صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب الخمر من العنب وغيره :
باب: شراب انگور وغیرہ سے بھی بنتی ہے۔
حدیث نمبر: 5580
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" حُرِّمَتْ عَلَيْنَا الْخَمْرُ حِينَ حُرِّمَتْ وَمَا نَجِدُ يَعْنِي بِالْمَدِينَةِ خَمْرَ الْأَعْنَابِ إِلَّا قَلِيلًا، وَعَامَّةُ خَمْرِنَا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوشہاب عبدربہ بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یونس نے، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب شراب ہم پر حرام کی گئی تو مدینہ منورہ میں انگور کی شراب بہت کم ملتی تھی۔ عام استعمال کی شراب کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5580]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم پر جب شراب حرام کی گئی تو مدینہ طیبہ میں انگور کی شراب بہت کم دستیاب ہوتی تھی۔ عام استعمال کی شراب کچی اور پکی کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5580]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2464
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ، وَكَانَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي، أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، قَالَ: فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: اخْرُجْ فَأَهْرِقْهَا، فَخَرَجْتُ فَهَرَقْتُهَا فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: قَدْ قُتِلَ قَوْمٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 الْآيَةَ".
ہم سے ابویحییٰ محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم کو عفان بن مسلم نے خبر دی، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے مکان میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا۔ ان دنوں کھجور ہی کی شراب پیا کرتے تھے۔ (پھر جونہی شراب کی حرمت پر آیت قرآنی اتری) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی سے ندا کرائی کہ شراب حرام ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا (یہ سنتے ہی) ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ باہر لے جا کر اس شراب کو بہا دے۔ چنانچہ میں نے باہر نکل کر ساری شراب بہا دی۔ شراب مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی، تو بعض لوگوں نے کہا، یوں معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اس حالت میں قتل کر دیئے گئے ہیں کہ شراب ان کے پیٹ میں موجود تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا» ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے، ان پر ان چیزوں کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ جو پہلے کھا چکے ہیں (آخر آیت تک)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 2464]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہا تھا۔ اس وقت لوگ کھجور کی شراب استعمال کرتے تھے۔ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی (اعلان) کرنے والے کو حکم دیا کہ لوگوں میں شراب کی حرمت کا اعلان کر دے۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ باہر نکل کر تمام شراب بہا دو، چنانچہ میں نے باہر نکل کر تمام شراب بہا دی تو وہ مدینہ کی گلیوں میں بہہ نکلی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ جو لوگ اس حال میں شہید ہوئے ہیں کہ شراب ان کے پیٹوں میں تھی ان کا کیا حال ہوگا؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ جو بھی کھا پی چکے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں﴾ [سورة المائدة: 93] ۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 2464]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة