🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
95. باب وجوب القراءة للإمام والمأموم فى الصلوات كلها فى الحضر والسفر وما يجهر فيها وما يخافت:
باب: امام اور مقتدی کے لیے قرآت کا واجب ہونا، حضر اور سفر ہر حالت میں، سری اور جہری سب نمازوں میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 755
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَعَزَلَهُ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَمَّارًا فَشَكَوْا حَتَّى ذَكَرُوا أَنَّهُ لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ، إِنَّ هَؤُلَاءِ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَا تُحْسِنُ تُصَلِّي، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: أَمَّا أَنَا وَاللَّهِ فَإِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْرِمُ عَنْهَا أُصَلِّي صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَأَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأُخِفُّ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، قَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ، فَأَرْسَلَ مَعَهُ رَجُلًا أَوْ رِجَالًا إِلَى الْكُوفَةِ فَسَأَلَ عَنْهُ أَهْلَ الْكُوفَةِ وَلَمْ يَدَعْ مَسْجِدًا إِلَّا سَأَلَ عَنْهُ وَيُثْنُونَ مَعْرُوفًا، حَتَّى دَخَلَ مَسْجِدًا لِبَنِي عَبْسٍ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ أُسَامَةُ بْنُ قَتَادَةَ يُكْنَى أَبَا سَعْدَةَ قَالَ: أَمَّا إِذْ نَشَدْتَنَا فَإِنَّ سَعْدًا كَانَ لَا يَسِيرُ بِالسَّرِيَّةِ وَلَا يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ وَلَا يَعْدِلُ فِي الْقَضِيَّةِ، قَالَ سَعْدٌ: أَمَا وَاللَّهِ لَأَدْعُوَنَّ بِثَلَاثٍ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هَذَا كَاذِبًا قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً فَأَطِلْ عُمْرَهُ وَأَطِلْ فَقْرَهُ وَعَرِّضْهُ بِالْفِتَنِ، وَكَانَ بَعْدُ إِذَا سُئِلَ يَقُولُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَفْتُونٌ أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعْدٍ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاهُ عَلَى عَيْنَيْهِ مِنَ الْكِبَرِ، وَإِنَّهُ لَيَتَعَرَّضُ لِلْجَوَارِي فِي الطُّرُقِ يَغْمِزُهُنَّ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالملک بن عمیر نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، کہا کہ اہل کوفہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے شکایت کی۔ اس لیے عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کر کے عمار رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا حاکم بنایا، تو کوفہ والوں نے سعد کے متعلق یہاں تک کہہ دیا کہ وہ تو اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھا سکتے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بلا بھیجا۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اے ابواسحاق! ان کوفہ والوں کا خیال ہے کہ تم اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے ہو۔ اس پر آپ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح نماز پڑھاتا تھا، اس میں کوتاہی نہیں کرتا عشاء کی نماز پڑھاتا تو اس کی دو پہلی رکعات میں (قرآت) لمبی کرتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے ابواسحاق! مجھ کو تم سے امید بھی یہی تھی۔ پھر آپ نے سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک یا کئی آدمیوں کو کوفہ بھیجا۔ قاصد نے ہر ہر مسجد میں جا کر ان کے متعلق پوچھا۔ سب نے آپ کی تعریف کی لیکن جب مسجد بنی عبس میں گئے۔ تو ایک شخص جس کا نام اسامہ بن قتادہ اور کنیت ابوسعدہ تھی کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ جب آپ نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے تو (سنیے کہ) سعد نہ فوج کے ساتھ خود جہاد کرتے تھے، نہ مال غنیمت کی تقسیم صحیح کرتے تھے اور نہ فیصلے میں عدل و انصاف کرتے تھے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ اللہ کی قسم میں (تمہاری اس بات پر) تین دعائیں کرتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف ریا و نمود کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمردراز کر اور اسے خوب محتاج بنا اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔ اس کے بعد (وہ شخص اس درجہ بدحال ہوا کہ) جب اس سے پوچھا جاتا تو کہتا کہ ایک بوڑھا اور پریشان حال ہوں مجھے سعد رضی اللہ عنہ کی بددعا لگ گئی۔ عبدالملک نے بیان کیا کہ میں نے اسے دیکھا اس کی بھویں بڑھاپے کی وجہ سے آنکھوں پر آ گئی تھی۔ لیکن اب بھی راستوں میں وہ لڑکیوں کو چھیڑتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 755]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ اہل کوفہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شکایت کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں معزول کر کے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو ان (کوفیوں) پر متعین کر دیا۔ الغرض ان لوگوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی بہت سی شکایتیں کیں حتیٰ کہ یہ بھی کہہ دیا کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا بھیجا اور فرمایا: اے ابواسحاق! یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم نماز اچھی طرح نہیں پڑھتے ہو۔ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھاتا تھا اور اس میں ذرہ بھر بھی کوتاہی کو روا نہیں رکھتا تھا۔ میں نمازِ عشاء پڑھاتا تو اس کی پہلی دو رکعتوں میں طویل قیام کرتا اور آخری دو رکعتوں میں تخفیف کرتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابواسحاق! تمہاری نسبت ہمارا گمان بھی یہی ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص یا چند اشخاص کو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ہمراہ کوفہ روانہ کیا (تاکہ وہ اہل کوفہ سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے متعلق شکایات کی تحقیق کریں) انہوں نے وہاں جا کر کوئی مسجد نہ چھوڑی جہاں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا حال نہ پوچھا ہو، سب لوگوں نے ان کی تعریف کی، یہاں تک کہ وہ قبیلہ عبس کی مسجد میں گئے تو وہاں ایک شخص کھڑا ہوا جس کی کنیت ابوسعدہ تھی اور اسے اسامہ بن قتادہ کہا جاتا تھا، وہ بولا: جب تم نے ہمیں قسم دلائی ہے تو (سنو!) سعد (رضی اللہ عنہ) نہ خود لشکر کے ساتھ جہاد پر جاتے تھے، نہ مال غنیمت برابر تقسیم کرتے تھے اور نہ ہی مقدمات میں انصاف سے کام لیتے تھے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا: اللہ کی قسم! میں تجھے تین بد دعائیں دیتا ہوں: «اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هَذَا كَاذِبًا، قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً، فَأَطِلْ عُمْرَهُ، وَأَطِلْ فَقْرَهُ، وَعَرِّضْهُ لِلْفِتَنِ» اے اللہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور محض دکھاوے یا شہرت کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمر دراز کر دے، اس کی فقیری بڑھا دے اور اسے فتنوں میں مبتلا کر دے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، اس کے بعد جب اس سے اس کا حال دریافت کیا جاتا تو وہ کہتا کہ میں ایک آفت رحضرت اور بڑی عمر کا بوڑھا ہوں، مجھے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی بددعا لگ گئی ہے۔ عبدالملک راوی کہتے ہیں کہ میں نے بھی اسے دیکھا تھا، بڑھاپے کی حالت میں اس کے دونوں ابرو آنکھوں پر گرنے کے باوجود وہ راستے میں چلتی چھوکریوں کو چھیڑتا اور ان پر دست درازی کرتا پھرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 755]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 758
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ سَعْدٌ:" كُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ لَا أَخْرِمُ عَنْهَا، أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ"، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے عبدالملک بن عمیر سے بیان کیا، انہوں نے جابر بن سمرہ سے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا میں ان (کوفہ والوں) کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھاتا تھا۔ ظہر اور عصر کی دونوں نمازیں، کسی قسم کا نقص ان میں نہیں چھوڑتا تھا۔ پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھ کو تم سے امید بھی یہی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 758]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اہل کوفہ کو (بعد از دوپہر) شام کی دونوں نمازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح پڑھاتا تھا، یعنی ان میں کسی قسم کی کمی نہیں کرتا تھا۔ میں پہلی دو رکعات میں دیر لگاتا اور آخری دو رکعات میں تخفیف کرتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا بھی تمہارے متعلق یہی گمان تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 758]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 770
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَر لِسَعْدٍ: لَقَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى الصَّلَاةِ، قَالَ:" أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، وَلَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَدَقْتَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَوْ ظَنِّي بِكَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے ابوعون محمد بن عبداللہ ثقفی سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن سمرہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ امیرالمؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کی شکایت کوفہ والوں نے تمام ہی باتوں میں کی ہے، یہاں تک کہ نماز میں بھی۔ انہوں نے کہا کہ میرا عمل تو یہ ہے کہ پہلی دو رکعات میں قرآت لمبی کرتا ہوں اور دوسری دو میں مختصر جس طرح میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تھی اس میں کسی قسم کی کمی نہیں کرتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سچ کہتے ہو۔ تم سے امید بھی اسی کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 770]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اہل کوفہ نے آپ کے متعلق ہر معاملہ حتیٰ کہ نماز کے متعلق بھی شکایت کی ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں پہلی دو رکعات میں طوالت اور آخری دو رکعات میں اختصار کرتا ہوں اور جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز کی اقتدا کی ہے، کبھی اس کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے سچ کہا، میرا بھی آپ کے متعلق یہی گمان تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 770]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں