🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب فضل من شهد بدرا:
باب: بدر کی لڑائی میں حاضر ہونے والوں کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3982
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" أُصِيبَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ غُلَامٌ , فَجَاءَتْ أُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْتَ مَنْزِلَةَ حَارِثَةَ مِنِّي فَإِنْ يَكُنْ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرْ وَأَحْتَسِبْ , وَإِنْ تَكُ الْأُخْرَى تَرَى مَا أَصْنَعُ، فَقَالَ:" وَيْحَكِ أَوَهَبِلْتِ أَوَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ , إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ , وَإِنَّهُ فِي جَنَّةِ الْفِرْدَوْسِ".
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ‘ ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے حمید نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ حارثہ بن سراقہ انصاری رضی اللہ عنہ جو ابھی نوعمر لڑکے تھے ‘ بدر کے دن شہید ہو گئے تھے (پانی پینے کے لیے حوض پر آئے تھے کہ ایک تیر نے شہید کر دیا) پھر ان کی والدہ (ربیع بنت النصر ‘ انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے کہ مجھے حارثہ سے کتنا پیار تھا۔ اگر وہ اب جنت میں ہے تو میں اس پر صبر کروں گی اور اللہ تعالیٰ کی امید رکھوں گی اور اگر کہیں دوسری جگہ ہے تو آپ دیکھ رہے ہیں کہ میں کس حال میں ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تم پر رحم کرے، کیا دیوانی ہو رہی ہو، کیا وہاں کوئی ایک جنت ہے؟ بہت سی جنتیں ہیں اور تمہارا بیٹا جنت الفردوس میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3982]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ بدر کی جنگ میں شہید ہو گئے جبکہ وہ کم عمر ہی تھے تو ان کی والدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی۔ اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرتی ہوں اور ثواب کی امید رکھتی ہوں۔ اگر کوئی اور صورت ہے تو آپ دیکھیں گے میں کیا کرتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تم پر رحم کرے! کیا دیوانی ہو رہی ہو؟ وہاں کوئی ایک جنت ہے؟ وہاں تو بہت ہی جنتیں ہیں اور تمہارا بیٹا جنت الفردوس میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3982]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2808
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَاتِلُ وَأُسْلِمُ، قَالَ:" أَسْلِمْ، ثُمَّ قَاتِلْ فَأَسْلَمَ، ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَمِلَ قَلِيلًا، وَأُجِرَ كَثِيرًا".
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شبابہ بن سوار فزاری نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب زرہ پہنے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں پہلے جنگ میں شریک ہو جاؤں یا پہلے اسلام لاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اسلام لاؤ پھر جنگ میں شریک ہونا۔ چنانچہ وہ پہلے اسلام لائے اور اس کے بعد جنگ میں شہید ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کم کیا لیکن اجر بہت پایا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 2808]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جو زرہ پہنے ہوئے تھا۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں پہلے جنگ لڑوں یا اسلام لے آؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اسلام لاؤ، پھر جنگ لڑو۔ چنانچہ وہ پہلے اسلام لے آیا اور اس کے بعد جنگ میں شریک ہوا، پھر شہید ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے عمل تھوڑا کیا مگر اجر زیادہ پایا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 2808]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2809
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أُمَّ الرُّبَيِّعِ بِنْتَ الْبَرَاءِ وَهِيَ أُمُّ حَارِثَةَ بْنِ سُرَاقَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَلَا تُحَدِّثُنِي عَنْ حَارِثَةَ وَكَانَ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ اجْتَهَدْتُ عَلَيْهِ فِي الْبُكَاءِ، قَالَ: يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى".
ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حسین بن محمد ابواحمد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا قتادہ سے ‘ ان سے انس بن مالک نے بیان کیا کہ ام الربیع بنت براء رضی اللہ عنہا جو حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا، اے اللہ کے نبی! حارثہ کے بارے میں بھی آپ مجھے کچھ بتائیں۔ حارثہ رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے ‘ انہیں نامعلوم سمت سے ایک تیر آ کر لگا تھا۔ کہ اگر وہ جنت میں ہے تو صبر کر لوں اور اگر کہیں اور ہے تو اس کے لیے روؤں دھوؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت کے بہت سے درجے ہیں اور تمہارے بیٹے کو فردوس اعلیٰ میں جگہ ملی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 2809]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام ربیع رضی اللہ عنہا جو براء کی بیٹی اور حضرت حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کرنے لگیں: اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے حارثہ رضی اللہ عنہ کے متعلق نہیں بتائیں گے؟ وہ غزوہ بدر میں اچانک تیر لگنے سے شہید ہو گیا تھا۔ اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں، اگر کوئی دوسری بات ہے تو اس پر جی بھر کر رو لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام حارثہ رضی اللہ عنہا! جنت میں تو درجہ بدرجہ کئی باغ ہیں اور تیرا بیٹا فردوسِ اعلیٰ میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 2809]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6550
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: أُصِيبَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ غُلَامٌ فَجَاءَتْ أُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: قَدْ عَرَفْتَ مَنْزِلَةَ حَارِثَةَ مِنِّي فَإِنْ يَكُ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرْ وَأَحْتَسِبْ، وَإِنْ تَكُنْ الْأُخْرَى تَرَى مَا أَصْنَعُ، فَقَالَ:" وَيْحَكِ أَوَهَبِلْتِ أَوَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ؟ هِيَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّهُ لَفِي جَنَّةِ الْفِرْدَوْسِ".
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق ابراہیم بن محمد نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شہید ہو گئے۔ وہ اس وقت نوعمر تھے تو ان کی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے کہ حارثہ سے مجھے کتنی محبت تھی، (آپ مجھے بتائیں) اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کر لوں گی اور صبر پر ثواب کی امیدوار رہوں گی اور اگر کوئی اور بات ہے تو آپ دیکھیں گے کہ میں اس کے لیے کیا کرتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس کیا تم پاگل ہو گئی ہو؟ جنت ایک ہی نہیں ہے، بہت سی جنتیں ہیں اور وہ (حارثہ) جنت الفردوس میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 6550]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں شہید ہو گئے جبکہ وہ اس وقت نو عمر تھے تو ان کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ حارثہ سے مجھے کتنی محبت تھی، اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرتی ہوں اور اس صبر پر ثواب کی امیدوار ہوں اور اگر کوئی دوسری بات ہے تو آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس! کیا تم پاگل ہو گئی ہو؟ کیا جنت ایک ہی ہے؟ وہاں تو بہت سی جنتیں ہیں اور وہ «الْفِرْدَوْسُ» جنت الفردوس میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 6550]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6567
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ حَارِثَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ هَلَكَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ، أَصَابَهُ غَرْبُ سَهْمٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنْ قَلْبِي، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ لَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ، وَإِلَّا سَوْفَ تَرَى مَا أَصْنَعُ، فَقَالَ لَهَا:" هَبِلْتِ أَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ، إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ حارثہ بن سراقہ بن حارث رضی اللہ عنہ کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ حارثہ بدر کی لڑائی میں ایک نامعلوم تیر لگ جانے کی وجہ سے شہید ہو گئے تھے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے کہ حارثہ سے مجھے کتنی محبت تھی، اگر وہ جنت میں ہے تو اس پر میں نہیں روؤں گی، ورنہ آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بیوقوف ہوئی ہو، کیا کوئی جنت ایک ہی ہے، جنتیں تو بہت سی ہیں اور حارثہ فردوس اعلیٰ (جنت کے اونچے درجے) میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 6567]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام حارثہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں جبکہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں ایک نامعلوم طرف سے تیر لگنے کی وجہ سے شہید ہو چکے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ حارثہ رضی اللہ عنہ سے مجھے کس قدر محبت تھی! اگر وہ جنت میں ہے تو میں اس پر نہیں روؤں گی، بصورت دیگر آپ دیکھیں گے کہ میں کس قدر اس پر گریہ و زاری کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بے وقوف ہے، کیا جنت ایک ہی ہے؟ وہاں تو بہت سی جنتیں ہیں اور وہ (حارثہ) تو سب سے اونچی جنت الفردوس میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 6567]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں