صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب إسلام عمر بن الخطاب رضي الله عنه:
باب: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ۔
حدیث نمبر: 3864
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي جَدِّي زَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" بَيْنَمَا هُوَ فِي الدَّارِ خَائِفًا إِذْ جَاءَهُ الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ السَّهْمِيُّ أَبُو عَمْرٍو عَلَيْهِ حُلَّةُ حِبَرَةٍ , وَقَمِيصٌ مَكْفُوفٌ بِحَرِيرٍ وَهُوَ مِنْ بَنِي سَهْمٍ وَهُمْ حُلَفَاؤُنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ لَهُ: مَا بَالُكَ؟ قَالَ: زَعَمَ قَوْمُكَ أَنَّهُمْ سَيَقْتُلُونِي إِنْ أَسْلَمْتُ، قَالَ: لَا سَبِيلَ إِلَيْكَ بَعْدَ أَنْ أَمِنْتُ فَخَرَجَ الْعَاصِ فَلَقِيَ النَّاسَ قَدْ سَالَ بِهِمْ الْوَادِي، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُونَ؟ فَقَالُوا: نُرِيدُ هَذَا ابْنَ الْخَطَّابِ الَّذِي صَبَا، قَالَ: لَا سَبِيلَ إِلَيْهِ , فَكَرَّ النَّاسُ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے دادا زید بن عبداللہ بن عمرو نے خبر دی، ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ (اسلام لانے کے بعد قریش سے) ڈرے ہوئے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابوعمرو عاص بن وائل سہمی اندر آیا، ایک دھاری دار چادر اور ریشمی کرتہ پہنے ہوئے تھا۔ وہ قبیلہ بنو سہم سے تھا جو زمانہ جاہلیت میں ہمارے حلیف تھے۔ عاص نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کیا بات ہے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہاری قوم بنو سہم والے کہتے ہیں کہ اگر میں مسلمان ہوا تو وہ مجھ کو مار ڈالیں گے۔ عاص نے کہا ”تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا“ جب عاص نے یہ کلمہ کہہ دیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں بھی اپنے کو امان میں سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد عاص باہر نکلا تو دیکھا کہ میدان لوگوں سے بھر گیا ہے۔ عاص نے پوچھا کدھر کا رخ ہے؟ لوگوں نے کہا ہم ابن خطاب کی خبر لینے جاتے ہیں جو بےدین ہو گیا ہے۔ عاص نے کہا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، یہ سنتے ہی لوگ لوٹ گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3864]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں خوفزدہ تھے۔ اچانک ان کے پاس ابو عمرو عاص بن وائل سہمی آیا جو ایک دھاری دار خوبصورت چادر اور ریشمی کرتا پہنے ہوئے تھا۔ وہ قبیلہ بنو سہم سے تھا جو زمانہ جاہلیت میں ہمارے حلیف تھے۔ اس نے کہا: ”تمہارا کیا حال ہے؟“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تمہاری قوم کہتی ہے کہ اگر میں نے اسلام قبول کر لیا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے۔“ عاص نے کہا: ”تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔“ عاص کی اس بات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب میں امان میں آ گیا ہوں۔ عاص باہر نکلا اور لوگوں سے ملا جبکہ مکہ کا میدان لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ عاص نے ان سے کہا: ”تم کہاں جا رہے ہو؟“ لوگوں نے کہا: ”ہم ابن خطاب کی خبر لینے جا رہے ہیں جو بے دین ہو چکا ہے۔“ عاص نے کہا: ”اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔“ یہ سن کر لوگ واپس چلے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3864]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3865
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: سَمِعْتُهُ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:" لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عِنْدَ دَارِهِ، وَقَالُوا: صَبَا عُمَرُ وَأَنَا غُلَامٌ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِي , فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْ دِيبَاجٍ، فَقَالَ: قَدْ صَبَا عُمَرُ فَمَا ذَاكَ فَأَنَا لَهُ جَارٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ النَّاسَ تَصَدَّعُوا عَنْهُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمرو بن دینار سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو لوگ ان کے گھر کے قریب جمع ہو گئے اور کہنے لگے کہ عمر بےدین ہو گیا ہے۔ میں ان دنوں بچہ تھا اور اس وقت اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ہوا تھا۔ اچانک ایک شخص آیا جو ریشم کی قباء پہنے ہوئے تھا، اس شخص نے لوگوں سے کہا ٹھیک ہے عمر بےدین ہو گیا لیکن یہ مجمع کیسا ہے؟ دیکھو میں عمر کو پناہ دے چکا ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ اس کی یہ بات سنتے ہی لوگ الگ الگ ہو گئے۔ میں نے پوچھا یہ کون صاحب تھے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ عاص بن وائل ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3865]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو لوگ ان کے گھر کے قریب جمع ہو گئے اور کہنے لگے کہ ”عمر بے دین ہو گیا ہے۔“ میں ان دنوں بچہ تھا اور اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ہوا تھا۔ اچانک ایک آدمی آیا جس نے ریشمی قبا پہن رکھی تھی۔ اس نے کہا: ”عمر اپنے دین سے پھر گیا ہے تو کیا ہوا! میں اسے پناہ دیتا ہوں۔“”ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ سن کر لوگ منتشر ہو گئے۔ میں نے پوچھا: ”یہ صاحب کون تھے؟“ تو لوگوں نے کہا: ”یہ عاص بن وائل ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3865]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة