🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب اغتسال الصائم:
باب: روزہ دار کا غسل کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1932
ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: مِثْلَ ذَلِكَ.
‏‏‏‏ اس کے بعد ہم ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1932]
پھر ہم حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے بھی اسی طرح فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1932]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1926
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بنِ الحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ المُغِيرَةِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَبِي حِينَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَ مَرْوَانَ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتَاهُ:" أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ"، وَقَالَ مَرْوَانُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ: أُقْسِمُ بِاللَّهِ، لَتُقَرِّعَنَّ بِهَا أَبَا هُرَيْرَةَ، وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ قُدِّرَ لَنَا أَنْ نَجْتَمِعَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَكَانَتْ لِأَبِي هُرَيْرَةَ هُنَالِكَ أَرْضٌ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنِّي ذَاكِرٌ لَكَ أَمْرًا، وَلَوْلَا مَرْوَانُ أَقْسَمَ عَلَيَّ فِيهِ لَمْ أَذْكُرْهُ لَكَ، فَذَكَرَ قَوْلَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ: كَذَلِكَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَهُنَّ أَعْلَمُ، وَقَالَ هَمَّامٌ، وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْمُرُ بِالْفِطْرِ، وَالْأَوَّلُ أَسْنَدُ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام بن مغیرہ کے غلام سمی نے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) اور ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی، انہیں ان کے والد عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں مروان نے خبر دی اور انہیں عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ (بعض مرتبہ) فجر ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل کے ساتھ جنبی ہوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہوتے تھے، اور مروان بن حکم نے عبدالرحمٰن بن حارث سے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو تم یہ حدیث صاف صاف سنا دو۔ (کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتوی اس کے خلاف تھا) ان دنوں مروان، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا، ابوبکر نے کہا کہ عبدالرحمٰن نے اس بات کو پسند نہیں کیا۔ اتفاق سے ہم سب ایک مرتبہ ذو الحلیفہ میں جمع ہو گئے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہاں کوئی زمین تھی، عبدالرحمٰن نے ان سے کہا کہ آپ سے ایک بات کہوں گا اور اگر مروان نے اس کی مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں کبھی آپ کے سامنے اسے نہ چھیڑتا۔ پھر انہوں نے عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ذکر کی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا (میں کیا کروں) کہا کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی تھی (اور وہ زیادہ جاننے والے ہیں) کہ ہمیں ہمام اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کو جو صبح کے وقت جنبی ہونے کی حالت میں اٹھا ہو افطار کا حکم دیتے تھے لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت زیادہ معتبر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1926]
حضرت ابوبکر بن عبدالرحمان رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اور میرے والد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دوسری سند کے ساتھ یہ ہے کہ عبدالرحمان نے مروان بن حکم کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات بیویوں کی مقاربت کی وجہ سے صبح تک بحالتِ جنابت رہتے، پھر غسل کرتے اور روزہ رکھ لیتے تھے۔ مروان نے عبدالرحمان بن حارث سے کہا کہ میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں، یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو واضح طور پر سنا دو۔ مروان اس وقت مدینہ طیبہ کا گورنر تھا۔ راویِ حدیث ابوبکر کہتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمان نے اس بات کو پسند نہ کیا، پھر ہم اتفاق سے ذوالحلیفہ میں اکٹھے ہوئے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہاں زمین تھی۔ اس وقت عبدالرحمان بن حارث نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ سے ایک بات ذکر کرتا ہوں، اگر اس کے متعلق مروان نے مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں آپ سے اس کا ذکر نہ کرتا، چنانچہ انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا قول ذکر کیا، تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس طرح خبر دی تھی اور وہ زیادہ جانتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے حالات میں روزہ افطار کر دینے کا حکم دیتے تھے، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سلسلے میں پہلی روایت زیادہ مستند ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1926]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1930
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ فِي رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ حُلْمٍ، فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ".
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ اور ابوبکر نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا رمضان میں فجر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احتلام سے نہیں (بلکہ اپنی ازواج کے ساتھ صحبت کرنے کی وجہ سے) غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے۔ (معلوم ہوا کہ غسل جنابت روزہ دار فجر کے بعد کر سکتا ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1930]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان المبارک میں احتلام کے بغیر صبح کے وقت غسل کرنے کی ضرورت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1930]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں