🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب صفة النبى صلى الله عليه وسلم:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ اور اخلاق فاضلہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3555
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ عَلَيْهَا مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعِي مَا، قَالَ: الْمُدْلِجِيُّ لِزَيْدٍ وَأُسَامَةَ وَرَأَى أَقْدَامَهُمَا إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الْأَقْدَامِ مِنْ بَعْضٍ".
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں بہت ہی خوش خوش داخل ہوئے، خوشی اور مسرت سے پیشانی کی لکیریں چمک رہی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! تم نے سنا نہیں مجزز مدلجی نے زید و اسامہ کے صرف قدم دیکھ کر کیا بات کہی؟ اس نے کہا کہ ایک کے پاؤں دوسرے کے پاؤں سے ملتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3555]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ میرے ہاں بہت ہی خوش خوش داخل ہوئے، خوشی اور مسرت سے آپ کی پیشانی کی شکنیں چمک رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے عائشہ رضی اللہ عنہا!) تم نے نہیں سنا کہ مجزز مدلجی نے زید اور اسامہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں کیا کہا ہے؟ اس نے ان دونوں کے قدموں کو دیکھ کر کہا کہ یہ پاؤں تو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، یعنی باپ بیٹے کے قدم ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3555]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3731
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيَّ قَائِفٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مُضْطَجِعَانِ"، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ، قَالَ: فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ فَأَخْبَرَ بِهِ عَائِشَةَ".
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک قیافہ شناس میرے یہاں آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وہیں تشریف رکھتے تھے اور اسامہ بن زید اور زید بن حارثہ (ایک چادر میں) لیٹے ہوئے تھے۔ (منہ اور جسم کا سارا حصہ قدموں کے سوا چھپا ہوا تھا) اس قیافہ شناس نے کہا کہ یہ پاؤں بعض، بعض سے نکلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ (یعنی باپ بیٹے کے ہیں) قیافہ شناس نے پھر بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اس اندازہ پر بہت خوش ہوئے اور پھر آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہ واقعہ بیان فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3731]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک قیافہ شناس میرے پاس آیا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی میرے پاس موجود تھے۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اور (ان کے والد گرامی) حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ دونوں لیٹے ہوئے تھے تو اس قیافہ شناس نے کہا: یہ دونوں پاؤں باہم ایک دوسرے سے پیدا ہوئے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اس انکشاف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور یہ بات آپ کو بہت پسند آئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا اظہار کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3731]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6770
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں ایک مرتبہ بہت خوش خوش تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمک رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے نہیں دیکھا، مجزز (ایک قیافہ شناس) نے ابھی ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے (صرف پاؤں دیکھے) اور کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6770]
سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں ایک دفعہ بہت خوش خوش تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کے خطوط چمک رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! تم نے نہیں دیکھا کہ مجزز (قیافہ شناس) نے ابھی ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6770]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6771
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مَسْرُورٌ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ، قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش تھے اور فرمایا عائشہ! تم نے دیکھا نہیں، مجزز مدلجی آیا اور اس نے اسامہ اور زید (رضی اللہ عنہما) کو دیکھا، دونوں کے جسم پر ایک چادر تھی، جس نے دونوں کے سروں کو ڈھک لیا تھا اور ان کے صرف پاؤں کھلے ہوئے تھے تو اس نے کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6771]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں بہت خوش خوش تشریف لائے اور فرمایا: اے عائشہ! تم نے نہیں دیکھا کہ مجزز مدلجی آیا اور اس نے اسامہ رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کو دیکھا جبکہ ان دونوں کے جسم پر ایک چادر تھی، جس نے دونوں کے سروں کو چھپا رکھا تھا، ان کے صرف پاؤں کھلے تھے تو اس نے کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6771]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں