🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب الخمر من العنب وغيره :
باب: شراب انگور وغیرہ سے بھی بنتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5581
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَامَ عُمَرُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ" أَمَّا بَعْدُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ الْعِنَبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْعَسَلِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ان سے ابوحیان نے، کہا ہم سے عامر نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ ممبر پر کھڑے ہوئے اور کہا امابعد! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جَو اور شراب (خمر) وہ ہے جو عقل کو زائل کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5581]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی: انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جو۔ «الْخَمْرُ» (شراب) ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5581]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2619
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" رَأَى عُمَرُحُلَّةً عَلَى رَجُلٍ تُبَاعُ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَعْ هَذِهِ الْحُلَّةَ تَلْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَإِذَا جَاءَكَ الْوَفْدُ، فَقَالَ: إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا بِحُلَلٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ مِنْهَا بِحُلَّةٍ، فَقَالَ عُمَرُ: كَيْفَ أَلْبَسُهَا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ؟ قَالَ: إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا تَبِيعُهَا أَوْ تَكْسُوهَا، فَأَرْسَلَ بِهَا عُمَرُ إِلَى أَخٍ لَهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ".
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ایک شخص کے یہاں ایک ریشمی جوڑا فروخت ہو رہا ہے۔ تو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ یہ جوڑا خرید لیجئیے تاکہ جمعہ کے دن اور جب کوئی وفد آئے تو آپ اسے پہنا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے ریشمی جوڑے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اسے کس طرح پہن سکتا ہوں جب کہ آپ خود ہی اس کے متعلق جو کچھ ارشاد فرمانا تھا، فرما چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا بلکہ اس لیے دیا کہ تم اسے بیچ دو یا کسی (غیر مسلم) کو پہنا دو۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مکے میں اپنے ایک بھائی کے گھر بھیج دیا جو ابھی اسلام نہیں لایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 2619]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو ریشمی حلہ فروخت کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ اس حلے کو خرید لیں تاکہ جمعے کے دن، نیز جب آپ کے پاس وفد آئے تو اسے زیب تن فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا لباس وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ پھر (ایسا ہوا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قسم کے چند حلے لائے گئے تو آپ نے ان میں سے ایک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اس کو کیونکر پہن سکتا ہوں جبکہ آپ نے اس کے متعلق جو کچھ فرمانا تھا، فرما چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا بلکہ تم اسے فروخت کر کے اس کی قیمت اپنے کام میں لاؤ یا کسی اور کو پہنا دو۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ اپنے ایک بھائی کو بھیج دیا جو مکہ میں رہتا تھا اور ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 2619]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں