صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. باب المعراج:
باب: معراج کا بیان۔
حدیث نمبر: 3888
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ سورة الإسراء آية 60، قَالَ:" هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ، قَالَ:" هِيَ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ".
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ کے ارشاد «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھایا اس سے مقصد صرف لوگوں کا امتحان تھا) فرمایا کہ اس میں رؤیا سے آنکھ سے دیکھنا ہی مراد ہے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معراج کی رات میں دکھایا گیا تھا جس میں آپ کو بیت المقدس تک لے جایا گیا تھا اور قرآن مجید میں «الشجرة الملعونة» کا ذکر آیا ہے وہ تھوہڑ کا درخت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3888]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ﴾ [سورة الإسراء: 60] ”اور وہ منظر جو ہم نے آپ کو دکھایا صرف لوگوں کی آزمائش کے لیے تھا۔“ سے مراد خواب نہیں بلکہ یہ «رُؤْيَا عَيْنٍ» ”آنکھ کی رؤیت“ تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی رات دکھائی گئی جس رات آپ کو بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تھی۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”قرآن میں «الشَّجَرَةُ الْمَلْعُونَةُ» ”شجرہ ملعونہ“ سے مراد «شَجَرَةُ الزَّقُّومِ» ”تھوہر کا درخت“ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3888]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4716
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ سورة الإسراء آية 60، قَالَ:" هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ، أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ، وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ سورة الإسراء آية 60، شَجَرَةُ الزَّقُّومِ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آیت «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» میں «رؤيا» سے آنکھ کا دیکھنا مراد ہے (بیداری میں نہ کہ خواب میں) یعنی وہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج میں دکھایا گیا اور «شجرة الملعونة» سے تھوہڑ کا درخت مراد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 4716]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے درج ذیل آیت ﴿وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ﴾ [سورة الإسراء: 60] کے متعلق فرمایا: ”اور وہ مناظر جو ہم نے آپ کو دکھائے تھے وہ لوگوں کے لیے صاف آزمائش ہی تھے، اس «الرُّؤْيَا» سے مراد آنکھ کا دیکھنا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ معراج میں دکھایا گیا۔ اور وہ درخت جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، اس سے مراد تھوہر کا درخت ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 4716]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6613
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:" وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ سورة الإسراء آية 60، قَالَ: هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ"، قَالَ:" وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ، قَالَ: هِيَ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ".
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» ”اور وہ رؤیا جو ہم نے تمہیں دکھایا ہے اسے ہم نے صرف لوگوں کے لیے آزمائش بنایا ہے۔“ کے متعلق کہا کہ اس سے مراد آنکھ کا دیکھنا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معراج کی رات دکھایا گیا تھا۔ جب آپ کو بیت المقدس تک رات کو لے جایا گیا تھا، کہا کہ قرآن مجید میں «الشجرة الملعونة» سے مراد «زقوم.» کا درخت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 6613]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے درج ذیل آیت ﴿وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ﴾ [سورة الإسراء: 60] کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”وہ منظر جو ہم نے آپ کو دکھایا ہے اسے ہم نے لوگوں کے لیے باعثِ آزمائش بنایا ہے۔“ انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد آنکھ سے دیکھنا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی رات دکھایا گیا جب آپ کو بیت المقدس تک رات کے وقت سیر کرائی گئی۔“ قرآن مجید میں «الشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ» سے مراد زقوم کا درخت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 6613]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة