🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب: {وإذ أسر النبى إلى بعض أزواجه حديثا فلما نبأت به وأظهره الله عليه عرف بعضه وأعرض عن بعض فلما نبأها به قالت من أنبأك هذا قال نبأني العليم الخبير} :
باب: آیت کی تفسیر ”اور جب نبی نے ایک بات اپنی بیوی سے فرما دی پھر جب آپ کی بیوی نے وہ بات کسی اور بیوی کو بتا دی اور اللہ نے نبی کو اس کی خبر دی تو نبی نے اس کا کچھ حصہ بتلا دیا اور کچھ سے اعراض فرمایا، پھر جب نبی نے اس بیوی کو وہ بات بتلا دی تو وہ کہنے لگیں کہ آپ کو کس نے اس کی خبر دی ہے آپ نے فرمایا کہ مجھے علم رکھنے والے اور خبر رکھنے والے اللہ نے خبر دی ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4914
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا أَتْمَمْتُ كَلَامِي حَتَّى، قَالَ:" عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، کہا میں نے عبید بن حنین سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ایک بات پوچھنے کا ارادہ کیا اور عرض کیا امیرالمؤمنین! وہ کون دو عورتیں تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے کے لیے منصوبہ بنایا تھا؟ ابھی میں نے اپنی بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ انہوں نے کہا وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4914]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک بات پوچھنے کا ارادہ کیا اور عرض کی: اے امیر المومنین! وہ دو عورتیں کون تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے کے لیے منصوبہ بنایا تھا؟ ابھی میں نے اپنی بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ انہوں نے فرمایا: وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4914]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2468
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا عَلَى أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ، قَالَ اللَّهُ لَهُمَا: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 فَحَجَجْتُ مَعَه، فَعَدَلَ، وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالْإِدَاوَةِ، فَتَبَرَّزَ حَتَّى جَاءَ، فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ، فَتَوَضَّأَ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4، فَقَالَ: وَا عَجَبِي لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ: عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ عُمَرُ الْحَدِيثَ يَسُوقُهُ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ وَجَارٌ لِي مِنْ الْأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ، وَهِيَ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ مِنْ خَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْأَمْرِ وَغَيْرِهِ، وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَهُ، وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى الْأَنْصَارِ إِذَا هُمْ قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَأْخُذْنَ مِنْ أَدَبِ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ، فَصِحْتُ عَلَى امْرَأَتِي فَرَاجَعَتْنِي فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي، فَقَالَتْ: وَلِمَ تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ، فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ليُرَاجِعْنَهُ، وَإِنَّ إِحْدَاهُنَّ لَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ، فَأَفْزَعَنِي، فَقُلْتُ: خَابَتْ مَنْ فَعَلَ مِنْهُنَّ بِعَظِيمٍ، ثُمَّ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: أَيْ حَفْصَةُ أَتُغَاضِبُ إِحْدَاكُنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: خَابَتْ وَخَسِرَتْ، أَفَتَأْمَنُ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَهْلِكِينَ، لَا تَسْتَكْثِرِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تُرَاجِعِيهِ فِي شَيْءٍ، وَلَا تَهْجُرِيهِ وَاسْأَلِينِي مَا بَدَا لَكِ، وَلَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكَ هِيَ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ، وَكُنَّا تَحَدَّثْنَا أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ النِّعَالَ لِغَزْوِنَا، فَنَزَلَ صَاحِبِي يَوْمَ نَوْبَتِهِ فَرَجَعَ عِشَاءً، فَضَرَبَ بابِي ضَرْبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: أَنَائِمٌ هُوَ، فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، وَقَالَ: حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ، قُلْتُ: مَا هُوَ، أَجَاءَتْ غَسَّانُ؟ قَالَ: لَا، بَلْ أَعْظَمُ مِنْهُ وَأَطْوَلُ، طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، قَالَ: قَدْ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ، كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ هَذَا يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ فَجَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، فَصَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ مَشْرُبَةً لَهُ فَاعْتَزَلَ فِيهَا، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي، قُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ، أَوَلَمْ أَكُنْ حَذَّرْتُكِ أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا أَدْرِي، هُوَ ذَا فِي الْمَشْرُبَةِ، فَخَرَجْتُ فَجِئْتُ الْمِنْبَرَ، فَإِذَا حَوْلَهُ رَهْطٌ يَبْكِي بَعْضُهُمْ، فَجَلَسْتُ مَعَهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ الْمَشْرُبَةَ الَّتِي هُوَ فِيهَا، فَقُلْتُ لِغُلَامٍ لَهُ أَسْوَدَ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، فَدَخَلَ فَكَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ: ذَكَرْتُكَ لَهُ، فَصَمَتَ، فَانْصَرَفْتُ حَتَّى جَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ الْغُلَامَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ مُنْصَرِفًا، فَإِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي، قَالَ: أَذِنَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ، قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ: طَلَّقْتَ نِسَاءَكَ؟ فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَيَّ، فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ: أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ رَأَيْتَنِي وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى قَوْمٍ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَذَكَرَهُ، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْتُ: لَوْ رَأَيْتَنِي وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: لَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ، فَتَبَسَّمَ أُخْرَى، فَجَلَسْتُ حِينَ رَأَيْتُهُ تَبَسَّمَ، ثُمَّ رَفَعْتُ بَصَرِي فِي بَيْتِهِ، فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ غَيْرَ أَهَبَةٍ ثَلَاثَةٍ، فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ فَلْيُوَسِّعْ عَلَى أُمَّتِكَ، فَإِنَّ فَارِسَ، وَالرُّومَ وُسِّعَ عَلَيْهِمْ وَأُعْطُوا الدُّنْيَا وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ، وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ: أَوَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، فَاعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ، وَكَانَ قَدْ قَالَ: مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حِينَ عَاتَبَهُ اللَّهُ، فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِنَّا أَصْبَحْنَا لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَعُدُّهَا عَدًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ وَكَانَ ذَلِكَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأُنْزِلَتْ آيَةُ التَّخْيِيرِ، فَبَدَأَ بِي أَوَّلَ امْرَأَةٍ، فَقَالَ: إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، وَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، قَالَتْ: قَدْ أَعْلَمُ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِكَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِلَى قَوْلِهِ عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29، قُلْتُ: أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ، فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ خَيَّرَ نِسَاءَهُ، فَقُلْنَ: مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے اور ان سے ابن شہاب نے کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ہمیشہ اس بات کا آروز مند رہتا تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے نام پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے (سورۃ التحریم میں) فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما‏» اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرو (تو بہتر ہے) کہ تمہارے دل بگڑ گئے ہیں۔ پھر میں ان کے ساتھ حج کو گیا۔ عمر رضی اللہ عنہ راستے سے قضائے حاجت کے لیے ہٹے تو میں بھی ان کے ساتھ (پانی کا ایک) چھاگل لے کر گیا۔ پھر وہ قضائے حاجت کے لیے چلے گئے۔ اور جب واپس آئے تو میں نے ان کے دونوں ہاتھوں پر چھاگل سے پانی ڈالا۔ اور انہوں نے وضو کیا، پھر میں نے پوچھا، یا امیرالمؤمنین! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں وہ دو خواتین کون سی ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ «إن تتوبا إلى الله‏» تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرو انہوں نے فرمایا، ابن عباس! تم پر حیرت ہے۔ وہ تو عائشہ اور حفصہ (رضی اللہ عنہا) ہیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہو کر پورا واقعہ بیان کرنے لگے۔ آپ نے بتلایا کہ بنوامیہ بن زید کے قبیلے میں جو مدینہ سے ملا ہوا تھا۔ میں اپنے ایک انصاری پڑوسی کے ساتھ رہتا تھا۔ ہم دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کی باری مقرر کر رکھی تھی۔ ایک دن وہ حاضر ہوتے اور ایک دن میں۔ جب میں حاضری دیتا تو اس دن کی تمام خبریں وغیرہ لاتا۔ (اور ان کو سناتا) اور جب وہ حاضر ہوتے تو وہ بھی اسی طرح کرتے۔ ہم قریش کے لوگ (مکہ میں) اپنی عورتوں پر غالب رہا کرتے تھے۔ لیکن جب ہم (ہجرت کر کے) انصار کے یہاں آئے تو انہیں دیکھا کہ ان کی عورتیں خود ان پر غالب تھیں۔ ہماری عورتوں نے بھی ان کا طریقہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔ میں نے ایک دن اپنی بیوی کو ڈانٹا تو انہوں نے بھی اس کا جواب دیا۔ ان کا یہ جواب مجھے ناگوار معلوم ہوا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ میں اگر جواب دیتی ہوں تو تمہیں ناگواری کیوں ہوتی ہے۔ قسم اللہ کی! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تک آپ کو جواب دے دیتی ہیں اور بعض بیویاں تو آپ سے پورے دن اور پوری رات خفا رہتی ہیں۔ اس بات سے میں بہت گھبرایا اور میں نے کہا کہ ان میں سے جس نے بھی ایسا کیا ہو گا وہ بہت بڑے نقصان اور خسارے میں ہے۔ اس کے بعد میں نے کپڑے پہنے اور حفصہ رضی اللہ عنہا (عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ام المؤمنین) کے پاس پہنچا اور کہا اے حفصہ! کیا تم میں سے کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پورے دن رات تک ناراض رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں! میں بول اٹھا کہ پھر تو وہ تباہی اور نقصان میں رہیں۔ کیا تمہیں اس سے امن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی کی وجہ سے (تم پر) غصہ ہو جائے اور تم ہلاک ہو جاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ چیزوں کا مطالبہ ہرگز نہ کیا کرو، نہ کسی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات کا جواب دو اور نہ آپ پر خفگی کا اظہار ہونے دو، البتہ جس چیز کی تمہیں ضرورت ہو، وہ مجھ سے مانگ لیا کرو، کسی خود فریبی میں مبتلا نہ رہنا، تمہاری یہ پڑوسن تم سے زیادہ جمیل اور نظیف ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پیاری بھی ہیں۔ آپ کی مراد عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، ان دنوں یہ چرچا ہو رہا تھا کہ غسان کے فوجی ہم سے لڑنے کے لیے گھوڑوں کو سم لگا رہے ہیں۔ میرے پڑوسی ایک دن اپنی باری پر مدینہ گئے ہوئے تھے۔ پھر عشاء کے وقت واپس لوٹے۔ آ کر میرا دروازہ انہوں نے بڑی زور سے کھٹکھٹایا، اور کہا کیا آپ سو گئے ہیں؟ میں بہت گھبرایا ہوا باہر آیا انہوں نے کہا کہ ایک بہت بڑا حادثہ پیش آ گیا ہے۔ میں نے پوچھا کیا ہوا؟ کیا غسان کا لشکر آ گیا؟ انہوں نے کہا بلکہ اس سے بھی بڑا اور سنگین حادثہ، وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، حفصہ تو تباہ و برباد ہو گئی۔ مجھے تو پہلے ہی کھٹکا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے (عمر رضی اللہ عنہ نے کہا) پھر میں نے کپڑے پہنے۔ صبح کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی (نماز پڑھتے ہی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں تشریف لے گئے اور وہیں تنہائی اختیار کر لی۔ میں حفصہ کے یہاں گیا، دیکھا تو وہ رو رہی تھیں، میں نے کہا، رو کیوں رہی ہو؟ کیا پہلے ہی میں نے تمہیں نہیں کہہ دیا تھا؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سب کو طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانہ میں تشریف رکھتے ہیں۔ پھر میں باہر نکلا اور منبر کے پاس آیا۔ وہاں کچھ لوگ موجود تھے اور بعض رو بھی رہے تھے۔ تھوڑی دیر تو میں ان کے ساتھ بیٹھا رہا۔ لیکن مجھ پر رنج کا غلبہ ہوا، اور میں بالاخانے کے پاس پہنچا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سیاہ غلام سے کہا، (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو) کہ عمر اجازت چاہتا ہے۔ وہ غلام اندر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر کے واپس آیا اور کہا کہ میں نے آپ کی بات پہنچا دی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، چنانچہ میں واپس آ کر انہیں لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے۔ پھر مجھ پر رنج غالب آیا اور میں دوبارہ آیا۔ لیکن اس دفعہ بھی وہی ہوا۔ پھر آ کر انہیں لوگوں میں بیٹھ گیا جو منبر کے پاس تھے۔ لیکن اس مرتبہ پھر مجھ سے نہیں رہا گیا اور میں نے غلام سے آ کر کہا، کہ عمر کے لیے اجازت چاہو۔ لیکن بات جوں کی توں رہی۔ جب میں واپس ہو رہا تھا کہ غلام نے مجھ کو پکارا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ جس پر کوئی بستر بھی نہیں تھا۔ اس لیے چٹائی کے ابھرے ہوئے حصوں کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں پڑ گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک ایسے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے جس کے اندر کھجور کی چھال بھری گئی تھی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کھڑے ہی کھڑے عرض کی، کہ کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ میری طرف کر کے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے آپ کے غم کو ہلکا کرنے کی کوشش کی اور کہنے لگا .... اب بھی میں کھڑا ہی تھا .... یا رسول اللہ! آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم قریش کے لوگ اپنی بیویوں پر غالب رہتے تھے، لیکن جب ہم ایک ایسی قوم میں آ گئے جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے تفصیل ذکر کی۔ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ پھر میں نے کہا میں حفصہ کے یہاں بھی گیا تھا اور اس سے کہہ آیا تھا کہ کہیں کسی خود فریبی میں نہ مبتلا رہنا۔ یہ تمہاری پڑوسن تم سے زیادہ خوبصورت اور پاک ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب بھی ہیں۔ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ اس بات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسکرا دیئے۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے دیکھا، تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) بیٹھ گیا۔ اور آپ کے گھر میں چاروں طرف دیکھنے لگا۔ بخدا! سوائے تین کھالوں کے اور کوئی چیز وہاں نظر نہ آئی۔ میں نے کہا۔ یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ آپ کی امت کو کشادگی عطا فرما دے۔ فارس اور روم کے لوگ تو پوری فراخی کے ساتھ رہتے ہیں۔ دنیا انہیں خوب ملی ہوئی ہے۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے خطاب کے بیٹے! کیا تمہیں ابھی کچھ شبہ ہے؟ (تو دنیا کی دولت کو اچھی سمجھتا ہے) یہ تو ایسے لوگ ہیں کہ ان کے اچھے اعمال (جو وہ معاملات کی حد تک کرتے ہیں ان کی جزا) اسی دنیا میں ان کو دے دی گئی ہے۔ (یہ سن کر) میں بول اٹھا۔ یا رسول اللہ! میرے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کیجئے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی ازواج سے) اس بات پر علیحدگی اختیار کر لی تھی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حفصہ رضی اللہ عنہ نے پوشیدہ بات کہہ دی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انتہائی خفگی کی وجہ سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تھی، فرمایا تھا کہ میں اب ان کے پاس ایک مہینے تک نہیں جاؤں گا۔ اور یہی موقعہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو متنبہ کیا تھا۔ پھر جب انتیس دن گزر گئے تو آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور انہیں کے یہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ نے تو عہد کیا تھا کہ ہمارے یہاں ایک مہینے تک نہیں تشریف لائیں گے۔ اور آج ابھی انتیسویں کی صبح ہے۔ میں تو دن گن رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ مہینہ انتیس دن کا ہے اور وہ مہینہ انتیس ہی دن کا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر وہ آیت نازل ہوئی جس میں (ازواج النبی کو) اختیار دیا گیا تھا۔ اس کی بھی ابتداء آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ ہی سے کی اور فرمایا کہ میں تم سے ایک بات کہتا ہوں، اور یہ ضروری نہیں کہ جواب فوراً دو، بلکہ اپنے والدین سے بھی مشورہ کر لو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آپ کو یہ معلوم تھا کہ میرے ماں باپ کبھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دے سکتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو اللہ تعالیٰ کے قول عظیما تک۔ میں نے عرض کیا کیا اب اس معاملے میں بھی میں اپنے والدین سے مشورہ کرنے جاؤں گی! اس میں تو کسی شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ کہ میں اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو پسند کرتی ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری بیویوں کو بھی اختیار دیا اور انہوں نے بھی وہی جواب دیا جو عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2468]
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میری یہ خواہش رہی کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کروں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے وہ کون سی دو بیویاں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ اور رجوع کرو (تو بہتر ہے) پس تمہارے دل (حق سے) کچھ ہٹ گئے ہیں۔ واقعہ یہ ہوا کہ میں ان کے ہمراہ حج کو گیا تو وہ (قضائے حاجت کے لیے) راستے سے ایک طرف ہٹے۔ میں بھی پانی کا مشکیزہ لیے ان کے ہمراہ ہو گیا، چنانچہ جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر مشکیزے سے پانی ڈالا۔ انہوں نے وضو کیا تو میں نے عرض کیا: اے امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضوان اللہ علیہن اجمعین میں سے وہ کون سی دو عورتیں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] اگر تم توبہ کرو (تو تمہارے لیے بہتر ہے) پس تمہارے دل (حق سے) کچھ ہٹ گئے ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! تم پر تعجب ہے۔ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ پھر حضرت فاروق رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ بیان کرنا شروع کیا۔ انہوں نے فرمایا: میں اور میرا ایک انصاری ہمسایہ بنو امیہ بن زید کے محلے میں رہتے تھے، یہ قبیلہ عوالیِ مدینہ میں رہتا تھا۔ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باری باری آیا کرتے تھے۔ ایک دن وہ آتا اور دوسرے دن میں حاضر ہوتا۔ جب میں آتا تو اس دن کے جملہ احکامِ وحی اس کو بتاتا اور جب وہ آتا تو وہ بھی اسی طرح کرتا۔ قریشی لوگ عورتوں کو اپنے دباؤ میں رکھتے تھے لیکن جب ہم انصار میں آئے تو ہم نے دیکھا کہ ان کی عورتیں ان پر غالب رہتی ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی ہماری عورتیں بھی ان کے طور طریقے اختیار کرنے لگیں۔ ایک روز ایسا ہوا کہ میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے فوراً مجھے جواب دیا۔ اس کی یہ بات مجھے بری لگی تو اس نے کہا: اگر میں نے تمہاری بات کا جواب دیا ہے تو برا کیوں مناتے ہو؟ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں۔ ان میں سے کوئی ایسی بھی ہے جو دن سے لے کر رات تک آپ کو چھوڑے رہتی ہے۔ مجھے اس بات سے بہت گھبراہٹ ہوئی، میں نے دل میں کہا: ان میں سے جس نے ایسا کیا وہ عظیم خسارے میں ہے۔ پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور (اپنی بیٹی) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور اس سے کہا: حفصہ! کیا تم میں سے کوئی دن سے لے کر رات تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روٹھے رہتی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں نے کہا: وہ تو نامراد رہی اور خسارے میں پڑ گئی۔ کیا تم اس بات سے بے خوف ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کے باعث اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے تو تم تباہ ہو جاؤ؟ (دیکھو!) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نہ مانگو اور آپ کو جواب بھی نہ دیا کرو اور آپ سے خفا نہ ہوا کرو. جو ضرورت ہو وہ مجھ سے لو۔ اور یہ بات بھی تمہیں دھوکے میں نہ رکھے کہ تمہاری سوکن تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ چہیتی ہے۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو مراد لیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم دونوں آپس میں اس طرح کی باتیں بھی کیا کرتے تھے کہ غسانی لوگ ہم پر چڑھائی کرنے کے لیے گھوڑوں کی فعل بندی (جنگ کی تیاری) کر رہے ہیں۔ ہوا یوں کہ میرا ساتھی اپنی باری کے دن شہر گیا اور عشاء کے وقت لوٹا تو میرا دروازہ زور سے کھٹکھٹایا اور کہا: کیا وہ یہاں (گھر میں) ہیں؟ میں نے یہ سنا تو بہت گھبرایا اور باہر نکلا تو انہوں نے کہا: ایک بہت بڑا حادثہ ہوا ہے۔ میں نے کہا: وہ کیا؟ کیا غسان کے لوگوں نے حملہ کر دیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اس سے بھی بڑا واقعہ اور لمبی بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے کہا: حفصہ کی قسمت پھوٹ گئی۔ میں پہلے ہی خیال کرتا تھا کہ عنقریب ایسا ہو جائے گا۔ میں نے اپنے کپڑے پہنے اور نمازِ فجر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ادا کی۔ فراغت کے بعد آپ بالاخانے میں تشریف لے گئے اور وہاں تنہا بیٹھ رہے، چنانچہ میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں۔ میں نے پوچھا: کیوں رو رہی ہو؟ کیا میں نے تمہیں اس انجام سے آگاہ نہیں کیا تھا؟ کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی؟ اس نے کہا: مجھے معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بالاخانے میں تشریف رکھتے ہیں۔ میں باہر نکل کر مسجد میں منبر کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں بھی تھوڑی دیر کے لیے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ پھر وہ پریشانی مجھ پر غالب آئی جو مجھے لاحق تھی۔ میں اس بالاخانے کی طرف گیا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ وہاں میں نے آپ کے سیاہ فام غلام سے کہا: عمر کے لیے اجازت حاصل کرو۔ وہ اندر گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، پھر باہر نکلا اور کہنے لگا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارا ذکر کیا ہے لیکن آپ خاموش رہے ہیں، چنانچہ میں واپس آکر ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، پھر مجھے اس بات نے بے چین کر دیا جس کے لیے میں آیا تھا۔ میں (دوبارہ) غلام کے پاس آیا اور کہا: عمر کے لیے اجازت حاصل کرو۔ لیکن معاملہ پہلے کی طرح ہوا۔ میں پھر منبر کے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر مجھے اس بات نے بے چین کر دیا جو میرے دل میں تھی۔ میں پھر غلام کے پاس آیا اور کہا: عمر کے لیے اجازت حاصل کرو۔ پھر معاملہ پہلے کی طرح ہوا۔ جب میں واپس ہونے لگا تو غلام نے مجھے آواز دی اور کہا: تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی ہے۔ یہ سن کر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں۔ آپ کے جسم اور چٹائی کے درمیان کوئی بستر نہیں ہے۔ اور کھجور کے پتوں کے نشانات آپ کے پہلو پر نمایاں ہیں۔ آپ ایک تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں جس میں کھجور کے پتوں کا بھراؤ ہے، میں نے سلام کیا اور کھڑے ہی کھڑے عرض کیا: آپ نے ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے میری طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا: «لَا» نہیں۔ میں کھڑا کھڑا آپ کا موڈ بھانپ رہا تھا کہ کیسا ہے؟ میں نے دل بہلاوے کے طور پر کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں کو دباؤ میں رکھتے تھے اور جب ایسے لوگوں میں آئے جن کی عورتیں ان پر غالب ہیں، میرا اتنا کہنا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔ پھر میں نے عرض کیا: کاش آپ مجھے اس وقت دیکھتے جب حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور میں نے اسے کہا: تمہیں یہ بات دھوکے میں نہ رکھے کہ تمہاری سوکن تم سے زیادہ خوبصورت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے۔ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو مراد لیا تھا۔ تب بھی آپ مسکرا دیے۔ جب میں نے دیکھا کہ آپ مسکرا رہے ہیں تو میں بیٹھ گیا۔ پھر میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو اللہ کی قسم! مجھے تین کچی کھالوں کے علاوہ وہاں کوئی چیز نظر نہ آئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کی امت پر وسعت کرے کیونکہ فارس اور روم کے لوگوں پر اللہ نے فراخی کی ہے اور انہیں خوب دنیا ملی، حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: اے ابن خطاب رضی اللہ عنہ! ایسی باتیں کرتے ہو کیا تمہیں شک ہے؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی تمام لذتیں اسی دنیا کی زندگی میں دے دی گئی ہیں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے لیے استغفار فرمائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ تنہائی اس وجہ سے اختیار کیا تھا کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے راز ظاہر کر دیا تھا اور اسی سلسلے میں آپ نے عہد کیا تھا: میں ان سے ایک مہینے تک ملاقات نہیں کروں گا۔ کیونکہ آپ کو ان پر سخت غصہ آیا تھا جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی وجہ سے آپ کو عتاب فرمایا۔ پھر جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور وہاں سے از سر نو عائلی زندگی کا آغاز فرمایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا: آپ نے تو ایک مہینے تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم اٹھائی تھی، ابھی تو انتیس دن گزرے ہیں، میں انہیں شمار کرتی رہی ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ» مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اور وہ مہینہ انتیس دن کا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب آیتِ تخییر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: میں تم سے ایک بات کہہ رہا ہوں اور تم پر کوئی حرج نہیں ہوگا اگر تم جلدی نہ کرو حتی کہ تم اپنے والدین سے مشورہ کرلو۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: میں جانتی ہوں کہ میرے والدین آپ کے فراق کا کبھی مشورہ نہیں دیں گے۔ پھر آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ... أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 28-29] اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے۔۔۔ بہت بڑا (اجر تیار کر رکھا ہے۔) میں نے عرض کیا: آیا میں اس کے متعلق اپنے ماں باپ سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دارِ آخرت ہی کو پسند کرتی ہوں۔ پھر آپ نے اپنی سب بیویوں کو اختیار دیا تو سب نے وہی جواب دیا جو ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2468]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں