صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
39. باب وقت العشاء وتاخيرها:
باب: عشاء کا وقت اور اس میں تاخیر کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 639 ترقیم شاملہ: -- 1446
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا وَقَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا: جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا، حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ، فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ، أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ، فَقَالَ حِينَ خَرَجَ: " إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِرُونَ صَلَاةً، مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ، وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي، لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ "، ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى ".
حکم نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک رات ہم عشاء کی آخری نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا یا اس کے (بھی) بعد آپ تشریف لائے، ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کو گھر والوں (کے معاملے) میں کسی چیز نے مشغول رکھا تھا یا کوئی اور بات، جب آپ باہر آئے تو فرمایا: ”بلاشبہ تم ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو جس کا تمہارے سوا کسی اور دین کے پیروکار انتظار نہیں کر رہے، اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے گراں ہو گا تو میں انہیں اسی گھڑی میں (یہ) نماز پڑھایا کرتا۔“ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1446]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات ہم عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں رکے رہے، تو رات کا تہائی گزرنے پر یا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، ہمیں معلوم نہیں کہ گھر کی کوئی مشغولیت تھی یا کچھ اور تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکل کر فرمایا: ”بے شک تم ایسی نماز کے انتظار میں ہو کہ کسی اور دین والے اس کے منتظر نہیں، اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے گرانی کا سبب ہو گا تو میں انہیں اسی گھڑی نماز پڑھایا کرتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے نماز کے لیے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1446]
ترقیم فوادعبدالباقی: 639
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 639 ترقیم شاملہ: -- 1447
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً فَأَخَّرَهَا، حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ اللَّيْلَةَ، يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ ".
ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے نافع نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کسی بنا پر) اس (عشاء کی نماز) سے مشغول ہو گئے، آپ نے اسے مؤخر کر دیا یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر آپ (گھر سے) نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”آج رات تمہارے سوا اہل زمین میں سے کوئی نہیں جو نماز کا انتظار کر رہا ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1447]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے مشغول ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیر کر دی، حتیٰ کہ ہم مسجد میں سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”آج رات تمہارے سوا اہل زمین سے کوئی اس نماز کا انتظار نہیں کر رہا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1447]
ترقیم فوادعبدالباقی: 639
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة