🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب قوله: {إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان} :
باب: آیت کی تفسیر ”شراب اور جوا اور بت اور پانسے یہ سب گندی چیزیں ہیں بلکہ یہ شیطانی کام ہیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4617
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" مَا كَانَ لَنَا خَمْرٌ غَيْرُ فَضِيخِكُمْ، هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ، فَإِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ، وَفُلَانًا، وَفُلَانًا، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: وَهَلْ بَلَغَكُمُ الْخَبَرُ؟ فَقَالُوا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، قَالُوا: أَهْرِقْ هَذِهِ الْقِلَالَ يَا أَنَسُ، قَالَ: فَمَا سَأَلُوا عَنْهَا وَلَا رَاجَعُوهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ".
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم لوگ تمہاری «فضيخ» (کھجور سے بنائی ہوئی شراب) کے سوا اور کوئی شراب استعمال نہیں کرتے تھے، یہی جس کا نام تم نے «فضيخ» رکھ رکھا ہے۔ میں کھڑا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو پلا رہا تھا اور فلاں اور فلاں کو، کہ ایک صاحب آئے اور کہا: تمہیں کچھ خبر بھی ہے؟ لوگوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ انہوں نے بتایا کہ شراب حرام قرار دی جا چکی ہے۔ فوراً ہی ان لوگوں نے کہا: انس رضی اللہ عنہ اب ان شراب کے مٹکوں کو بہا دو۔ انہوں نے بیان کیا کہ ان کی اطلاع کے بعد ان لوگوں نے اس میں سے ایک قطرہ بھی نہ مانگا اور نہ پھر اس کا استعمال کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4617]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم لوگ تمہاری تیار کردہ فضیخ نامی شراب کے علاوہ کوئی دوسری شراب استعمال نہیں کرتے تھے۔ یہ نام فضیخ تم نے خود ہی تجویز کیا ہے۔ میں کھڑا حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو شراب پلا رہا تھا اور فلاں، فلاں کو بھی، اس دوران میں ایک صاحب آئے اور انہوں نے کہا: کیا تمہیں کچھ خبر بھی ہے؟ لوگوں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: شراب کو حرام کر دیا گیا ہے۔ شراب پینے والوں نے فوراً کہا: اے انس! اب ان شراب کے مٹکوں کو بہا دو۔ انہوں نے اس آدمی کی اطلاع کے بعد ایک قطرہ بھی نہ طلب کیا اور نہ اسے استعمال ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4617]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2464
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ، وَكَانَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي، أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، قَالَ: فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: اخْرُجْ فَأَهْرِقْهَا، فَخَرَجْتُ فَهَرَقْتُهَا فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: قَدْ قُتِلَ قَوْمٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 الْآيَةَ".
ہم سے ابویحییٰ محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم کو عفان بن مسلم نے خبر دی، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے مکان میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا۔ ان دنوں کھجور ہی کی شراب پیا کرتے تھے۔ (پھر جونہی شراب کی حرمت پر آیت قرآنی اتری) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی سے ندا کرائی کہ شراب حرام ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا (یہ سنتے ہی) ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ باہر لے جا کر اس شراب کو بہا دے۔ چنانچہ میں نے باہر نکل کر ساری شراب بہا دی۔ شراب مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی، تو بعض لوگوں نے کہا، یوں معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اس حالت میں قتل کر دیئے گئے ہیں کہ شراب ان کے پیٹ میں موجود تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا‏» وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے، ان پر ان چیزوں کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ جو پہلے کھا چکے ہیں (آخر آیت تک)۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2464]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہا تھا۔ اس وقت لوگ کھجور کی شراب استعمال کرتے تھے۔ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی (اعلان) کرنے والے کو حکم دیا کہ لوگوں میں شراب کی حرمت کا اعلان کر دے۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ باہر نکل کر تمام شراب بہا دو، چنانچہ میں نے باہر نکل کر تمام شراب بہا دی تو وہ مدینہ کی گلیوں میں بہہ نکلی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ جو لوگ اس حال میں شہید ہوئے ہیں کہ شراب ان کے پیٹوں میں تھی ان کا کیا حال ہوگا؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ جو بھی کھا پی چکے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں﴾ [سورة المائدة: 93] ۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2464]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں