🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب رحمة الولد وتقبيله ومعانقته:
باب: بچے کے ساتھ رحم و شفقت کرنا، اسے بوسہ دینا اور گلے سے لگانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5994
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، قَالَ: كُنْتُ شَاهِدًا لِابْنِ عُمَرَ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُنِي عَنْ دم البعوض وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن یعقوب نے بیان کیا، ان سے ابونعیم نے بیان کیا کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا ان سے ایک شخص نے (حالت احرام میں) مچھر کے مارنے کے متعلق پوچھا (کہ اس کا کیا کفارہ ہو گا) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا کہ تم کہاں کے ہو؟ اس نے بتایا کہ عراق کا، فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو، (مچھر کی جان لینے کے تاوان کا مسئلہ پوچھتا ہے) حالانکہ اس کے ملک والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ کو (بےتکلف قتل کر ڈالا) میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہ دونوں (حسن اور حسین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5994]
ابونعیم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اس وقت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا جبکہ ایک آدمی نے ان سے مچھر مارنے کے متعلق سوال کیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کہاں کے ہو؟ اس نے بتایا: عراق کا باشندہ ہوں۔ انہوں نے فرمایا: اس شخص کو دیکھو، مچھر مارنے کے متعلق سوال کرتا ہے حالانکہ ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو شہید کر ڈالا جبکہ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا» حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5994]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3753
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ , سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , وَسَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرِمِ، قَالَ شُعْبَةُ: أَحْسِبُهُ يَقْتُلُ الذُّبَابَ، فَقَالَ: أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی یعقوب نے، انہوں نے ابن ابی نعم سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا اور کسی نے ان سے محرم کے بارے میں پوچھا تھا، شعبہ نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ پوچھا تھا کہ اگر کوئی شخص (احرام کی حالت میں) مکھی مار دے تو اسے کیا کفارہ دینا پڑے گا؟ اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عراق کے لوگ مکھی کے بارے میں سوال کرتے ہیں جب کہ یہی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو قتل کر چکے ہیں، جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دونوں (نواسے حسن و حسین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 3753]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان سے کسی آدمی نے محرم کے متعلق سوال کیا کہ اگر وہ مکھی مار ڈالے تو اس پر کیا تاوان ہے؟ انہوں نے فرمایا: اہل عراق مکھی کے قتل کا مسئلہ پوچھتے ہیں جبکہ انہوں نے نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر ڈالا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے متعلق فرمایا تھا: «هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا» یہ دونوں دنیا میں میرے خوشبودار پھول ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 3753]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں