صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب قول النبى صلى الله عليه وسلم: لو كنت متخذا خليلا :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔
حدیث نمبر: 3668
فَحَمِدَ اللَّهَ أَبُو بَكْرٍ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ:" أَلَا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ , وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ"، وَقَالَ: إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ سورة الزمر آية 30، وَقَالَ: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ سورة آل عمران آية 144، قَالَ: فَنَشَجَ النَّاسُ يَبْكُونَ، قَالَ: وَاجْتَمَعَتْ الْأَنْصَارُ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، فَقَالُوا: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ فَذَهَبَ إِلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ , وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، فَذَهَبَ عُمَرُ يَتَكَلَّمُ فَأَسْكَتَهُ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ عُمَرُ، يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِذَلِكَ إِلَّا أَنِّي قَدْ هَيَّأْتُ كَلَامًا قَدْ أَعْجَبَنِي خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْلُغَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَتَكَلَّمَ أَبْلَغَ النَّاسِ، فَقَالَ: فِي كَلَامِهِ نَحْنُ الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، فَقَالَ: حُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ لَا وَاللَّهِ لَا نَفْعَلُ مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَا وَلَكِنَّا الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ دَارًا وَأَعْرَبُهُمْ أَحْسَابًا , فَبَايِعُوا عُمَرَ أَوْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، فَقَالَ عُمَرُ: بَلْ نُبَايِعُكَ أَنْتَ فَأَنْتَ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا , وَأَحَبُّنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخَذَ عُمَرُ بِيَدِهِ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ النَّاسُ، فَقَالَ: قَائِلٌ قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، فَقَالَ: عُمَرُ قَتَلَهُ اللَّهُ.
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا: لوگو! دیکھو اگر کوئی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پوجتا تھا (یعنی یہ سمجھتا تھا کہ وہ آدمی نہیں ہیں، وہ کبھی نہیں مریں گے) تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی ہے اور جو شخص اللہ کی پوجا کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اسے موت کبھی نہیں آئے گی۔ (پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سورۃ الزمر کی یہ آیت پڑھی) «إنك ميت وإنهم ميتون» ”اے پیغمبر! تو بھی مرنے والا ہے اور وہ بھی مریں گے۔“ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا وسيجزي الله الشاكرين» ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک رسول ہیں۔ اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پس کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا انہیں شہید کر دیا جائے تو تم اسلام سے پھر جاؤ گے اور جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور اللہ عنقریب شکر گزار بندوں کو بدلہ دینے والا ہے۔“ راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر لوگ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ راوی نے بیان کیا کہ انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر تم (مہاجرین) میں سے ہو گا (دونوں مل کر حکومت کریں گے) پھر ابوبکر، عمر بن خطاب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم ان کی مجلس میں پہنچے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کرنی چاہی لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے خاموش رہنے کے لیے کہا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم میں نے ایسا صرف اس وجہ سے کیا تھا کہ میں نے پہلے ہی سے ایک تقریر تیار کر لی تھی جو مجھے بہت پسند آئی تھی پھر بھی مجھے ڈر تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی برابری اس سے بھی نہیں ہو سکے گی۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انتہائی بلاغت کے ساتھ بات شروع کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ ہم (قریش) امراء ہیں اور تم (جماعت انصار) وزارء ہو۔ اس پر حباب بن منذر رضی اللہ عنہ بولے کہ نہیں اللہ کی قسم ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر تم میں سے ہو گا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں ہم امراء ہیں تم وزارء ہو (وجہ یہ ہے کہ) قریش کے لوگ سارے عرب میں شریف خاندان شمار کیے جاتے ہیں اور ان کا ملک (یعنی مکہ) عرب کے بیچ میں ہے تو اب تم کو اختیار ہے یا تو عمر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لو یا ابوعبیدہ بن جراح کی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں ہم آپ کی ہی بیعت کریں گے۔ آپ ہمارے سردار ہیں، ہم میں سب سے بہتر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آپ ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی پھر سب لوگوں نے بیعت کی۔ اتنے میں کسی کی آواز آئی کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو تم لوگوں نے مار ڈالا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں اللہ نے مار ڈالا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3668]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”توجہ سے سنو! جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو بے شک اللہ تعالیٰ زندہ جاوید ہے اور اس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔“ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ﴾ [سورة الزمر: 30] ”بے شک آپ مرنے والے ہیں اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔“ نیز یہ آیت بھی تلاوت فرمائی: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ﴾ [سورة آل عمران: 144] ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف رسول ہیں۔ آپ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ اگر آپ وفات پا جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو کیا تم سب اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے گا وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو اچھی جزا دے گا۔“ یہ سن کر لوگ بے اختیار رونے لگے اور انصار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس سقیفہ بنو ساعدہ میں جمع ہو گئے اور کہنے لگے: ”ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر تم میں سے ہو گا۔“ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تقریر کرنا چاہتے تھے، لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں چپ کرا دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ” «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ میرا ارادہ یہ تھا کہ میں نے ایک بہت اچھی تقریر تیار کر لی تھی۔ میرا خیال تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ معاملے کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکیں گے۔“ بہرحال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تقریر شروع کی۔ واقعی وہ تمام لوگوں سے زیادہ بلیغ ثابت ہوئے۔ انہوں نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا: ”ہم مہاجرین امراء اور حکام ہوں گے اور تم انصار ہمارے وزیر ہوں گے۔“ اس دوران میں حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ایک امیر ہم میں سے اور ایک امیر تم میں سے ہو گا۔“ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایسا نہیں ہو گا بلکہ ہم امراء ہوں گے اور تم وزراء ہو گے کیونکہ محل وقوع کے اعتبار سے قریش تمام عربوں سے بہتر اور افعال و کردار کے لحاظ سے افضل ہیں، لہذا تم سب عمر یا ابوعبیدہ بن جراح کی بیعت کر لو۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، ہم تو آپ ہی کی بیعت کریں گے کیونکہ آپ ہمارے سردار، ہم میں سے افضل اور ہم سب میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہیں۔“ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان کی بیعت کر لی اور اس کے بعد تمام لوگوں نے آپ کی بیعت کر لی۔ کسی کہنے والے نے کہا: ”تم نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو ہلاک کر ڈالا ہے (یعنی اسے نظر انداز کر دیا ہے)۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے تو اللہ نے ہلاک کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3668]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 142
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ"، تَابَعَهُ ابْنُ عَرْعَرَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ: إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ، وَقَالَ مُوسَى، عَنْ حَمَّادٍ، إِذَا دَخَلَ، وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ.
ہم سے آدم نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے عبدالعزیز بن صہیب کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (قضائے حاجت کے لیے) بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ (دعا) پڑھتے «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 142]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلا جاتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» ”اے اللہ! میں ناپاک چیزوں اور ناپاکیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ ابن عرعرہ نے اس حدیث کی شعبہ سے بیان کرنے میں متابعت کی ہے اور غندر نے شعبہ سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: جب آپ بیت الخلا کے لیے آتے ( «دَخَلَ» کے بجائے «أَتَى» کا لفظ استعمال کیا) اور موسیٰ نے حماد کے واسطے سے بیان کیا: جب داخل ہوتے اور سعید بن زید نے کہا: ہمیں عبدالعزیز نے بیان کیا کہ جب آپ بیت الخلا جانے کا ارادہ فرماتے (تو مذکورہ دعا پڑھتے)۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 142]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة