🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. باب: {واذكر فى الكتاب مريم إذ انتبذت من أهلها} :
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ مریم میں) فرمایا ”(اس) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ایک پورب رخ مکان میں چلی گئی“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3436
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَى وَكَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ، يُقَالُ لَهُ: جُرَيْجٌ كَانَ يُصَلِّي جَاءَتْهُ أُمُّهُ فَدَعَتْهُ، فَقَالَ: أُجِيبُهَا أَوْ أُصَلِّي، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ وُجُوهَ الْمُومِسَاتِ وَكَانَ جُرَيْجٌ فِي صَوْمَعَتِهِ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ امْرَأَةٌ وَكَلَّمَتْهُ فَأَبَى فَأَتَتْ رَاعِيًا فَأَمْكَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَتْ: مِنْجُرَيْجٍ فَأَتَوْهُ فَكَسَرُوا صَوْمَعَتَهُ وَأَنْزَلُوهُ وَسَبُّوهُ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ثُمَّ أَتَى الْغُلَامَ، فَقَالَ: مَنْ أَبُوكَ يَا غُلَامُ، قَالَ: الرَّاعِي، قَالُوا: نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: لَا إِلَّا مِنْ طِينٍ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ تُرْضِعُ ابْنًا لَهَا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ رَاكِبٌ ذُو شَارَةٍ، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهُ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا وَأَقْبَلَ عَلَى الرَّاكِبِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ثَدْيِهَا يَمَصُّهُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَصُّ إِصْبَعَهُ ثُمَّ مُرَّ بِأَمَةٍ، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذِهِ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا، فَقَالَتْ: لِمَ ذَاكَ، فَقَالَ: الرَّاكِبُ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَهَذِهِ الْأَمَةُ يَقُولُونَ سَرَقْتِ زَنَيْتِ وَلَمْ تَفْعَلْ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گود میں تین بچوں کے سوا اور کسی نے بات نہیں کی۔ اول عیسیٰ علیہ السلام (دوسرے کا واقعہ یہ ہے کہ) بنی اسرائیل میں ایک بزرگ تھے، نام جریج تھا۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کی ماں نے انہیں پکارا۔ انہوں نے۔ (اپنے دل میں) کہا کہ میں والدہ کا جواب دوں یا نماز پڑھتا رہوں؟ اس پر ان کی والدہ نے (غصہ ہو کر) بددعا کی: اے اللہ! اس وقت تک اسے موت نہ آئے جب تک یہ زانیہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔ جریج اپنے عبادت خانے میں رہا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کے سامنے ایک فاحشہ عورت آئی اور ان سے بدکاری چاہی لیکن انہوں نے (اس کی خواہش پوری کرنے سے) انکار کیا۔ پھر ایک چرواہے کے پاس آئی اور اسے اپنے اوپر قابو دے دیا اس سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ اور اس نے ان پر یہ تہمت دھری کہ یہ جریج کا بچہ ہے۔ ان کی قوم کے لوگ آئے اور ان کا عبادت خانہ توڑ دیا، انہیں نیچے اتار کر لائے اور انہیں گالیاں دیں۔ پھر انہوں نے وضو کر کے نماز پڑھی، اس کے بعد بچے کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ تیرا باپ کون ہے؟ بچہ (اللہ کے حکم سے) بول پڑا کہ چرواہا ہے اس پر (ان کی قوم شرمندہ ہوئی اور) کہا ہم آپ کا عبادت خانہ سونے کا بنائیں گے۔ لیکن انہوں نے کہا ہرگز نہیں، مٹی ہی کا بنے گا (تیسرا واقعہ) اور ایک بنی اسرائیل کی عورت تھی، اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔ قریب سے ایک سوار نہایت عزت والا اور خوش پوش گزرا۔ اس عورت نے دعا کی: اے اللہ! میرے بچے کو بھی اسی جیسا بنا دے لیکن بچہ (اللہ کے حکم سے) بول پڑا کہ اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا۔ پھر اس کے سینے سے لگ کر دودھ پینے لگا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جیسے میں اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی چوس رہے ہیں (بچے کے دودھ پینے کی کیفیت بتلاتے وقت) پھر ایک باندی اس کے قریب سے لے جائی گئی (جسے اس کے مالک مار رہے تھے) تو اس عورت نے دعا کی کہ اے اللہ! میرے بچے کو اس جیسا نہ بنانا۔ بچے نے پھر اس کا پستان چھوڑ دیا اور کہا کہ اے اللہ! مجھے اسی جیسا بنا دے۔ اس عورت نے پوچھا۔ ایسا تو کیوں کہہ رہا ہے؟ بچے نے کہا کہ وہ سوار ظالموں میں سے ایک ظالم شخص تھا اور اس باندی سے لوگ کہہ رہے تھے کہ تم نے چوری کی اور زنا کیا حالانکہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3436]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: صرف تین بچوں نے گہوارے (پنگوارے، جھولے) میں گفتگو کی ہے: حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے۔ دوسرے بنی اسرائیل میں جریج نامی ایک شخص تھا، وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں آئی اور اس نے اسے بلایا۔ جریج نے (دل میں) سوچا کہ نماز پڑھوں یا والدہ کو جواب دوں (آخر اس نے جواب نہ دیا) اس کی والدہ نے بددعا دی اور کہا: اے اللہ! یہ اس وقت تک نہ مرے تا آنکہ تو اسے زنا کار عورتوں کی صورت دکھائے۔ پھر ایسا ہوا کہ جریج اپنے عبادت خانے میں تھا، ایک فاحشہ عورت آئی اور اس نے بدکاری کے متعلق گفتگو کی لیکن جریج نے انکار کر دیا۔ پھر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی تو اس سے منہ کالا کیا۔ آخر اس نے ایک بچہ جنم دیا اور یہ کہہ دیا کہ بچہ جریج کا ہے، چنانچہ لوگ جریج کے پاس آئے اور اس کے عبادت خانے کو توڑ پھوڑ دیا، اسے نیچے اتارا اور خوب گالیاں دیں۔ جریج نے وضو کیا اور نماز پڑھی، پھر اس بچے کے پاس آ کر کہا: اے بچے! تیرا باپ کون ہے؟ اس نے کہا: فلاں چرواہا۔ یہ حال دیکھ کر لوگوں نے کہا: ہم تیرا عبادت خانہ سونے (کی اینٹوں) سے بنا دیتے ہیں۔ اس نے کہا: نہیں، مٹی سے ہی (بنا دو)۔ تیسرے یہ کہ بنی اسرائیل کی ایک عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی کہ ادھر سے ایک خوش وضع سوار گزرا تو عورت اسے دیکھ کر کہنے لگی: اے اللہ! تو میرے بچے کو بھی ایسا کر دے۔ اس بچے نے ماں کا پستان چھوڑ کر سوار کی طرف منہ کر کے کہا: اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ کرنا۔ پھر وہ اپنی ماں کا پستان چوسنے لگا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں وہ اپنی انگلی چوس کر دودھ پینے کی کیفیت بیان کر رہے ہیں۔ پھر ایک لونڈی ادھر سے گزری تو ماں نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس جیسا نہ کرنا۔ بچے نے پھر پستان چھوڑ کر کہا: اے اللہ! مجھے اس جیسا کر دے۔ اس کی ماں نے کہا: میرے بچے بات کیا ہے؟ بچے نے کہا: وہ سوار متکبرین میں سے ایک متکبر اور خود پسند تھا اور یہ لونڈی بے قصور ہے۔ لوگ اسے کہتے ہیں کہ تو نے چوری کی ہے، تو نے زنا کیا ہے، حالانکہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3436]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1206
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ , قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَادَتِ امْرَأَةٌ ابْنَهَا وَهُوَ فِي صَوْمَعَةٍ , قَالَتْ: يَا جُرَيْجُ، قَالَ: اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي، قَالَتْ: يَا جُرَيْجُ، قَالَ: اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي، قَالَتْ: يَا جُرَيْجُ، قَالَ: اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي، قَالَتْ: اللَّهُمَّ لَا يَمُوتُ جُرَيْجٌ حَتَّى يَنْظُرَ فِي وُجُوهِ الْمَيَامِيسِ، وَكَانَتْ تَأْوِي إِلَى صَوْمَعَتِهِ رَاعِيَةٌ تَرْعَى الْغَنَمَ فَوَلَدَتْ، فَقِيلَ لَهَا: مِمَّنْ هَذَا الْوَلَدُ؟ قَالَتْ: مِنْ جُرَيْجٍ، نَزَلَ مِنْ صَوْمَعَتِهِ، قَالَ جُرَيْجٌ: أَيْنَ هَذِهِ الَّتِي تَزْعُمُ أَنَّ وَلَدَهَا لِي؟ قَالَ: يَا بَابُوسُ مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: رَاعِي الْغَنَمِ
اور لیث بن سعد نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، (بنی اسرائیل کی) ایک عورت نے اپنے بیٹے کو پکارا، اس وقت وہ عبادت خانے میں تھا۔ ماں نے پکارا کہ اے جریج! جریج (پس و پیش میں پڑ گیا اور دل میں) کہنے لگا کہ اے اللہ! میں اب ماں کو دیکھوں یا نماز کو۔ پھر ماں نے پکارا: اے جریج! (وہ اب بھی اس پس و پیش میں تھا) کہ اے اللہ! میری ماں اور میری نماز! ماں نے پھر پکارا: اے جریج! (وہ اب بھی یہی) سوچے جا رہا تھا۔ اے اللہ! میری ماں اور میری نماز! (آخر) ماں نے تنگ ہو کر بددعا کی اے اللہ! جریج کو موت نہ آئے جب تک وہ فاحشہ عورت کا چہرہ نہ دیکھ لے۔ جریج کی عبادت گاہ کے قریب ایک چرانے والی آیا کرتی تھی جو بکریاں چراتی تھی۔ اتفاق سے اس کے بچہ پیدا ہوا۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ کس کا بچہ ہے؟ اس نے کہا کہ جریج کا ہے۔ وہ ایک مرتبہ اپنی عبادت گاہ سے نکل کر میرے پاس رہا تھا۔ جریج نے پوچھا کہ وہ عورت کون ہے؟ جس نے مجھ پر تہمت لگائی ہے کہ اس کا بچہ مجھ سے ہے۔ (عورت بچے کو لے کر آئی تو) انہوں نے بچے سے پوچھا کہ بچے! تمہارا باپ کون؟ بچہ بول پڑا کہ ایک بکری چرانے والا گڈریا میرا باپ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 1206]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت نے اپنے بیٹے کو آواز دی جبکہ وہ اپنے عبادت خانے میں (مصروف عبادت) تھا، اس نے کہا: اے جریج! جریج نے (دل میں) کہا: اے اللہ! ایک طرف میری والدہ ہے، دوسری طرف میری نماز ہے۔ وہ پھر بولی: اے جریج! جریج گویا ہوا: یا اللہ! میری والدہ اور میری نماز، میں کسے اختیار کروں؟ اس عورت نے تیسری مرتبہ پکارا: اے جریج! اس نے پھر وہی کہا: یا اللہ! ادھر میری والدہ ہے، ادھر میری نماز ہے۔ (بہرحال اس نے نماز کو نہ چھوڑا تو) ماں نے بددعا کی: اے اللہ! جریج کو موت نہ آئے جب تک وہ بدمعاش عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے، چنانچہ اس کے عبادت خانے کے پاس ایک بکریاں چرانے والی عورت ٹھہرا کرتی تھی۔ اس نے ایک بچے کو جنم دیا تو اس سے کہا گیا: یہ بچہ کس شخص کا ہے؟ وہ کہنے لگی: (نومولود) جریج سے ہے۔ وہ یہ الزام سن کر اپنے عبادت خانے سے نیچے اترا اور کہنے لگا: وہ عورت کہاں ہے جو دعویٰ کرتی ہے کہ یہ بچہ مجھ سے ہے؟ جریج نے بچے کو مخاطب کر کے کہا: اے شیر خوار! تیرا باپ کون ہے؟ اس نے کہا: میرا باپ بکریاں چرانے والا ایک گڈریا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 1206]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں