صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
41. باب النهي عن قراءة القرآن في الركوع والسجود:
باب: رکوع اور سجود میں قرآن پاک پڑھنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 479 ترقیم شاملہ: -- 1074
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ، وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ، إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الْمُسْلِمُ، أَوْ تُرَى لَهُ، أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا، أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ، فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ، فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ،
سعید بن منصور، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی کہ مجھے سلیمان بن سحیم نے خبر دی، انہوں نے ابراہیم بن عبداللہ بن معبدسے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دروازے کا) پردہ اٹھایا (اس وقت) لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے۔ آپ نے فرمایا: ”لوگو! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے (کسی دوسرے کو) دکھایا جائے گا۔ خبردار رہو! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت و کبریائی بیان کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اس میں خوب دعا کرو، (یہ دعا اس) لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کر لی جائے۔“ امام مسلم کے اساتذہ میں سے ایک استاد ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کرتے ہوئے (”مجھے سلیمان نے خبر دی“ کے بجائے) سلیمان سے روایت ہے، کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1074]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کا پردہ اٹھایا اور لوگ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کے پیچھے صفوں میں کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! نبوت کی بشارتوں سے اب صرف اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں، جو خود مسلمان دیکھے گا، یا اس کے بارے میں دوسرے کو دکھایا جائے گا، خبردار! مجھے رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھنے سے روک دیا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں اپنے رب کی عظمت و کبریائی بیان کرو اور رہا سجدہ تو اس میں خوب دعا کرو، وہ اس لائق ہے کہ اس کو تمہارے حق میں قبول کر لیا جائے۔ «فَقَمِنٌ» ”لائق ہے، قابل ہے۔““ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1074]
ترقیم فوادعبدالباقی: 479
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 479 ترقیم شاملہ: -- 1075
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتْرَ، وَرَأْسُهُ مَعْصُوبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ، إِلَّا الرُّؤْيَا، يَرَاهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ، أَوْ تُرَى لَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ.
اسماعیل بن جعفر نے سلیمان سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ اٹھایا، اس مرض کے عالم میں جس میں آپ کا انتقال ہوا، آپ کا سر پٹی سے بندھا ہوا تھا، آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟“ تین بار (یہ الفاظ کہے، پھر فرمایا:) ”نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو کوئی نیک انسان خود دیکھے گا یا اس کے لیے (دوسرے کو) دکھائے جائیں گے ...“ اس کے بعد اسماعیل نے سفیان کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1075]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ اٹھایا اور مرض الموت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر پٹی سے باندھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! کیا میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین دفعہ فرمایا۔ ”(نبوت کی بشارتوں سے صرف خواب باقی رہ گئے ہیں، جسے نیک انسان دیکھے گا یا اس کے حق میں دوسرے کو دکھایا جائے گا)۔“ اس کے بعد سفیان کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1075]
ترقیم فوادعبدالباقی: 479
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة