🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب وقت العشاء وتاخيرها:
باب: عشاء کا وقت اور اس میں تاخیر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 638 ترقیم شاملہ: -- 1443
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَهِيَ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: " نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ: مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلَامُ فِي النَّاسِ "، زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تَنْزُرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّلَاةِ، وَذَاكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ.
عمرو بن سواد عامری اور حرملہ بن یحییٰ دونوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے خبر دی کہ انہیں ابن شہاب نے خبر دی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز خوب اندھیرا ہونے تک مؤخر فرمائی اور اسی نماز کو عتمہ (گہری تاریکی کے وقت کی نماز) کہا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس وقت تک) گھر سے نہ نکلے یہاں تک کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: (مسجد میں آنے والی) عورتیں اور بچے سو گئے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور نکل کر مسجد کے حاضرین سے فرمایا: اہل زمین میں سے تمہارے سوا اس نماز کا اور کوئی بھی انتظار نہیں کر رہا۔ اور یہ لوگوں میں (مدینہ سے باہر) اسلام پھیلنے سے پہلے کی بات ہے۔ حرملہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے مناسب نہ تھا کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے لیے اصرار کرتے۔ یہ تب ہوا جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے پکارا۔ (انہوں نے غالباً یہ سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں یا سو گئے ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1443]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کسی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز، جسے «الْعَتَمَةُ» کے نام سے پکارا جاتا ہے، کے لیے آنے میں تاخیر کر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نہ نکلے حتیٰ کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: (مسجد میں آنے والی) عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور نکل کر مسجد کے حاضرین سے فرمایا: اہل زمین سے تمہارے سوا اس نماز کا کوئی بھی منتظر نہیں ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ ابھی لوگوں میں اسلام نہیں پھیلا تھا، حرملہ نے اپنی روایات میں ابن شہاب سے یہ اضافہ بیان کیا: مجھے بتایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے روا نہ تھا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے لیے اصرار کرتے، یہ اس وقت فرمایا جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے پکارا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1443]
ترقیم فوادعبدالباقی: 638
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 638 ترقیم شاملہ: -- 1444
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الزُّهْرِيِّ، وَذُكِرَ لِي وَمَا بَعْدَهُ.
عقیل نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی لیکن اس میں زہری کا قول: «وذکر لی» (مجھے بتایا گیا) اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1444]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں زہری رحمہ اللہ کا حرملہ رحمہ اللہ والا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1444]
ترقیم فوادعبدالباقی: 638
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 638 ترقیم شاملہ: -- 1445
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كلاهما، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالُوا جَمِيعًا: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ، وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى، فَقَالَ: إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي "، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: لَوْلَا أَنَّ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي.
محمد بن بکر، حجاج بن محمد اور عبدالرزاق، سب کے الفاظ باہم ملتے جلتے ہیں۔ سب نے کہا: ابن جریج سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے مغیرہ بن حکیم نے ام کلثوم بنت ابی بکر سے خبر دی کہ انہوں نے انہیں (مغیرہ کو) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے خبر دی، انہوں نے کہا: ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر کر دی یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا اور اہل مسجد سو گئے، پھر آپ باہر تشریف لے گئے، نماز پڑھائی اور فرمایا: اگر (مجھے) یہ (ڈر) نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈالوں گا تو یہی اس کا (بہترین) وقت ہے۔ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے: اگر یہ (ڈر) نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے مشقت کا سبب بنے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1445]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات دیر کر دی، حتیٰ کہ رات کا کافی حصہ گزر گیا، حتیٰ کہ اہل مسجد سو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لا کر نماز پڑھائی اور فرمایا: یہی اس کا بہتر وقت ہے، اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا ڈر نہ ہوتا۔ اور عبدالرزاق کی حدیث میں «أَنْ أَشُقَّ» کی بجائے «أَنْ يَشُقَّ» ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1445]
ترقیم فوادعبدالباقی: 638
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں