صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب وفود الأنصار إلى النبى صلى الله عليه وسلم بمكة وبيعة العقبة:
باب: مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے وفود کا آنا اور بیعت عقبہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3889
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ. ح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بِطُولِهِ، قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ:" وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند)، امام بخاری نے کہا اور ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن کعب نے جب وہ نابینا ہو گئے تو وہ چلتے پھرتے وقت ان کو پکڑ کر لے چلتے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کا طویل واقعہ بیان کرتے تھے ابن بکیر نے اپنی روایت میں بیان کیا کہ کعب نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عقبہ کی رات میں حاضر تھا جب ہم نے اسلام پر قائم رہنے کا پختہ عہد کیا تھا، میرے نزدیک (لیلۃالعقبہ کی بیعت) بدر کی لڑائی میں حاضری سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے اگرچہ لوگوں میں بدر کا چرچہ اس سے زیادہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3889]
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تھے تو وہ انہیں چلتے پھرتے وقت پکڑ کر چلتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے کا طویل واقعہ سنا۔“ ابن بکیر نے اپنی روایت میں بیان کیا کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں عقبہ کی رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا جب ہم نے اسلام پر قائم رہنے کا پختہ عہد کیا تھا۔ اگرچہ لوگوں میں غزوہ بدر کا چرچا زیادہ ہے لیکن میرے نزدیک عقبہ کی بیعت، بدر کی لڑائی میں حاضری سے زیادہ پسندیدہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3889]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2757
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میری توبہ (غزوہ تبوک میں نہ جانے کی) قبول ہونے کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں دیدوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اپنے مال کا ایک حصہ اپنے پاس ہی باقی رکھو تو تمہارے حق میں یہ بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا کہ پھر میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے پاس محفوظ رکھتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 2757]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری توبہ کا اتمام یہ ہے کہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرکے اس سے دستبردار ہوجاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ اپنے پاس بھی رکھو، یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔“ میں نے عرض کیا: اپنا وہ حصہ اپنے پاس رکھ لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 2757]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة