صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ رِزْقِ الْحُكَّامِ وَالْعَامِلِينِ عَلَيْهَا:
باب: حکام اور حکومت کے عاملوں کا تنخواہ لینا۔
حدیث نمبر: 7164
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ، فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَالَا، فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ.
اور زہری سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطا کرتے تھے تو میں کہتا کہ آپ اسے دے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک مرتبہ مال دیا اور میں نے کہا کہ آپ اسے ایسے شخص کو دے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے لو اور اس کے مالک بننے کے بعد اس کا صدقہ کر دو۔ یہ مال جب تمہیں اس طرح ملے کہ تم اس کے خواہشمند نہ ہو اور نہ اسے تم نے مانگا ہو تو اسے لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے نہ پڑا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7164]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ مال عطا کرتے تو میں کہتا: ”آپ یہ اسے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو“، حتیٰ کہ آپ نے مجھے ایک مرتبہ مال دیا تو میں نے کہا: ”آپ یہ مال اس شخص کو دے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے لو اور اس کا مالک بننے کے بعد اسے صدقہ کر دو۔ یہ مال جب تمہیں اس طرح ملے کہ تم اس کے خواہش مند نہ ہو اور نہ تم نے مانگا ہو تو اسے لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ ملے تو اس کے پیچھے نہ پڑا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7164]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1473
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ , يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ، فَأَقُولُ أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ: خُذْهُ إِذَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَيْءٌ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی چیز عطا فرماتے تو میں عرض کرتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے زیادہ محتاج کو دے دیجئیے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ لے لو ‘ اگر تمہیں کوئی ایسا مال ملے جس پر تمہارا خیال نہ لگا ہوا ہو اور نہ تم نے اسے مانگا ہو تو اسے قبول کر لیا کرو۔ اور جو نہ ملے تو اس کی پرواہ نہ کرو اور اس کے پیچھے نہ پڑو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 1473]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مال دیتے تو میں کہہ دیتا کہ یہ اس شخص کو دیں جو مجھ سے زیادہ حاجت مند ہو، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”لے لو، اگر بن مانگے اور بغیر انتظار کیے تمہارے پاس مال آجائے تو لے لیا کرو اور جو ایسا نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 1473]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة