صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ:
باب: درخت پر جو کھجور لگی ہوئی ہو اس میں بیع سلم کرنا۔
حدیث نمبر: 2247
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ؟ فَقَالَ: نُهِيَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَصْلُحَ، وَعَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ نَسَاءً بِنَاجِزٍ، وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ؟ فَقَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْهُ، أَوْ يَأْكُلَ مِنْهُ وَحَتَّى يُوزَنَ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابوالبختری نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کھجور میں جب کہ وہ درخت پر لگی ہوئی ہو بیع سلم کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ جب تک وہ کسی قابل نہ ہو جائے اس کی بیع سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح چاندی کو ادھار، نقد کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا۔ پھر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کی درخت پر بیع سلم کے متعلق پوچھا تو آپ نے بھی یہی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کھجور کی بیع سے منع فرمایا تھا جب تک وہ کھائی نہ جا سکے یا (یہ فرمایا کہ) جب تک وہ اس قابل نہ ہو جائے کہ اسے کوئی کھا سکے اور جب تک وہ تولنے کے قابل نہ ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2247]
بختری سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے درخت پر لگی ہوئی کھجور کی بیع سلم کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”درخت پر لگی ہوئی کھجور کی خرید و فروخت سے منع کیا گیا ہے حتیٰ کہ ان میں صلاحیت پیدا ہو جائے اور ادھار چاندی کے عوض نقد چاندی فروخت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔“ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے درخت پر لگی ہوئی کھجور میں سلم سے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی کھجور کی خرید و فروخت سے منع فرمایا تا آنکہ وہ کھانے کے قابل ہو جائیں اور وزن کے لائق ہو جائیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2247]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1486
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا , وَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاحِهَا، قَالَ: حَتَّى تَذْهَبَ عَاهَتُهُ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے عبداللہ بن دینار نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو (درخت پر) اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی پختگی ظاہر نہ ہو۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب پوچھتے کہ اس کی پختگی کیا ہے، وہ کہتے کہ جب یہ معلوم ہو جائے کہ اب یہ پھل آفت سے بچ رہے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 1486]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے تاآنکہ پختگی ظاہر ہوجائے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پختگی کے متعلق دریافت کیا جاتا تو فرماتے: ”جب وہ آفت سے محفوظ ہوجائیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 1486]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2246
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ، حَتَّى يُوكَلَ مِنْهُ، وَحَتَّى يُوزَنَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَأَيُّ شَيْءٍ يُوزَنُ، قَالَ رَجُلٌ: إِلَى جَانِبِهِ حَتَّى يُحْرَزَ، وَقَالَ مُعَاذٌ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالبختری طائی سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کے درخت میں بیع سلم کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ درخت پر پھل کو بیچنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کے لیے منع فرمایا تھا جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے یا اس کا وزن نہ کیا جا سکے۔ ایک شخص نے پوچھا کہ کیا چیز وزن کی جائے گی۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قریب ہی بیٹھے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ اندازہ کرنے کے قابل ہو جائے اور معاذ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے کہ ابوالبختری نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2246]
ابو بختری طائی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ جو کھجوریں درخت پر لگی ہوئی ہوں ان کے متعلق بیعِ سلم کرنا کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”درخت پر لگی کھجور کی بیع سے منع فرمایا ہے جب تک وہ کھانے کے قابل اور وزن کے لائق نہ ہو جائے“۔ ایک شخص نے پوچھا: کس چیز کا وزن کیا جائے؟ تو ایک شخص، جو ان کے پاس بیٹھا تھا، بولا: یعنی اندازہ کرنے کے لائق ہو جائے۔ ابو بختری نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت بایں الفاظ بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس جیسی بیع سے منع فرمایا ہے“۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2246]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة