🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب صفة النبى صلى الله عليه وسلم:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ اور اخلاق فاضلہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3558
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَسْدِلُ شَعَرَهُ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ، فَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ، ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سر کے آگے کے بالوں کو پیشانی پر) پڑا رہنے دیتے تھے اور مشرکین کی یہ عادت تھی کہ وہ آگے کے سر کے بال دو حصوں میں تقسیم کر لیتے تھے (پیشانی پر پڑا نہیں رہنے دیتے تھے) اور اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) سر کے آگے کے بال پیشانی پر پڑا رہنے دیتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات میں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم آپ کو نہ ملا ہوتا۔ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے (اور حکم نازل ہونے کے بعد وحی پر عمل کرتے تھے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سر میں مانگ نکالنے لگے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3558]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کے بال لٹکائے رکھتے، جبکہ مشرکین اپنے سر کے بالوں کی مانگ نکالتے، لیکن اہل کتاب اپنے سر کے بالوں کو لٹکاتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس بات کے متعلق کوئی حکم نہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اہل کتاب کی موافقت پسند کرتے تھے۔ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سر میں مانگ نکالنے لگے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3558]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3944
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدِلُ شَعْرَهُ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ , وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ رُءُوسَهُمْ , وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ , ثُمَّ فَرَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یونس نے، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر کے بال کو پیشانی پر لٹکا دیتے تھے اور مشرکین مانگ نکالتے تھے اور اہل کتاب بھی اپنے سروں کے بال پیشانی پر لٹکائے رہنے دیتے تھے۔ جن امور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (وحی کے ذریعہ) کوئی حکم نہیں ہوتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں اہل کتاب کی موافقت پسند کرتے تھے۔ پھر بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مانگ نکالنے لگے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3944]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سر کے بال پیشانی پر لٹکاتے تھے جبکہ قریش مانگ نکالتے تھے اور اہل کتاب بھی سر کے بال اپنی پیشانیوں پر لٹکائے رکھتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس معاملے کے متعلق اللہ کا حکم نہ آتا تھا آپ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے۔ بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مانگ نکالنے لگے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3944]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5917
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ، وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ، فَسَدَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر کسی مسئلہ میں کوئی حکم معلوم نہ ہوتا تو آپ اس میں اہل کتاب کے عمل کو اپناتے تھے۔ اہل کتاب اپنے سر کے بال لٹکائے رکھتے اور مشرکین مانگ نکالتے تھے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی (اہل کتاب کی موافقت میں) پہلے سر کے بال پیشانی کی طرف لٹکاتے لیکن بعد میں آپ بیچ میں سے مانگ نکالنے لگے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 5917]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی مسئلے میں کوئی حکم معلوم نہ ہوتا تو آپ اس میں اہل کتاب کی موافقت کرتے تھے، اہل کتاب اپنے بالوں کو لٹکائے رکھتے اور مشرکین مانگ نکالتے تھے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی کے بال لٹکائے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مانگ نکالتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 5917]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں