🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1ق. باب المساجد ومواضع الصلاة
باب: مسجدوں اور نماز کی جگہوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 520 ترقیم شاملہ: -- 1161
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ: الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْمَسْجِدُ الأَقْصَى، قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ سَنَةً، وَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ، فَصَلِّ، فَهُوَ مَسْجِدٌ "، وَفِي حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ: ثُمَّ حَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ، فَصَلِّهْ، فَإِنَّهُ مَسْجِدٌ.
ابوکامل جحدری نے کہا: ہمیں عبدالواحد نے اعمش سے حدیث بیان کی، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کون سی مسجد جو زمین میں بنائی گئی پہلی ہے؟ آپ نے فرمایا: مسجد حرام۔ میں نے پوچھا: پھر کون سی؟ فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ میں نے (پھر) پوچھا: دونوں (کی تعمیر) کے مابین کتنا زمانہ تھا؟ آپ نے فرمایا: چالیس برس۔ اور جہاں بھی تمہارے لیے نماز کا وقت ہو جائے، نماز پڑھ لو، وہی (جگہ) مسجد ہے۔ ابوکامل کی حدیث میں ہے: پھر جہاں بھی تمہاری نماز کا وقت ہو جائے، اسے پڑھ لو، بلاشبہ وہی جگہ مسجد ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1161]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے پہلے روئے زمین پر کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام۔ میں نے پوچھا: پھر کون سی؟ فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ میں نے پوچھا: دونوں کی تعمیر میں کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال۔ پھر فرمایا: اب جہاں بھی تجھے نماز کا وقت آئے، نماز پڑھ لے وہی جگہ مسجد ہے۔ ابو کامل کی روایت میں ہے: پھر جہاں تمہیں نماز آ لے، اس کو پڑھ لو کیونکہ وہی جگہ مسجد ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1161]
ترقیم فوادعبدالباقی: 520
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 520 ترقیم شاملہ: -- 1162
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أَبِي الْقُرْآنَ فِي السُّدَّةِ، فَإِذَا قَرَأْتُ السَّجْدَةَ، سَجَدَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتِ، أَتَسْجُدُ فِي الطَّرِيقِ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَوَّلِ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ؟ قَالَ: الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْمَسْجِدُ الأَقْصَى، قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ عَامًا، ثُمَّ الأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ، فَحَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ، فَصَلِّ ".
علی بن مسہر نے کہا: ہمیں اعمش نے ابراہیم بن یزید تیمی سے حدیث سنائی، کہا: میں مسجد کے باہر کھلی جگہ (صحن) میں اپنے والد کو قرآن مجید سنایا کرتا تھا، جب میں (آیت) سجدہ کی تلاوت کرتا تو وہ سجدہ کر لیتے۔ میں نے ان سے پوچھا: ابا جان! کیا آپ راستے ہی میں سجدہ کر لیتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روئے زمین پر سب سے پہلی بنائی جانے والی مسجد کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام۔ میں نے عرض کی: پھر کون سی؟ آپ نے فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ میں نے پوچھا: دونوں (کی تعمیر) کے درمیان کتنا عرصہ تھا؟ آپ نے فرمایا: چالیس سال، پھر ساری زمین (ہی) تمہارے لیے مسجد ہے، جہاں بھی تمہاری نماز کا وقت آ جائے، وہیں نماز پڑھ لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1162]
حضرت ابراہیم بن یزید تیمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سدہ (مسجد کے باہر سائبان) میں اپنے والد کو قرآن مجید سنایا کرتا تھا، تو جب میں سجدہ والی آیت سناتا تو وہ سجدہ کر لیتے، میں نے ان سے پوچھا: اے ابا جان! کیا آپ راستے میں ہی سجدہ کر لیتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ میں نے پوچھا: ان دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال۔ پھر فرمایا: ساری زمین تمہارے لیے مسجد ہے، جہاں نماز کا وقت ہو جائے وہیں پڑھ لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1162]
ترقیم فوادعبدالباقی: 520
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں