صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب الصلاة في الرحال في المطر:
باب: بارش میں گھروں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 699 ترقیم شاملہ: -- 1604
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّهُ قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: إِذَا قُلْتَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَلَا تَقُلْ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قُلْ: صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ، قَالَ: فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا ذَاكَ، فَقَالَ: أَتَعْجَبُونَ مِنْ ذَا، قَدْ فَعَلَ ذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُخْرِجَكُمْ فَتَمْشُوا فِي الطِّينِ، وَالدَّحْضِ ".
اسماعیل (ابن علیہ) نے (ابن ابی سفیان) الزیادی کے ساتھی عبدالحمید سے، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے ایک بارش والے دن اپنے موذن سے فرمایا: جب تم «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» کہہ چکو تو «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» نہ کہنا (بلکہ) «صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ» (اپنے گھروں میں نماز پڑھو) کہنا۔ کہا: لوگوں نے گویا اسے ایک غیر معروف کام سمجھا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم اس پر تعجب کر رہے ہو؟ یہ کام انہوں نے کیا جو مجھ سے بہت زیادہ بہتر تھے۔ جمعہ پڑھنا لازم ہے اور مجھے برا معلوم ہوا کہ میں تمہیں تنگی میں مبتلا کروں اور تم کیچڑ اور پھسلن میں چل کر آؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1604]
عبد اللہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ ایک بارش والے دن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے مؤذن سے فرمایا: ”جب تم «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» کہو تو «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» نہ کہنا، «صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ» کہنا۔“ لوگوں نے گویا کہ اس کو ایک نیا کام خیال کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”کیا تم اس پر تعجب کر رہے ہو؟ یہ کام انہوں نے کیا جو مجھ سے بہتر تھے، جمعہ پڑھنا لازم ہے، اور مجھے برا معلوم ہوا کہ میں تمہیں تنگی میں مبتلا کروں اور تم کیچڑ اور پھسلن میں چل کر آؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1604]
ترقیم فوادعبدالباقی: 699
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 699 ترقیم شاملہ: -- 1605
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، فِي يَوْمٍ ذِي رَدْغٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ: الْجُمُعَةَ، وَقَالَ: قَدْ فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وقَالَ أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بِنَحْوِهِ.
ابوکامل جحدری نے کہا: ہمیں حماد، یعنی ابن زید نے عبدالحمید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن حارث سے سنا، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک پھسلن والے دن ہمارے سامنے خطبہ دیا۔ آگے ابن علیہ کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی، لیکن جمعے کا نام نہیں لیا، اور کہا: یہ کام اس شخصیت نے کیا ہے جو مجھ سے بہت زیادہ بہتر تھے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ کام کیا ہے)۔ ابوکامل نے کہا: حماد نے ہم سے یہ حدیث (عبدالحمید کی بجائے) عاصم سے، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے اسی طرح روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1605]
عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کیچڑ اور گارے والے دن ہمیں خطاب فرمایا، اوپر والی حدیث کے ہم معنی روایت سنائی لیکن جمعہ کا نام نہیں لیا اور کہا: ”یہ کام اس شخصیت نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر ہے“، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1605]
ترقیم فوادعبدالباقی: 699
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 699 ترقیم شاملہ: -- 1606
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ هُوَ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَعَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، بهذا الإسناد، ولم يذكر في حديثه يعني النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوربیع عتکی زہرانی نے کہا: ہمیں حماد، یعنی ابن زید نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ایوب اور عاصم احول نے اس سند کے ساتھ حدیث سنائی، البتہ انہوں (ابوربیع) نے اپنی حدیث میں یعنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1606]
امام مسلم رحمہ اللہ نے یہ روایت اپنے دوسرے استاد سے بھی بیان کی ہے، لیکن اس میں «یَعْنِي النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم » ”یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم “ کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1606]
ترقیم فوادعبدالباقی: 699
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 699 ترقیم شاملہ: -- 1607
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ ، قَالَ: أَذَّنَ مُؤَذِّنُ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَوْمَ جُمُعَةٍ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَقَالَ: وَكَرِهْتُ أَنْ تَمْشُوا فِي الدَّحْضِ وَالزَّلَلِ.
شعبہ نے کہا: ہمیں عبدالحمید صاحب الزیادی نے حدیث سنائی، کہا: میں نے عبداللہ بن حارث سے سنا، انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے موذن نے جمعے کے روز بارش والے دن اذان دی۔ پھر ابن علیہ کی حدیث کی طرح بیان کیا، اور کہا: میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ تم پھسلن میں چل کر آؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1607]
عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ انہی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مؤذن نے (جمعہ کے دن جب بارش ہو رہی تھی) اذان دی، آگے ابن علیہ (اسماعیل) کی طرح حدیث بیان کی اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ تم کیچڑ اور پھسلن میں چل کر آؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1607]
ترقیم فوادعبدالباقی: 699
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 699 ترقیم شاملہ: -- 1608
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح. وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَمَرَ مُؤَذِّنَهُ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ، فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، وَذَكَرَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ فَعَلَهُ: مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
شعبہ اور معمر دونوں نے (اپنی اپنی سند سے روایت کرتے ہوئے) عاصم احول سے اور انہوں نے عبداللہ بن حارث سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے موذن کو حکم دیا۔ معمر کی روایت میں ہے: جمعے کے روز بارش کے دن۔ (آگے) سابقہ راویوں کی روایت کی طرح ہے۔ اور معمر کی حدیث میں یہ بھی ہے: یہ کام انہوں نے کیا جو مجھ سے بہت زیادہ بہتر ہیں، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1608]
عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے مؤذن کو حکم دیا، جیسا کہ معمر کی روایت میں ہے، جمعہ کے دن، بارش کے روز جیسا کہ دوسروں کی روایت میں ہے، اور معمر کی حدیث میں ہے کہ ”یہ کام اس شخص نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر ہے“ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1608]
ترقیم فوادعبدالباقی: 699
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 699 ترقیم شاملہ: -- 1609
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ وُهَيْبٌ: لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ، قَالَ: أَمَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ، مُؤَذِّنَهُ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
وہیب نے کہا: ہمیں ایوب نے عبداللہ بن حارث سے حدیث بیان کی۔ وہیب نے کہا: ایوب نے یہ حدیث عبداللہ بن حارث سے نہیں سنی۔ (جبکہ ابن حجر رحمہ اللہ کی تحقیق ہے کہ وہیب کی بات درست نہیں بلکہ ایوب نے یہ حدیث سنی ہے) انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جمعے کے روز بارش کے دن اپنے موذن کو حکم دیا۔ (آگے اسی طرح ہے) جس طرح دوسرے راویوں نے بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1609]
عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں اور بقول وہیب، ایوب نے یہ حدیث عبداللہ بن حارث سے نہیں سنی (اور بقول ابن حجر رحمہ اللہ سنی ہے) ”ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جمعہ کے دن، بارش کے روز اپنے مؤذن کو حکم دیا“ جیسا کہ دوسرے راویوں نے بیان کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1609]
ترقیم فوادعبدالباقی: 699
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة