صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب النهي عن البصاق في المسجد في الصلاة وغيرها:
باب: مسجد میں تھوکنے کی ممانعت نماز میں ہو یا نماز کے سوا۔
ترقیم عبدالباقی: 550 ترقیم شاملہ: -- 1228
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَن الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: مَا بَالُ أَحَدِكُمْ، يَقُومُ مُسْتَقْبِلَ رَبِّهِ فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَهُ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ، فَيُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ، فَإِذَا تَنَخَّعَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَتَنَخَّعْ عَنْ يَسَارِهِ، تَحْتَ قَدَمِهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَلْيَقُلْ هَكَذَا، وَوَصَفَ الْقَاسِمُ، فَتَفَلَ فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ مَسَحَ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ ".
ابن علیہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم بن مہران سے، انہوں نے ابورافع سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلے (کی سمت) میں بلغم دیکھا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم میں سے کسی ایک کو کیا (ہو جاتا) ہے، وہ اپنے رب کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوتا ہے، پھر اپنے سامنے بلغم پھینک دیتا ہے؟ کیا تم میں سے کسی کو یہ پسند ہے کہ اس کی طرف رخ کیا جائے، اس کے منہ کے سامنے تھوک دیا جائے؟ چنانچہ جب تم میں سے کوئی شخص کھنگار پھینکنا چاہے تو وہ اپنی بائیں جانب قدم کے نیچے پھینکے، اگر اس کی گنجائش نہ پائے تو اس طرح کر لے۔“ قاسم نے اس کی وضاحت میں اپنے کپڑے میں تھوکا، پھر اس کے ایک حصے کو دوسرے پر رگڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1228]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر تھوک دیکھا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، پھر اپنے سامنے (آگے) بلغم پھینکتا ہے؟ کیا تم میں سے کسی کو یہ پسند ہے کہ اس کے سامنے کھڑا ہو کر اس کے چہرے پر تھوک دیا جائے؟ لہٰذا جب تم میں سے کسی کو کھنکھار آئے تو وہ اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکے، اگر اس کی گنجائش نہ ہو تو ایسے کرلے۔“ قاسم نے اس کی وضاحت میں اپنے کپڑے میں تھوکا، پھر اسے آپس میں مل دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1228]
ترقیم فوادعبدالباقی: 550
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 550 ترقیم شاملہ: -- 1229
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ . ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَرُدُّ ثَوْبَهُ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ.
(ابن علیہ کے بجائے) عبدالوارث، ہشیم اور شعبہ نے قاسم بن مہران سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن علیہ کی حدیث کی طرح (روایت بیان کی۔) ہشیم کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جیسے میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کپڑے کا ایک حصہ دوسرے پر لوٹا (رگڑ) رہے ہیں۔ (اس طرح مسجد میں گندگی نہیں پھیلتی اور کپڑے کو باہر لے جا کر دھویا جا سکتا ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1229]
امام صاحب مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ ہشیم کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑے کو آپس میں ملتے دیکھ رہا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1229]
ترقیم فوادعبدالباقی: 550
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة