🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب الرجل يكون له ممر، أو شرب فى حائط أو فى نخل
باب: باغ میں سے گزرنے کا حق یا کھجور کے درختوں میں پانی پلانے کا حصہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2383
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: حَدَّثَنِي بُشَيْرٌ مِثْلَهُ.
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابواسامہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے ولید بن کثیر نے خبر دی، کہا کہ مجھے بنی حارثہ کے غلام بشیر بن یسار نے خبر دی، ان سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ یعنی درخت پر لگے ہوئے کھجور کو خشک کی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، عریہ کرنے والوں کے علاوہ کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی تھی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ابن اسحاق نے کہا کہ مجھ سے بشیر نے اسی طرح یہ حدیث بیان کی تھی۔ (یہ تعلیق ہے کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن اسحاق کو نہیں پایا۔ حافظ نے کہا کہ مجھ کو یہ تعلیق موصلاً نہیں ملی۔) [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 2383]
حضرت رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةِ» مزابنہ یعنی درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کھجور کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا، البتہ آپ نے «الْعَرَايَا» عرایا والوں کو اس کی اجازت دی۔ ابن اسحاق نے کہا: مجھ سے بشیر نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 2383]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2191
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سَمِعْتُ بُشَيْرًا، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا"، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَبِيعُهَا أَهْلُهَا بِخَرْصِهَا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا، قَالَ: هُوَ سَوَاءٌ؟ قَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْتُ لِيَحْيَى: وَأَنَا غُلَامٌ إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يَقُولُونَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا، فَقَالَ: وَمَا يُدْرِي أَهْلَ مَكَّةَ؟ قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَرْوُونَهُ عَنْ جَابِرٍ، فَسَكَتَ، قَالَ سُفْيَانُ: إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنَّ جَابِرًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: وَلَيْسَ فِيهِ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ؟ قَالَ: لَا.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ میں نے بشیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کو توڑی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، البتہ عریہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے کہ عریہ والے اس کے بدل تازہ کھجور کھائیں۔ سفیان نے دوسری مرتبہ یہ روایت بیان کی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دے دی تھی۔ کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے، کھجور ہی کے بدلے میں۔ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یحییٰ سے پوچھا، اس وقت میں ابھی کم عمر تھا کہ مکہ کے لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی ہے تو انہوں نے پوچھا کہ اہل مکہ کو یہ کس طرح معلوم ہوا؟ میں نے کہا کہ وہ لوگ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ سفیان نے کہا کہ میری مراد اس سے یہ تھی کہ جابر رضی اللہ عنہ مدینہ والے ہیں۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی حدیث میں یہ ممانعت نہیں ہے کہ پھلوں کو بیچنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا جب تک ان کی پختگی نہ کھل جائے انہوں نے کہا کہ نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 2191]
حضرت سہیل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک کھجور کے عوض درخت پر لگی ہوئی تازہ کھجور کی بیع سے منع فرمایا، البتہ بیع عریہ کی آپ نے رخصت دی کہ اسے اندازہ کر کے فروخت کیا جا سکتا ہے تاکہ عریہ والے تازہ کھجور کھائیں۔ (راوی حدیث) حضرت سفیان رحمہ اللہ نے کبھی اس حدیث کو بایں الفاظ بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی کہ اندازہ کر کے اسے فروخت کیا جا سکتا ہے تاکہ اس کے مالک خود انہیں رطب کی شکل میں کھاتے رہیں۔ ان دونوں روایات کا مفہوم ایک ہی ہے۔ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: میں نے (اپنے شیخ) یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے عرض کیا، حالانکہ میں اس وقت کم سن بچہ تھا کہ اہل مکہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی اجازت دی۔ انہوں نے جواب دیا کہ اہل مکہ کو یہ کس طرح معلوم ہوا؟ (کیونکہ وہ تاجر پیشہ لوگ تھے، باغبانی کا پیشہ نہیں کرتے تھے۔) میں نے عرض کیا: وہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے تو وہ خاموش ہو گئے۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرا مقصد یہ تھا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ تو اہل مدینہ سے ہیں۔ سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا اس حدیث میں یہ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پہلے انہیں فروخت کرنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 2191]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں