کو حقدار نہیں پاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک جن سے خوش تھے۔“ پھر آپ نے علی رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، زبیر رضی اللہ عنہ، طلحہ رضی اللہ عنہ، سعد رضی اللہ عنہ، اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم کا نام لیا اور یہ بھی فرمایا کہ: ”عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی مشورے کی حد تک شریک رکھا جائے لیکن خلافت کے معاملات سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوگا۔“ آپ نے یہ جملہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی دلجوئی کے لیے فرمایا۔ ”اگر خلافت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ملے تو وہ اس کے سزاوار ہیں ورنہ جو بھی خلیفہ بنایا جائے وہ اپنے زمانہ خلافت میں ان سے تعاون حاصل کرتا رہے۔ میں نے ان کو (کوفہ کی گورنری سے) ان کی نااہلی یا کسی خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا تھا۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا: ”میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو مہاجرین اولین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کے حقوق پہچانے اور ان کے احترام کو ملحوظ رکھے اور میں اسے انصار کے ساتھ خیر خواہی کی وصیت کرتا ہوں جو مہاجرین سے پہلے دار الہجرت اور دار الایمان، یعنی مدینہ طیبہ میں مقیم ہیں۔ وہ ان کے نیکوکار لوگوں کے اخلاص کی قدر کرے اور ان کے بروں کی برائی کو نظر انداز کرے۔ میں ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ شہری آبادی کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ کرے کیونکہ یہ لوگ اسلام کے مددگار ہیں، مال فراہم کرنے والے اور اسلام دشمنوں کے لیے ایک مصیبت ہیں۔ اور ان سے وہی کچھ لیا جائے جو ان کی ضروریات سے زیادہ ہو اور وہ بھی ان کی رضامندی سے وصول کیا جائے۔ میں خلیفہ کو دیہاتی آبادی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ اصل عرب اور اسلام کی بنیاد ہیں۔ ان کی ضروریات سے زائد ان کا مال لیا جائے اور ان کے ضرورت مندوں پر ہی اسے خرچ کر دیا جائے۔ میں اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کی پاسداری کی بھی وصیت کرتا ہوں کہ اہل ذمہ کے عہد کو پورا کیا جائے اور ان کی حمایت میں جنگ کی جائے، نیز ان کی حیثیت سے زیادہ بوجھ ان پر نہ ڈالا جائے۔“ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی تو ہم انہیں اٹھا کر عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس لے آئے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سلام عرض کیا اور کہا کہ: ”عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اجازت طلب کر رہے ہیں۔“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”انہیں یہیں دفن کیا جائے“، چنانچہ انہیں وہیں ان کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔ جب لوگ ان کے دفن سے فارغ ہوئے تو نامزد کردہ لوگ جمع ہوئے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم اپنی رائے تین حضرات کے حوالے کر دو۔“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: ”میں اپنا حق علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کرتا ہوں۔“ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: ”میں نے اپنی رائے کا حق عثمان رضی اللہ عنہ کو سونپا۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: ”میں نے اپنا معاملہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا۔“ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”آپ دونوں میں سے کون امرِ خلافت سے دستبردار ہوتا ہے، ہم اسے خلافت سونپ دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کا نگران ہوگا اور حقوقِ اسلام کی ذمہ داری اس پر لازم ہوگی، لہٰذا دونوں میں سے ہر ایک اپنے سے افضل پر غور کرے۔“ اس پر یہ دونوں حضرات خاموش ہو گئے تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا آپ حضرات اس انتخاب کی ذمہ داری مجھ پر ڈالتے ہیں؟ اللہ کی قسم! میں تم سے افضل کا انتخاب کرنے میں کوتاہی نہیں کروں گا۔“ ان دونوں حضرات نے کہا: ”ہاں (آپ ایسا کریں)۔“ اس کے بعد عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ: ”آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری اور اسلام میں قدامت کا وہ حق حاصل ہے جو آپ جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا نگہبان ہے۔ اگر میں آپ کو خلیفہ بنا دوں تو آپ نے عدل و انصاف کرنا ہوگا اور اگر عثمان کو خلیفہ بنا دوں تو ان کی بات سننی ہوگی اور ان کی اطاعت کرنی ہوگی۔“ پھر دوسرے (عثمان رضی اللہ عنہ) کو تنہائی میں لے گئے اور ان سے بھی اسی طرح کہا۔ اور جب دونوں سے عہد و پیمان لے لیا تو فرمایا: ”اے عثمان! اپنا ہاتھ اٹھاؤ“، چنانچہ پہلے انہوں نے ان سے بیعت کی، پھر علی رضی اللہ عنہ نے ان سے بیعت کی، پھر اہل دار آئے انہوں نے آپ کی بیعت کی (الغرض سب نے بیعت کی)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 3700]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4888
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أُوصِي الْخَلِيفَةَ بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ أَنْ يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهُمْ، وَأُوصِي الْخَلِيفَةَ بِالْأَنْصَارِ الَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُهَاجِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَيَعْفُوَ عَنْ مُسِيئِهِمْ".
ہم سے احمد بن یونس بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، ان سے حصین نے، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (زخمی ہونے کے بعد انتقال سے پہلے) فرمایا تھا میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو مہاجرین اولین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کا حق پہچانے اور میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں جو دارالسلام اور ایمان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے ہی سے قرار پکڑے ہوئے ہیں یہ کہ ان میں جو نیکوکار ہیں ان کی عزت کرے اور ان کے غلط کاروں سے درگزر کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 4888]
حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ اولین مہاجرین کا حق پہچانے اور اس خلیفہ کو انصار کے متعلق بھی وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کے حق کو پہچانے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے مدینہ طیبہ میں جگہ پکڑی اور ایمان کو سنبھالا۔ اس (خلیفے) پر لازم ہے کہ وہ انصار میں سے جو نیک ہوں ان کی قدر کرے اور جو گناہ گار ہیں ان کی برائی سے درگزر کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 4888]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7207
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الرَّهْطَ الَّذِينَ وَلَّاهُمْ عُمَرُ اجْتَمَعُوا، فَتَشَاوَرُوا، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: لَسْتُ بِالَّذِي أُنَافِسُكُمْ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ، وَلَكِنَّكُمْ إِنْ شِئْتُمُ اخْتَرْتُ لَكُمْ مِنْكُمْ، فَجَعَلُوا ذَلِكَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَلَمَّا وَلَّوْا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَمْرَهُمْ، فَمَالَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَتَّى مَا أَرَى أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يَتْبَعُ أُولَئِكَ الرَّهْطَ وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ، وَمَالَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُشَاوِرُونَهُ تِلْكَ اللَّيَالِي حَتَّى إِذَا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَصْبَحْنَا مِنْهَا فَبَايَعْنَا عُثْمَانَ، قَالَ الْمِسْوَرُ: طَرَقَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَعْدَ هَجْعٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَضَرَبَ الْبَابَ حَتَّى اسْتَيْقَظْتُ، فَقَالَ: أَرَاكَ نَائِمًا فَوَاللَّهِ مَا اكْتَحَلْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ بِكَبِيرِ نَوْمٍ، انْطَلِقْ فَادْعُ الزُّبَيْرَ، وَسَعْدًا، فَدَعَوْتُهُمَا لَهُ فَشَاوَرَهُمَا ثُمَّ دَعَانِي، فَقَالَ: ادْعُ لِي عَلِيًّا، فَدَعَوْتُهُ، فَنَاجَاهُ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ، ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ عَلَى طَمَعٍ، وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَخْشَى مِنْ عَلِيٍّ شَيْئًا، ثُمّ قَالَ: ادْعُ لِي عُثْمَانَ، فَدَعَوْتُهُ، فَنَاجَاهُ حَتَّى فَرَّقَ بَيْنَهُمَا الْمُؤَذِّنُ بِالصُّبْحِ، فَلَمَّا صَلَّى لِلنَّاسِ الصُّبْحَ، وَاجْتَمَعَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَنْ كَانَ حَاضِرًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَرْسل إِلَى أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ، وَكَانُوا وَافَوْا تِلْكَ الْحَجَّةَ مَعَ عُمَرَ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا، تَشَهَّدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثُمّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ يَا عَلِيُّ، إِنِّي قَدْ نَظَرْتُ فِي أَمْرِ النَّاسِ فَلَمْ أَرَهُمْ يَعْدِلُونَ بِعُثْمَانَ فَلَا تَجْعَلَنَّ عَلَى نَفْسِكَ سَبِيلًا، فَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْخَلِيفَتَيْنِ مِنْ بَعْدِهِ"، فَبَايَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبَايَعَهُ النَّاسُ الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ وَأُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ، وَالْمُسْلِمُونَ.
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے زہری نے، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں مسور بن مخرمہ نے خبر دی کہ وہ چھ آدمی جن کو عمر رضی اللہ عنہ خلافت کے لیے نامزد کر گئے تھے (یعنی علی ‘ عثمان ‘ زبیر ‘ طلحہ اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم کہ ان میں سے کسی ایک کو اتفاق سے خلیفہ بنا لیا جائے) یہ سب جمع ہوئے اور مشورہ کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا خلیفہ ہونے کے لیے میں آپ لوگوں سے کوئی مقابلہ نہیں کروں گا۔ البتہ اگر آپ لوگ چاہیں تو آپ لوگوں کے لیے کوئی خلیفہ آپ ہی میں سے میں چن دوں۔ چنانچہ سب نے مل کر اس کا اختیار عبدالرحمٰن بن عوف کو دے دیا۔ جب ان لوگوں نے انتخاب کی ذمہ داری عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی تو سب لوگ ان کی طرف جھک گئے۔ جتنے لوگ بھی اس جماعت کے پیچھے چل رہے تھے، ان میں اب میں نے کسی کو بھی ایسا نہ دیکھا جو عبدالرحمٰن کے پیچھے نہ چل رہا ہو۔ سب لوگ ان ہی کی طرف مائل ہو گئے اور ان دنوں میں ان سے مشورہ کرتے رہے جب وہ رات آئی جس کی صبح کو ہم نے عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت کی۔ مسور رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ رات گئے میرے یہاں آئے اور دروازہ کھٹکٹھایا یہاں تک کہ میں بیدار ہو گیا۔ انہوں نے کہا میرا خیال ہے آپ سو رہے تھے، اللہ کی قسم میں ان راتوں میں بہت کم سو سکا ہوں۔ جائیے! زبیر اور سعد کو بلائیے۔ میں ان دونوں بزرگوں کو بلا لایا اور انہوں نے ان سے مشورہ کیا، پھر مجھے بلایا اور کہا کہ میرے لیے علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلا دیجئیے۔ میں نے انہیں بھی بلایا اور انہوں نے ان سے بھی سر گوشی کی۔ یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی۔ پھر علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس کھڑے ہو گئے اور ان کو اپنے ہی لیے امید تھی۔ عبدالرحمٰن کے دل میں بھی ان کی طرف سے یہی ڈر تھا، پھر انہوں نے کہا کہ میرے لیے عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لائیے۔ میں نے انہیں بھی بلا لایا اور انہوں نے ان سے بھی سرگوشی کی۔ آخر صبح کے مؤذن نے ان کے درمیان جدائی کی۔ جب لوگوں نے صبح کی نماز پڑھ لی اور یہ سب لوگ منبر کے پاس جمع ہوئے تو انہوں نے موجود مہاجرین، انصار اور لشکروں کے قائدین کو بلایا۔ ان لوگوں نے اس سال حج عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تھا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا پھر کہا امابعد! اے علی! میں نے لوگوں کے خیالات معلوم کئے اور میں نے دیکھا کہ وہ عثمان کو مقدم سمجھتے ہیں اور ان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے، اس لیے آپ اپنے دل میں کوئی میل پیدا نہ کریں۔ پھر کہا میں آپ (عثمان رضی اللہ عنہ) سے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت اور آپ کے دو خلفاء کے طریق کے مطابق بیعت کرتا ہوں۔ چنانچہ پہلے ان سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیعت کی، پھر سب لوگوں نے اور مہاجرین، انصار اور فوجیوں کے سرداروں اور تمام مسلمانوں نے بیعت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 7207]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”وہ لوگ جنہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ مقرر کرنے کا اختیار دیا تھا وہ جمع ہوئے اور باہم مشورہ کیا۔ ان سے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں خلافت کے سلسلے میں آپ لوگوں سے مقابلہ نہیں کروں گا لیکن اگر تم چاہتے ہو تو تم ہی میں سے کسی کو تمہارے لیے خلیفہ مقرر کر دوں۔“ چنانچہ سب نے خلافت کا معاملہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا۔ جب انہوں نے انتخاب کی ذمہ داری ان کے سپرد کر دی تو سب لوگ ان کی طرف مائل ہو گئے یہاں تک کہ میں نے کسی کو نہ دیکھا جو باقی حضرات کا پیچھا کرتا ہو یا ان کی ایڑی روندتا ہو۔ تمام لوگوں کا میلان حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی طرف ہو گیا اور وہ انہیں ان راتوں میں مشورہ دیتے رہے کہ جب وہ رات آ گئی جس کی صبح ہم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت کی۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کچھ رات گزر جانے کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے زور سے میرا دروازہ کھٹکھٹایا حتیٰ کہ میں بیدار ہو گیا۔ انہوں نے کہا: ”میرا خیال ہے کہ آپ سو رہے تھے۔ اللہ کی قسم! میں ان راتوں میں بہت کم سو سکا ہوں، آپ ابھی جائیں، حضرت زبیر اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بلا لائیں۔“ میں ان دونوں بزرگوں کو بلا لایا تو انہوں نے ان دونوں سے مشورہ کیا۔ مجھے پھر بلایا اور فرمایا: ”حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ۔“ میں گیا اور انہیں بلا لایا تو آپ ان کے ساتھ مشورہ کرتے رہے حتیٰ کہ آدھی رات گزر گئی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس حالت میں اٹھ کر گئے کہ وہ خلافت کے خواہشمند تھے، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے دل میں ان کے متعلق کچھ کھٹک بھی تھی۔ پھر انہوں نے کہا: ”حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ۔“ میں انہیں بلا لایا تو آپ ان سے سرگوشی کرتے رہے حتیٰ کہ مؤذن نے صبح کی اذان دے دی اور دونوں جدا جدا ہو گئے۔ جب لوگوں نے صبح کی نماز ادا کی اور وہ منبر کے پاس جمع ہو گئے تو آپ نے وہاں موجود انصار، مہاجرین اور لشکروں کے قائدین کو بلایا۔ ان سب حضرات نے امسال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا تھا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا اور فرمایا: ”امّا بعد! اے علی! میں نے لوگوں کے خیالات معلوم کیے ہیں، میں نے دیکھا ہے کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مقدم سمجھتے ہیں اور ان کے برابر کسی کو خیال میں نہیں لاتے، اس لیے آپ اپنے دل میں کوئی میل پیدا نہ کریں۔“ پھر فرمایا: ”اے عثمان! میں اللہ کے دین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ سے پہلے دو خلفاء کے طریق کے مطابق آپ کی بیعت کرتا ہوں۔“ چنانچہ پہلے ان سے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیعت کی، پھر سب لوگوں یعنی مہاجرین و انصار، فوجوں کے قائدین اور دیگر اہل اسلام نے بیعت کی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 7207]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة