🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب كراء الأرض بالذهب والفضة:
باب: نقدی لگان پر سونا چاندی کے بدل زمین دینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2347
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّايَ،" أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ، فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ". فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ هِيَ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ، وَقَالَ اللَّيْثُ: وَكَانَ الَّذِي نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ مَا لَوْ نَظَرَ فِيهِ ذَوُو الْفَهْمِ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ، لَمْ يُجِيزُوهُ لِمَا فِيهِ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ.
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حنظلہ بن قیس نے بیان کیا، ان سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے چچا (ظہیر اور مہیر رضی اللہ عنہما) نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین کو بٹائی پر نہر (کے قریب کی پیداوار) کی شرط پر دیا کرتے۔ یا کوئی بھی ایسا خطہ ہوتا جسے مالک زمین (اپنے لیے) چھانٹ لیتا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ حنظلہ نے کہا کہ اس پر میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا، اگر درہم و دینار کے بدلے یہ معاملہ کیا جائے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر دینار و درہم کے بدلے میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور لیث نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح کی بٹائی سے منع فرمایا تھا، وہ ایسی صورت ہے کہ حلال و حرام کی تمیز رکھنے والا کوئی بھی شخص اسے جائز نہیں قرار دے سکتا۔ کیونکہ اس میں کھلا دھوکہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2347]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے دونوں چچا (ظہیر اور مہیر رضی اللہ عنہم اجمعین) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں زمین اس پیداوار کے عوض کاشت پر دیتے تھے جو کھالوں کے آس پاس اگتی یا اسی چیز کے عوض جسے مالک زمین مستثنیٰ کر لیتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ (راوی حدیث حضرت حنظلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:) میں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ درہم و دینار کے عوض زمین ٹھیکے پر دینا کیسا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: درہم و دینار کے عوض زمین ٹھیکے پر دینے میں کوئی قباحت نہیں۔ (ایک اور راوی حدیث) حضرت لیث رحمہ اللہ کہتے ہیں: جس بٹائی سے منع کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر اس میں حلال و حرام سمجھنے والے غور و فکر کریں تو اس میں دھوکے کی وجہ سے اسے جائز قرار نہ دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2347]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2339
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ ظُهَيْرٌ:" لَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا، قُلْتُ: مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ، قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ؟ قُلْتُ: نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ، وَعَلَى الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ، قَالَ: لَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا أَوْ أَمْسِكُوهَا". قَالَ رَافِعٌ: قُلْتُ: سَمْعًا وَطَاعَةً.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں امام اوزاعی نے خبر دی، انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے غلام ابونجاشی نے، انہوں نے رافع بن خدیج بن رافع رضی اللہ عنہ سے سنا، اور انہوں نے اپنے چچا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ سے، ظہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کیا تھا جس میں ہمارا (بظاہر ذاتی) فائدہ تھا۔ اس پر میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بھی فرمایا وہ حق ہے۔ ظہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور دریافت فرمایا کہ تم لوگ اپنے کھیتوں کا معاملہ کس طرح کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہم اپنے کھیتوں کو (بونے کے لیے) نہر کے قریب کی زمین کی شرط پر دے دیتے ہیں۔ اسی طرح کھجور اور جَو کے چند وسق پر۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ یا خود اس میں کھیتی کیا کرو یا دوسروں سے کراؤ۔ ورنہ اسے یوں خالی ہی چھوڑ دو۔ رافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان) میں نے سنا اور مان لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2339]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میرے چچا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لیے بہت نفع بخش تھا۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ حق ہے۔ حضرت ظہیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر پوچھا: تم لوگ اپنے کھیتوں کا کیا کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ ہم ان کو نالی کے کنارے کی پیداوار نیز کھجور اور جو کے چند وسق کے عوض کرائے پر دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا مت کرو۔ تم خود کاشت کرو یا کسی کو کاشت کے لیے دے دو یا اسے اپنے پاس ہی رہنے دو۔ حضرت رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: جو ارشاد ہوا اسے ہم نے سنا اور دل سے مان لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2339]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4013
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَنَّ عَمَّيْهِ وَكَانَا شَهِدَا بَدْرًا أَخْبَرَاهُ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ" , قُلْتُ لِسَالِمٍ فَتُكْرِيهَا أَنْتَ، قَالَ: نَعَمْ إِنَّ رَافِعًا أَكْثَرَ عَلَى نَفْسِهِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے زہری نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی، بیان کیا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خبر دی کہ ان کے دو چچاؤں (ظہیر اور مظہر رافع بن عدی بن زید انصاری کے بیٹوں) جنہوں نے بدر کی لڑائی میں شرکت کی تھی، نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کیا تھا۔ میں نے سالم سے کہا لیکن آپ تو کرایہ پر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں، رافع رضی اللہ عنہ نے اپنے اوپر زیادتی کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 4013]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ ان کے دونوں چچا، جو جنگِ بدر میں شریک تھے، انہوں نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زرعی زمینوں کو ٹھیکے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ راویِ حدیث نے حضرت سالم رحمہ اللہ سے کہا: آپ تو زمین ٹھیکے پر دیتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، لیکن حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اپنے آپ پر سختی کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 4013]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں