🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب: {وكان عرشه على الماء} ، {وهو رب العرش العظيم} :
باب: (سورۃ ہود میں اللہ تعالیٰ کا فرمان) ”اور اس کا عرش پانی پر تھا“، ”اور وہ عرش عظیم کا رب ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7419
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ يَمِينَ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ؟، فَإِنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مَا فِي يَمِينِهِ وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْفَيْضُ، أَوِ الْقَبْضُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے اسے کوئی خرچ کم نہیں کرتا جو دن و رات وہ کرتا رہتا ہے کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب سے زمین و آسمان کو اس نے پیدا کیا ہے کتنا خرچ کر دیا ہے۔ اس سارے خرچ نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے جسے وہ اٹھاتا اور جھکاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7419]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، اس میں خرچ کرنا کسی قسم کی کمی نہیں لاتا، وہ دن رات سخاوت کرتا رہتا ہے، تمہیں کیا معلوم کہ جب سے زمین اور آسمان کو اس نے پیدا کیا ہے کتنا خرچ کر دیا ہے؟ اس سخاوت نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے دائیں ہاتھ میں ہے، اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں «الْفَيْضُ» یا «الْقَبْضُ» فیض یا قبض ہے جسے وہ اونچا اور نیچا کرتا رہتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7419]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4684
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" أَنْفِقْ، أُنْفِقْ عَلَيْكَ، وَقَالَ: يَدُ اللَّهِ مَلْأَى لَا تَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، وَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَدِهِ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَبِيَدِهِ الْمِيزَانُ، يَخْفِضُ، وَيَرْفَعُ". {اعْتَرَاكَ} افْتَعَلْتَ مِنْ عَرَوْتُهُ أَيْ أَصَبْتُهُ، وَمِنْهُ يَعْرُوهُ وَاعْتَرَانِي {آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا} أَيْ فِي مِلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ. عَنِيدٌ وَعَنُودٌ وَعَانِدٌ وَاحِدٌ، هُوَ تَأْكِيدُ التَّجَبُّرِ، {اسْتَعْمَرَكُمْ} جَعَلَكُمْ عُمَّارًا، أَعْمَرْتُهُ الدَّارَ فَهْيَ عُمْرَى جَعَلْتُهَا لَهُ. {نَكِرَهُمْ} وَأَنْكَرَهُمْ وَاسْتَنْكَرَهُمْ وَاحِدٌ {حَمِيدٌ مَجِيدٌ} كَأَنَّهُ فَعِيلٌ مِنْ مَاجِدٍ. مَحْمُودٌ مِنْ حَمِدَ. سِجِّيلٌ الشَّدِيدُ الْكَبِيرُ. سِجِّيلٌ وَسِجِّينٌ وَاللاَّمُ وَالنُّونُ أُخْتَانِ، وَقَالَ تَمِيمُ بْنُ مُقْبِلٍ: وَرَجْلَةٍ يَضْرِبُونَ الْبَيْضَ ضَاحِيَةً ** ضَرْبًا تَوَاصَى بِهِ الأَبْطَالُ سِجِّينَا.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندو! (میری راہ میں) خرچ کرو تو میں بھی تم پر خرچ کروں گا اور فرمایا، اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ رات اور دن مسلسل کے خرچ سے بھی اس میں کم نہیں ہوتا اور فرمایا تم نے دیکھا نہیں جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے، مسلسل خرچ کئے جا رہا ہے لیکن اس کے ہاتھ میں کوئی کمی نہیں ہوئی، اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے ہاتھ میں میزان عدل ہے جسے وہ جھکاتا اور اٹھاتا رہتا ہے۔ «اعتراك‏» باب «افتعال» سے ہے «عروته» سے یعنی میں نے اس کو پکڑ پایا اسی سے ہے۔ «يعروه» مضارع کا صیغہ اور «اعتراني آخذ بناصيتها‏» یعنی اس کی حکومت اور قبضہ قدرت میں ہیں۔ «عنيد»، «عنود» اور «عاند» سب کے معنی ایک ہی ہیں یعنی سرکش مخالف اور یہ «جبار» کی تاکید ہے۔ «استعمركم‏» تم کو بسایا، آباد کیا۔ عرب لوگ کہتے ہیں «أعمرته الدار فهى عمرى» یعنی یہ گھر میں نے اس کو عمر بھر کے لیے دے ڈالا۔ «نكرهم‏»، «أنكرهم» اور «استنكرهم» سب کے ایک ہی معنی ہیں۔ یعنی ان کو پردیسی سمجھا۔ «حميد»، «فعيل» کے وزن پر ہے بہ معنی «محمود» میں سراہا گیا اور «مجيد‏»، «ماجد‏.‏» کے معنی میں ہے (یعنی کرم کرنے والا)۔ «سجيل» اور «سجين» دونوں کے معنی سخت اور بڑا کے ہیں۔ «لام» اور «نون» بہنیں ہیں (ایک دوسرے سے بدلی جاتی ہیں)۔ تمیم بن مقبل شاعر کہتا ہے۔ بعضے پیدل دن دھاڑے خود پر ضرب لگاتے ہیں ایسی ضرب جس کی سختی کے لیے بڑے بڑے پہلوان اپنے شاگردوں کو وصیت کیا کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4684]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم کے بیٹے! تو خرچ کر، میں بھی تجھ پر خرچ کروں گا۔ مزید فرمایا: اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات اور دن مسلسل خرچ کرنے سے بھی اس میں کوئی کمی نہیں آتی۔ فرمایا: تم نے دیکھا نہیں کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے مسلسل خرچ کیے جا رہا ہے، اس کے باوجود جو کچھ اس کے ہاتھ میں ہے اس میں کمی نہیں آئی، اس کا عرش پانی پر تھا، اس کے ہاتھ میں میزانِ عدل ہے جسے وہ جھکاتا اور اٹھاتا ہے۔ «اعْتَرَاكَ» بابِ افتعال ہے، «عَرَوْتُهُ» سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں: میں نے اس کو مبتلائے مصیبت کیا۔ «يَعْرُوهُ» اور «اعْتَرَانِي» بھی اسی سے ہے۔ ﴿آخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ [سورة هود: 56] : تمام چلنے والوں کی چوٹی اس کے ہاتھ میں ہے، یعنی سب اس کے قبضے اور اس کی حکومت میں ہیں۔ ﴿عَنِيدٍ﴾ [سورة هود: 59] ، «عَنُودٍ» اور «عَانِدٍ» سب کے ایک ہی معنی ہیں، یعنی سرکش اور مخالف، یہ جبار کی تاکید ہے۔ ﴿وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ﴾ [سورة هود: 18] اور گواہ (فرشتے) کہیں گے، «أَشْهَادٌ» کی واحد «شَاهِدٌ» ہے جس طرح «أَصْحَابٌ» کی واحد «صَاحِبٌ» ہے۔ ﴿اسْتَعْمَرَكُمْ﴾ [سورة هود: 61] : تمہیں آباد کیا۔ عرب کہتے ہیں: «أَعْمَرْتُهُ الدَّارَ فَهِيَ عُمْرَى»، یعنی میں نے یہ گھر اس کو عمر بھر کے لیے دے دیا، یہ عمریٰ ہے، یعنی اس کے لیے ہبہ ہے۔ «نَكِرَهُمْ»، «أَنْكَرَهُمْ» اور «اسْتَنْكَرَهُمْ» کے معنی ایک ہی ہیں، یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان فرشتوں کو اجنبی خیال کیا۔ «حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ﴿حَمِيدٌ مَجِيدٌ﴾ [سورة هود: 73] ، «حَمِيدٌ» فعیل کے وزن پر ہے، بمعنی محمود، یہ حمد سے ماخوذ ہے اور «مَجِيدٌ» فعیل بمعنی فاعل ہے، اس کے معنی ہیں ماجد، یعنی کرم کرنے والا۔ «سِجِّيلٍ» ﴿سِجِّيلٍ﴾ [سورة هود: 82] اور «سِجِّينٍ» دونوں کے معنی ایک ہیں، یعنی بڑا اور سخت، لام اور نون دونوں بہنیں ہیں، (ایک دوسرے سے بدل جاتی ہیں) جیسا کہ تمیم بن مقبل شاعر نے کہا ہے: بہت سے پیدل چلنے والے چاشت کے وقت سروں پر ایسی مار مارتے ہیں کہ بہادر اور سخت آدمی اس کی وصیت کرتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4684]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7411
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَدُ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، وَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَدِهِ، وَقَالَ: عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْمِيزَانُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کی کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، اسے رات دن کی بخشش بھی کم نہیں کرتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب اس نے آسمان و زمین پیدا کئے ہیں اس نے کتنا خرچ کیا ہے اس نے بھی اس میں کوئی کمی نہیں پیدا کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور فرمایا کہ اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے، جسے وہ جھکاتا اور اٹھاتا رہتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7411]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات اور دن کا خرچ کرنا اسے کم نہیں کرتا۔ اور فرمایا: کیا تم نے دیکھا آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے اب تک وہ کتنا خرچ کر چکا ہے؟ لیکن اس (سخاوت) نے جو کچھ اس کے ہاتھ میں ہے اسے کم نہیں کیا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا عرش پانی پر تھا۔ اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے جسے وہ نیچے اور اوپر کرتا رہتا ہے (کسی کو پست کر دیتا ہے کسی کو بلند)۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7411]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں