صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفته:
باب: نماز کے بعد کیا ذکر کرنا چاہئیے۔
ترقیم عبدالباقی: 596 ترقیم شاملہ: -- 1349
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مُعَقِّبَاتٌ، لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ، أَوْ فَاعِلُهُنَّ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً ".
مالک بن مغول نے ہمیں خبر دی، کہا: میں نے حکم بن عتیبہ سے سنا، وہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”(نماز کے یا) ایک دوسرے کے پیچھے کہے جانے والے ایسے کلمات ہیں کہ ہر فرض نماز کے بعد انہیں کہنے والا (یا ان کو ادا کرنے والا) کبھی نامراد و ناکام نہیں رہتا: تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1349]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنا کہ ”نماز کے پیچھے کہے جانے والے کلمات یہ ہیں کہ ان کو فرض نماز کے بعد کہنے والا یا ان کو بجا لانے والا (ہر فرض نماز کے بعد) نامراد و ناکام نہیں رہتا یا بلند درجات سے محروم نہیں رہتا: تینتیس بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، تینتیس بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ اور چونتیس بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1349]
ترقیم فوادعبدالباقی: 596
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 596 ترقیم شاملہ: -- 1350
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مُعَقِّبَاتٌ، لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ أَوْ فَاعِلُهُنَّ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً، فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ".
حمزہ زیات نے ہمیں حکم سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”ایک دوسرے کے بعد کہے جانے والے (کچھ) کلمات ہیں، ان کو کہنے والا (یا ادا کرنے والا) ناکام یا نامراد نہیں رہتا۔ ہر (فرض) نماز کے بعد تینتیس دفعہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1350]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے بعد کہے جانے والے کلمات یہ ہیں، ہر نماز کے بعد ان کو کہنے والا یا ان کو بجالانے والا نامراد نہیں رہتا: تینتیس دفعہ تسبیح، تینتیس مرتبہ تحمید اور چونتیس بار تکبیر۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1350]
ترقیم فوادعبدالباقی: 596
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 596 ترقیم شاملہ: -- 1351
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عمرو بن قیس ملائی نے حکم سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1351]
”امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1351]
ترقیم فوادعبدالباقی: 596
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة